رسائی کے لنکس

ریپبلیکن امیدوار کی فتح سے واشنگٹن میں ہلچل

  • جم میلون

ریاست میسا چوسٹس میں سینیٹ کے خصوصی انتخاب میں ریپبلیکن امید وار کی فتح نے واشنگٹن میں ہلچل مچا دی ہے ۔ یہ وہ نشست ہے جو سینیٹرٹیڈ کینیڈی کے انتقال سے خالی ہوئی تھی ۔ اب اسے ریپبلیکن سکاٹ براؤن نے غیر متوقع طور پر جیت لیا ہے ۔اس فتح سے ملک بھر میں ریپبلیکنز میں جوش و خروش پیدا ہو گیا ہے اور صدر باراک اوباما کا داخلی ایجنڈا خطرے میں پڑ گیا ہے ۔

چند ہفتے قبل تک ریاست میسا چوسٹس کے باہر بہت کم لوگوں نے اسکاٹ براؤن کا نام سنا تھا ۔ ڈیموکریٹ مارتھا کواکلے کی شکست کا تصور بھی محال تھا لیکن براؤن اپنی غیر متوقع فتح کے بعد ریپبلیکنز کے لیے امید کی علامت بن کر ابھرے ہیں۔ براؤن نے صدر اوباما اور کانگریس میں ڈیموکریٹک لیڈروں کے علاج معالجے کے نظام میں اصلاح کے پلان کے خلاف زور دار مہم چلائی ۔ اپنی فتح کے بعد براؤن نے ڈیموکریٹس کو خبردار کیا کہ عام لوگوں میں صدر کے داخلی ایجنڈے کے بارے میں شدید ناراضگی موجود ہے ۔

