رسائی کے لنکس

سوشل نیٹ ورک سے متعلق امریکی قوانین ویب دور سے پہلے کے ہیں: واشنگٹن پوسٹ


سوشل نیٹ ورک سے متعلق امریکی قوانین ویب دور سے پہلے کے ہیں: واشنگٹن پوسٹ

سوشل نیٹ ورک سے متعلق امریکی قوانین ویب دور سے پہلے کے ہیں: واشنگٹن پوسٹ

یہاں ورجینیا کی ایک وفاقی عدالت میں ایک مقدمے کی سماعت کے دوران واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق تین اہم امور زیر بحث آئے۔ وکی لیکس کے خلاف فوجداری تفتیش، آزادی اظہار اور سوشل نیٹ ورکنگ۔

اس کی وجہ حکومت کی وہ کوششیں ہیں جن کا مقصد وکی لیکس کی تفتیش میں ملوث تین افراد کے ٹویٹر اکاؤنٹس سے ذاتی معلومات حاصل کرناتھا۔ ان کے وکلاء کا یہ ا ستدلال تھا کہ آئین کے تحت ان کے سکرین پر استعمال ہونے والے نام، ڈاک کے پتوں، ٹیلی فون نمبروں، کریڈٹ کارڈ اور بینک کے کھاتوں اور انٹرنیٹ پرٹوکول کے پتوں کو تحفظ حاصل ہے۔ جب کہ وکلاء استغاثہ کا موقف تھا کہ ان معلومات کے حصول کے لیے ان کی درخواست جرائم کی تفتیش کا جانا پہچانا طریقہ ہے۔

اخبار لکھتا ہے کہ دونوں طرف کے استدلال وکی لیکس کے بارے میں وسیع تر بحث کی تہہ تک جاتے ہیں۔یعنی کیا دستاویزوں کو انٹرنیٹ پر ڈالنا آزادی اظہار کے زمرے میں آتا ہےیا قومی سلامتی کی خلاف ورزی کے زمرے میں۔ یہ ان پرانے قواعد اور ضوابط کا بھی امتحان ہے کہ سوشل نیٹ ورکنگ کے اس نئے دور میں حکومت کون سے اعدادوشمار پر قبضہ کرنے کی مجاز ہے۔

ٹیوٹر استعمال کرنے والے موکلوں کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ استعمال کرنے والوں کے اعدادوشمار کی مدد سے حکومت کو وکی لیکس سے وابستہ لوگوں کا کچا چٹھا تو معلوم ہوجائے گا لیکن عملی طورپر انٹرنیٹ پر آزادی اظہار کا گلا گھونٹا جائے گا۔

وکیل نے نیٹ ورکنگ کی ان سائٹس کی طرف توجہ مبذول کرائی جن کی مدد سے مصر اور تیونس کے عوام نے حکومت بدلنے کی مہم چلائی ۔اس کا کہناتھا کہ اگر امریکی حکومت کی درخواست مان لی گئی تو پھر ایسی مہم چلانا ناممکن ہوجائے گا۔

واشنگٹن پوسٹ کہتا ہے کہ شہری آزادیوں تک رسائی حاصل کرنے کے لیے جن قوانین کاسہارا لیا جارہاہے وہ ویب دور سے قبل کے ہیں۔

XS
SM
MD
LG