رسائی کے لنکس

واشنگٹن میں خواتین کا تاریخی احتجاج


امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی نے ہفتے کے روز ہزاروں خواتین نے احتجاجی مظاہرے میں شرکت کی اور عورتوں کے حقوق اور میکسیکو کی سرحد پر دیوار کی تعمیر کے منصوبوں کے خلاف نعرے لگائے۔ مظاہرے کے قائدین کا کہنا تھا کہ دیوار بنانے سے کام نہیں چلے گا۔

وہ صدر ٹرمپ کے ان تبصروں کی جانب اشارہ کر رہی تھیں ، جو انہوں نے اپنی انتخابی مہم کے دوران غیر قانونی تارکین وطن کی آمد روکنے کے لیے امریکہ اور میکسیکو کی مشترکہ سرحد پر دیوار کھڑی کرنے سے متعلق کیے تھے۔ مسٹر ٹرمپ یہ بھی کہتے رہے کہ دیوار کی تعمیر کے اخراجات میکسیکو کی حکومت کو برداشت کرنے ہوں گے۔

مظاہرہ کرنے والی کئی خواتین نے گلابی ہیٹ پہنے ہوئے تھے اور انہوں نے بینر اٹھا رکھے تھے جن پر لکھا تھا کہ سماجی حقوق اہم ہیں اور ہماری برہمی جائز ہے۔

اس مظاہرے میں ان خواتین کی بھی ایک بڑی تعداد شریک ہوئی جن کےخاندان دوسرے ملکوں سے نقل مکانی کرنے کے بعد امریکہ میں آباد ہوچکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم تارکین وطن بننے کے بعد نظر انداز کی جانے والی قوم بننانہیں چاہتیں۔

ہزاروں خواتین مظاہروں کے لیےواشنگٹن کی معروف شاہراہ انڈی پینڈنس ایونیو پر جمع ہوئیں۔ ایک روز پہلے اس مقام سے کچھ فاصلے پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے عہدے کا حلف اٹھایا تھا۔

مظاہرے کے منتظمین کا کہنا ہے کہ احتجاج کرنے والی خواتین کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے کہ انہیں توقع ہے کہ اس احتجاج میں شامل افراد کی تعداد پانچ لاکھ سے بڑھ جائے گی۔

ان کا احتجاج صدر ٹرمپ کے ان بیانات اور تبصروں کے خلاف ہے جو وہ اپنی انتخابی مہم کے دوران خواتین اور تارکین وطن اور سماجی حقوق سے منسلک معاملات کے بارے میں کرتے رہے ہیں۔

احتجاج میں شرکت کے لیے امریکہ بھر سے لوگ واشنگٹن آئے ہیں۔ عہدے داروں کا کہنا ہے کہ انہوں نے ہفتے کے روز شہر میں باہر سے آنے والی 1800 بسوں کو پارک کرنے کی اجازت دی ہےجس کا مطلب یہ ہے کہ صرف بسوں پر آنے والے افراد کی تعداد ایک لاکھ سے زیادہ ہے۔

منتظمین کا کہنا ہے یہ مظاہرے صرف واشنگٹن تک ہی محدود نہیں ہیں بلکہ امریکہ کے کئی شہروں سمیت دوسرے ملکوں میں بھی کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس طرح کے 673 مظاہرے ترتیب دیے گئے ہیں جو نیویارک، سان فرانسسکو، لندن، برلن، نیروبی اور سڈنی سمیت کئی شہروں میں کیے جارہے ہیں۔

آپ کی رائے

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG