رسائی کے لنکس

زیادہ دیر ٹی وی دیکھنا زندگی کے دنوں کو کم کرسکتا ہے: تحقیق


فائل فوٹو

فائل فوٹو

جاپان کی اوساکا یونیورسٹی سے منسلک تحقیق کاروں کی ٹیم کو پتا چلا ہے کہ جتنا زیادہ وقت ٹی وی دیکھا جاتا ہے، اتنا ہی ایک شخص کے لیے پھیپھڑوں کی رگوں میں خون جمنے سے موت کا خطرہ بڑھتا ہے۔

ایک نئی تحقیق کے مطابق لوگوں کے سست معمولات زندگی مثلاً گھنٹوں ٹی وی دیکھنے کی عادت ان کی زندگی کے دنوں کو کم کرسکتی ہے۔

جاپان کی اوساکا یونیورسٹی سے منسلک تحقیق کاروں کی ٹیم کو پتا چلا ہے جتنا زیادہ وقت ٹی وی دیکھا جاتا ہے، اتنا ہی ایک شخص کے لیے پھیپھڑوں کی رگوں میں خون جمنے سے موت ہونے کا خطرہ بڑھتا ہے۔

اوساکا یونیورسٹی گریجویٹ اسکول آف میڈیسن میں صحت عامہ کے پروفیسر ڈاکٹر طورو شیرا کاوا نے کہا کہ ان دنوں آن لائن ویڈیو اسٹریمنگ اور ٹی وی پر کئی اقساط کے ڈرامے ایک ہی نشست میں دیکھنے کا رجحان مقبول ہے اور اس کی مقبولیت تیزی سے بڑھتی ہوئی عادت کی عکاسی کرتی ہے۔

تحقیق کے لیے محققین نے 86ہزار سے زائد شرکاء کو بھرتی کیا تھا جن کی عمریں 40 سے 79برس کے درمیان تھیں۔ شرکاء سے پوچھا گیا تھا کہ دو سالوں میں انھوں نے اندازاً کتنا وقت ٹی وی کے آگے گزارا تھا۔

انیس برس تک شرکاء کی نگرانی کرنے کے دوران محققین کو پتا چلا کہ 59لوگوں کی موت پھپھڑوں میں انجماد خون کے نتیجے میں واقع ہوئی تھی، اس کیفیت کو لیے طبی زبان میں 'پلمونری امبولیزم' کا نام دیا جاتا ہے۔

جریدہ سرکولیشن میں شائع ہونے والے نتائج کے مطابق ہر روز ڈھائی گھنٹے سے کم وقت کے لیے ٹی وی دیکھنے والے شرکاء کے مقابلے میں اضافی دو گھنٹے ٹی وی دیکھنے والے شرکاء کے لیے پھیپھڑوں کی رگوں میں خون جمنے کا خطرہ 40فیصد بڑھا تھا۔

مجموعی طور پر تحقیق میں شامل 70 فیصد شرکاء ڈھائی گھنٹے سے لگ بھگ پانچ گھنٹے ٹی وی دیکھنے کی عادت میں مبتلا پائے گئے۔

اور وہ لوگ جو ہر روز 5 گھنٹے یا اس سے زیادہ وقت ٹی وی دیکھتے تھے ان میں پھیپھڑوں میں خون کا لوتھڑا جمنے کے خطرے میں 5.2 یا ڈھائی گنا اضافہ ہوا تھا۔

طبی ماہرین کے مطابق غیر فعال طرز زندگی خون کے بہاؤ کو سست کرنے کا سبب بنتی ہے جس کے نتیجے میں جسم کی بڑی وریدوں عام طور پر ٹانگوں اور کمر میں خون کا لوتھڑا بن سکتا ہے کبھی کبھی خون کا یہ لوتھڑا ٹوٹ کر آزاد ہوسکتا ہے اور دوران خون کے ساتھ سفر کرسکتا ہے اور اگر یہ پھیپھڑوں کی وریدوں میں پھنس جائے تو اس سے سینے میں درد اور سانس لینے میں دشواری ہو سکتی ہے اور اگر یہ کیفیت شدید ہے تو اس سے موت واقع ہوسکتی ہے۔

میو کلینک کے مطابق جو لوگ اس کیفیت کے خطرے میں ہیں وہ سینے میں درد،کھانسی اس کے علاوہ ٹانگوں میں سوجن کی شکایت محسوس کرتے ہیں اس کے علاوہ وہ بخار اور زیادہ پسینے کے ساتھ دل کی بے ترتیب دھڑکنوں کی طبی علامات رکھتے ہیں۔

محققین نے کہا کہ اس کیفیت کے خطرے کو کم کرنے کے لیے ٹانگ کی وریدوں میں انجماد خون کی روک تھام کلید ہے اور اس کے لیے جسمانی سرگرمیاں بہترین حفاظتی اقدامات میں سے ایک ہیں اس کے علاوہ ٹانگوں کو 4 سے 6 انچ بلند رکھنا بھی ٹانگوں میں خون جمنے سے بچنے میں مدد کرسکتا ہے۔

اس سلسلے میں محققین فی الحال یہ مشورہ دینے کے قابل ہیں کہ مسلسل بیٹھنے والوں کو ہر ایک گھنٹے بعد اٹھ کر کھڑا ہو جانا چاہیئے اور چلنا چاہیئے اور خاص طور پر ٹی وی دیکھتے ہوئے ٹانگوں اور پٹھوں کو پانچ منٹ کے لیے آرام دینا ضروری ہے۔

بیماریوں کے کنٹرول اور روک تھام کے مرکز کے مطابق امریکہ میں ہرسال 6 لاکھ افراد میں انجماد خون کی ترویج پائی جاتی ہے جبکہ ایک اندازے کے مطابق ہرسال 60 ہزار لوگ اس کیفیت کے ساتھ موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG