رسائی کے لنکس

واشنگٹن میں پرانے موسیقاروں کی تصاویر کی نمائش

  • جولی ٹیبوہ

واشنگٹن میں پرانے موسیقاروں کی تصاویر کی نمائش

واشنگٹن میں پرانے موسیقاروں کی تصاویر کی نمائش

پاکستان کی فلم انڈسٹری ایک عرصے سے زوال کاشکارہے جس کی اہم وجوہات میں سے ایک مقامی فنکاروں اور ان کے فن کی حوصلہ افزائی نہ کرناہے ۔ ستر کی دہائی میں ان فن کاروں نےبلیوز میں اپنی ایک شناخت بنائی تھی۔اگرچہ ان میں سے اکثر کو قومی سطح پر تو شہرت حاصل نہیں ہوسکی تاہم انہیں مقامی طورپر بہت مقبولیت ملی۔ ان دنوں واشنگٹن ڈی سی میں ایک تصویری نمائش کے ذریعے ان سے عقیدت کا اظہار کیا جارہاہے۔

یہاں آپ چک براؤن کا نام لیں اور موسیقی کے دلدادہ فوراً اسے واشنگٹن ڈی سی میں جنم لینے والی افریقن امیریکن موسیقی گو گو کے خالق کے طور پر شناخت کر لیتے ہیں ۔ یہ قسم جاز، رھدم اینڈ بلیوز اور ہپ ہاپ کا ڈرمز کے ساتھ ایک امتزاج ہے ۔ گوگو 70 کی دہائی میں مقبول ہوا جس کی شناخت گلوکاروں کا ناظرین اور سامعین کو گانے کے دوران اس کا حصہ بنانے کے لیے انہیں پکارنا اوراس پر شائقین کے ردعمل کی شمولیت تھی ۔

اور یوں گوگو کی اصطلاح نے جنم لیا ۔ اب براؤن اور تقریبا ً 30 دوسرے مقامی آر اینڈ بی موسیقاروں کی تصاویر کو ایک نئی نمائش میں شامل کیا گیا ہے۔ کرس مرے اس گیلری کے مالک ہیں جس کانام ہے گوندا گیلری۔

یہاں کارلوس کے ساتھ نظر آنے والے بلیوز کے مقبول گلوکار بوبی پارکر کی تصاویر بھی رکھی گئی ہیں ۔وہ بیٹلز جیسے موسیقی کے بڑے ناموں کے لیئے ایک تحریک کا باعث بنے تھے۔

ممفس گولڈ کے نام سے شہرت حاصل کرنے والے چیسٹر کینڈل کا کہنا ہے کہ موسیقی ان کے خون میں دوڑتی ہے ۔ وہ جیمز براؤن جیسے مقبول گلوکاروں کے ساتھ پرفارم کرچکے ہیں ۔

کیمرہ مین فرنینڈو سینڈوویل نے یہ تصاویر اس وقت لیں جب بلیک میجک اور مسٹر لی جیسے آر اینڈ بی کے ساتھ ان کے تعلقات میں گہرائی آرہی تھی۔

گیلری کے مالک کرس مرے کے مطابق ان فنکاروں کو بین الاقوامی شائقین کے سامنے پیش کرکے انہیں بہت خوشی ہوئی ہے۔

اور جب تک شائقین سننے کے لیئے آتے رہیں گے گوگو سٹار چک براؤن جیسے موسیقار اپنے فن کا مظاہرہ کرتے رہیں گے ۔

XS
SM
MD
LG