رسائی کے لنکس

واشنگٹن میں ایک ہفتے میں دوسرا شدید برفانی طوفان


واشنگٹن میں ایک ہفتے میں دوسرا شدید برفانی طوفان

واشنگٹن میں ایک ہفتے میں دوسرا شدید برفانی طوفان

ایک ہفتے میں دوسرے شدید برفانی طوفان نے واشنگٹن کو ایک بار پھر ٹھپ کر کے رکھ دیا ہے، بہت سی سڑکوں پر گاڑیوں کا گزرنا ناممکن ہو گیا ہے اور ریلوے سروس زیرِ زمین سٹیشنوں تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔

محکمہٴ موسمیات نے واشنگٹن کے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ ’مہلک‘ طوفانی موسم کی وجہ سے گاڑیاں نہ چلائیں۔

تیز ہواؤں اور بھاری برف باری نے بے حد خطرناک صورتِ حال پیدا کر دی ہے اور علاقے بھر میں حدِ نظر محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ سڑکوں پر گاڑی چلانا اس قدر خطرناک ہو چکا ہے کہ بہت سی جگہوں پر برف ہٹانے والی گاڑیوں نے کام چھوڑ دیا ہے اور محکمہٴ ڈاک نے واشنگٹن اور نواحی علاقوں میں ڈاک پہنچانا بند کر دی ہے۔

توقع ہے کہ یہ تازہ ترین طوفان بدھ کی شام تک واشنگٹن سے نیویارک تک کئی علاقوں کو 15 انچ موٹی برف کہ تہہ سے ڈھک دے گا۔

واشنگٹن، نیویارک اور شکاگو کے ہوائی اڈوں میں سینکڑوں پروازیں منسوخ کر دی ہیں، جب کہ سکول اور بہت سے کاروبار بند پڑے ہیں۔

سرکاری ادارے گذشتہ جمعے کی سہ پہر سے بند ہیں، جس کی وجہ سے دس کروڑ ڈالر یومیہ سے زیادہ کا نقصان ہو رہا ہے۔ بدھ کے روز ہونے والے ایوانِ نمائندگان کی کارروائی 22 فروری تک ملتوی کر دی گئی ہے۔

صدر اوباما نے اپنا بدھ کے دن کے معمولات میں رد و بدل کیا ہے اور اپنے سٹاف کے ارکان اور وائٹ ہاؤس سے منسلک صحافیوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے گھروں ہی میں رہیں۔

آج کی برف باری کے بعد سے ممکنہ طور پر حالیہ جاڑے واشنگٹن کی تاریخ کے سب سے زیادہ برفانی جاڑے ثابت ہو سکتے ہیں۔

گذشتہ ہفتے کے روز ایک طاقت ور برفانی طوفان نے واشنگٹن کے بعض علاقوں کو ایک گز کے قریب برف سے ڈھک دیا تھا۔

منگل کے روز شہر کی زیرِ زمین ریل سروس مشکل سے بحال ہونے پائی تھی کہ اس نئے برفانی طوفان نے آ لیا۔ میری لینڈ، ورجینیا، ویسٹ ورجینیا، نیو جرسی اور ڈیلاویر ریاستوں کے ہزاروں گھروں میں بجلی نہیں ہے، اور کچھ مکانوں کی چھتیں برف کے بوجھ کے تلے دب کر گر گئی ہیں۔

XS
SM
MD
LG