براؤن کی فتح سے سینیٹ میں ڈیموکریٹک نشستوں کی تعداد 59 رہ گئی ہے جب کہ ریپبلیکنز کو قوانین کی منظوری میں غیر معینہ تاخیر کے لیے پارلیمانی حربوں کے استعمال سے روکنے کے لیے ڈیموکریٹس کو کم از کم 60 ووٹ درکار ہیں۔ اس طرح ہیلتھ کیئر میں اصلاح کے بِل کی منظوری بھی خطرے میں پڑ گئی ہے ۔ وائٹ ہاؤس میں صدر کے ترجمان رابرٹ گبس نے کہا ہے کہ صدر اوباما علاج معالجے کے نظام میں اصلاح کے عزم پر قائم ہیں۔ ان کا کہنا ہے’’صدر کے لیے علاج معالجے کے نظام میں اصلاح اب بھی ترجیح ہے ۔کل بھی، ایک سال پہلے بھی اور آج بھی وہ اسے اپنی ترجیح قرار دیتے ہیں۔‘‘
لیکن گبس نے تسلیم کیا کہ اندرونی حلقوں میں اب یہ بحث ہو رہی ہے کہ ریاست میسا چوسٹس کے انتخابی نتیجے کے بعد اب کیا لائحہ عمل اختیار کیا جائے ۔ انھوں نے کہا کہ مسٹر اوباما جانتے ہیں کہ میسا چوسٹس میں براؤن کی فتح کی وجہ ووٹروں کی ناراضگی ہے ۔ انھوں نے کہا’’معیشت اور روزگار کے مسئلے پر ان کی توجہ بدستور مرکوز رہے گی۔ میں سمجھتا ہوں کہ امریکہ کے لوگ اپنے صدر اور اپنی کانگریس سے یہی توقع رکھتے ہیں اور یقیناً ان کی توقع پوری ہوگی۔‘‘
لیکن پورے واشنگٹن میں اس بارے میں کوئی شبہ نہیں کہ براؤن کی غیر متوقع فتح سے ریپبلیکنز میں توانائی کی نئی لہر دوڑ گئی ہے ۔ ریاست ٹیکسس کے ریپبلیکن کانگریس مین Ted Poe نے اس سلسلے میں تاریخی حوالہ دیا کہ امریکی انقلاب کا آغاز ٹیکسوں کے خلاف احتجاج سے ہوا تھا جس کی ابتدا ریاست میسا چوسٹس میں ہوئی تھی۔ انھوں نے کہا کہ میسا چوسٹس کے لوگوں نے دوسری بار شاٹ فائر کیا ہے جس کی گونج ساری دنیا میں سنی گئی ہے۔ انھوں نے یہ شاٹ گولیوں سے نہیں بلکہ ووٹوں سے اور لوگوں کی زندگیوں میں حکومت کی بہت زیادہ مداخلت کے خلاف فائر کیا گیا ہے ۔
بہت سے ڈیموکریٹس خراب معیشت کو براؤن کی فتح اور رائے عامہ کے جائزوں میں صدر اوباما کی گرتی ہوئی مقبولیت کی وجہ قرار دیتے ہیں۔
ریپبلیکنز کے جوش و خروش کی ایک وجہ یہ بھیہے کہ پھیلتی ہوئی حکومت اور صدر کے ہیلتھ کیئر پلان کے خلاف ناراضگی کا اظہار ووٹروں نے میسا چوسٹس میں کیا ہے جو روایتی طور پر ڈیموکریٹک ریاست ہے ۔ لیکن مقامی ماہرین کہتے ہیں کہ براؤن کی فتح کی بنیادی وجہ خراب اقتصادی حالات ہیں۔ جیفری بیری ریاست میساچوسٹس کی Tufts یونیورسٹی میں سیاسیات کے ماہر ہیں۔ وہ کہتے ہیں’’اگرچہ صدر اوباما کے دورِ حکومت میں معیشت کی حالت بہتر ہوئی ہے لیکن یہ بہتری کافی نہیں ہے۔ ملک میں بے روزگاری اب بھی بہت زیادہ ہے ۔ لوگوں میں بہت زیادہ مایوسی اور ناراضگی موجود ہے۔‘‘
ہیلتھ کیئر کی بحث ڈیموکریٹس کی توقع سے کہیں زیادہ طول پکڑ گئی ہے اور رائے عامہ کے جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کی حمایت کرنے والے امریکیوں کی تعداد کم ہے اور مخالفت کرنے والوں کی زیادہ۔ ماہرین کہتے ہیں کہ میساچوسٹس کی شکست سے ڈیموکریٹس کو جو سبق ملا ہے وہ یہ ہے کہ صدر کو معیشت پر جلد از جلد دوبارہ توجہ دینی چاہیئے ۔
تجزیہ کار کہتے ہیں کہ مسٹر اوباما کو یہ فکر بھی ہونی چاہئیے کہ غیر جانب دار ووٹرز اب ڈیموکریٹک امیدواروں کی حمایت نہیں کر رہے ہیں۔ صدارتی انتخا ب میں غیر جانب دار ووٹرز نے ریپبلیکن جان مکین کے مقابلے میں صدر کو ترجیح دی تھی۔ لیکن آخری تین انتخابات میں یعنی اس ہفتے ریاست میساچوسٹس میں اور گذشتہ سال نیو جرسی اور ورجینیا میں گورنروں کے انتخاب میں غیر جانب دار ووٹروں کی بڑی تعداد نے ریپبلیکن امید واروں کو ووٹ دیے۔
بیشتر تجزیہ کار کہتے ہیں کہ ریپبلیکنز کو نومبر میں ایوانِ نمائندگان میں 20 سے 30 مزید نشستیں مِل جائیں گی ۔ اس طرح وہ ایوان کے کنٹرول میں ڈیموکریٹس کو چیلنج کرنے کے نزدیک آ جائیں گے ۔ ڈیموکریٹس سینیٹ میں بھی کچھ نشستیں کھونے کے لیے خود کو ذہنی طور پر تیار کر رہے ہیں۔ تاریخی اعتبار سے بر سر اقتدار صدر کی پارٹی وسط مدتی انتخابات میں امریکی کانگریس میں چند نشستیں کھو دیتی ہے ۔
XS
SM
MD
LG