رسائی کے لنکس

صنعتی اور غیر صنعتی فضلے سے آبی حیات خطرے میں

  • زاہد محمداشتیاق

صنعتی اور غیر صنعتی فضلے سے آبی حیات خطرے میں

صنعتی اور غیر صنعتی فضلے سے آبی حیات خطرے میں

ماہرین اور ناقدین کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی مقدار میں سمندر کی طرف صنعتی فضلے کے اخراج کے باعث کراچی کے ساحلی علاقوں سے اکٹھی کی جانے والی آبی غذا جیسے مچھلی پر زہریلے اثرات مرتب ہونے سے ماہی گیری کا شعبہ متاثر ہو رہا ہے

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں روزا نہ 40 کروڑ گیلن صنعتی اور غیر صنعتی فضلہ یا غیرمفید مواد سمندر میں شامل ہو رہا ہے اور شہری انتظامیہ محدود مالی وسائل کی وجہ سے صورت حال سے نمٹنے سے قاصر ہے۔ اس بات کا انکشاف وفاقی وزیر ماحولیات حمید اللہ جان آفریدی نے قومی اسمبلی کے رواں اجلاس میں کیا۔

ماہرین اور ناقدین کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی مقدار میں سمندر کی طرف صنعتی فضلے کے اخراج کے باعث کراچی کے ساحلی علاقوں سے اکٹھی کی جانے والی آبی غذا جیسے مچھلی پر زہریلے اثرات مرتب ہونے سے ماہی گیری کا شعبہ متاثر ہو رہا ہے۔

وفاقی وزیر ماحولیات نے بتایا کہ صنعتی فضلے کے زہریلے اثرات کو زائل کرنے کے لیے چار نئے ٹریٹمنٹ پلانٹس لگانے کے لیے شہری انتظامیہ کو 13 ارب روپے درکار ہیں اور سندھ حکومت نے اس ضمن میں سات ارب روپے اکٹھے کر لیے ہیں لیکن وہ ابھی بھی اضافی مالی وسائل کی تلاش میں ہے۔ اس منصوبے کے تحت سمندر میں گرنے سے پہلے لگ بھگ 30 کروڑ گیلن فضلے کے مضر اثرات کو زائل کرنے میں مد ملے گی۔

حمید اللہ جان آفرید ی نے کہا کہ اس وقت کراچی کے کورنگی صنعتی علاقے میں اس نوعیت کا ایک بڑا پلانٹ کام کر رہا ہے جو دو کروڑ 60 لاکھ گیلن فالتو صنعتی مواد کی ٹریٹمنٹ کرسکتا ہے۔ اُنھوں نے بتایا کے اس کے علاوہ کپڑے، چمڑے ، چینی، اور کاغذ بنانے والی صنعتوں نے خوداپنے ٹریٹمنٹ پلانٹس لگا رکھے ہیں۔ وزیر ماحولیات نے بتایا کو ان کی وزارت اس حوالے سے مجموعی صورت حال کو بہتر کرنے کے لیے صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔

عالمی ادارہ برائے تحفظ ماحولیات یا ڈبلیو ڈبلیو ایف کے لیے پاکستان میں کام کرنے والے ایک اعلیٰ عہدیدار نے ڈاکٹر الطاف ابڑو نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ کراچی میں صنعتی اور غیر صنعتی فضلہ کھلے نالوں کے راستے شہرکے جن علاقوں سے ہو کر سمندر میں گرتا ہے اُس کے قریب رہنے والے افراد جلدی اور سانس کی بیماریوں میں مبتلا ہور ہے ہیں ۔ اُنھوں نے کہا کہ اس بات کا بھی احتمال موجود ہوتا ہے کہ غیر مفید مادے رس کر پینے کے پانی میں بھی مل سکتے ہیں جو مزید بیماریوں کا باعث بن سکتا ہے۔

پیر کے روز پارلیمان میں اپنی تقریر میں انھوں نے یہ اعتراف بھی کیا کہ دارالحکومت اسلام آباد کی راول جھیل کا پینے کا پانی بھی مختلف وجوہات کی بنا پر آلودہ ہو رہا ہے۔ وزیر ماحولیات نے انکشاف کیا کہ راولپنڈی کے ہزاروں خاندانوں کو راول جھیل سے پینے کا پانی فراہم کیا جا تا ہے اور ان ہسپتالوں میں آلودہ پانی پینے سے ہونے والی بیماریوں میں سو فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے لیکن متعلقہ ادارے جھیل کے پانی کو آلودہ ہونے سے روکنے کے لیے اپنی ذمہ داری قبول کرنے کو تیا ر نہیں۔

XS
SM
MD
LG