رسائی کے لنکس

رپورٹ کے مطابق 1990ء سے 2010ء کے درمیانی عرصے میں دنیا کی دو ارب سے زائد آبادی کو پائپ لائنوں کے ذریعے، محفوظ کنوؤں اور دیگر بہتر ذرائع سے صاف پانی کی فراہمی ممکن ہوئی ہے جس کے نتیجے میں اب دنیا کی بیشتر آبادی کو پینے کا صاف پانی دستیاب ہے۔

اقوامِ متحدہ نے اعلان کیا ہے کہ دنیا میں پینے کے صاف پانی سے محروم کل افراد کی تعداد نصف حد تک کم کرنے کا 'ملینئم ڈویلپمنٹ گول' حاصل کرلیا گیا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے بچوں سے متعلق ادارے اور عالمی ادارہ صحت کی ایک مشترکہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دنیا کی 89 فی صد آبادی (یعنی لگ بھگ چھ ارب افراد) اب پینے کا پانی بہتر ذرائع سے حاصل کر رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق 1990ء سے 2010ء کے درمیانی عرصے میں دنیا کی دو ارب سے زائد آبادی کو پائپ لائنوں کے ذریعے، محفوظ کنوؤں اور دیگر بہتر ذرائع سے صاف پانی کی فراہمی ممکن ہوئی ہے جس کے نتیجے میں اب دنیا کی بیشتر آبادی کو پینے کا صاف پانی دستیاب ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حالیہ پیش رفت کے نتیجے میں اقوامِ متحدہ کی جانب سے سماجی ترقی کے طے کردہ ہزاریے اہداف میں سے کم از کم ایک ہدف 2015ء کی طے کردہ ڈیڈ لائن سے پانچ برس قبل ہی حاصل کرلیا گیا ہے۔

لیکن اس اچھی خبر کا افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ دنیا کی 11 فی صد آبادی (لگ بھگ 783 ملین افراد) اب بھی پینے کے صاف پانی سے محروم ہے۔

رپورٹ کے مطابق صاف پانی سے محروم دنیا کی کل آبادی کا 40 فی صد افریقہ کے صحارا خطے میں بستا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کے ساتھ ساتھ بعض غریب ممالک نے بھی اپنی آبادی کے بیشتر حصے کو صاف پانی کی فراہمی ممکن بنانے کی جانب حیران کن پیش رفت کی ہے۔

لیکن رپورٹ کے مطابق دنیا میں بسنے والے اربوں غریب افراد کو نکاسی آب کی بہتر سہولیات کی فراہمی کی کوششیں اب بھی طے شدہ اہداف سے بہت پیچھے ہیں۔

عالمی ادارے نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ 2015ء تک دنیا کی 75 فی صد آبادی کو نکاسی آب کی سہولیات کی فراہمی کا ہدف حاصل نہیں ہوسکے گا۔

XS
SM
MD
LG