رسائی کے لنکس

میٹھے پانی کی قلت سے عدم استحکام کا خطرہ: ماہرین

  • اسٹیو باراگونا

(فائل فوٹو)

(فائل فوٹو)

دنیا کی سلامتی کو جو سنگین ترین خطرات درپیش ہیں ان میں میٹھے پانی تک رسائی کی غیر یقینی کیفیت بھی شامل ہے۔ یہ بات اس رپورٹ میں کہی گئی ہے جو امریکہ کی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے مارچ کے شروع میں امریکی کانگریس کو دی ہے۔

دنیا کی سلامتی کو جو سنگین ترین خطرات درپیش ہیں ان میں میٹھے پانی تک رسائی کی غیر یقینی کیفیت بھی شامل ہے۔ یہ بات اس رپورٹ میں کہی گئی ہے جو امریکہ کی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے مارچ کے شروع میں امریکی کانگریس کو دی ہے۔

پانی کی قلت، آلودگی میں اضافہ، سیلاب اور آب و ہوا میں تبدیلی سے ملکوں میں اور ان کے درمیان عدم استحکام بڑھ سکتا ہے۔ لیکن آج پانی کے عالمی دن کے موقعے پر اقوامِ متحدہ نے کہا ہے کہ پانی کی قلت سے ملکوں کے درمیان تعاون اور تصادم دونوں کے امکانات پیدا ہوتے ہیں۔

بھارت اور پاکستان دونوں کے پاس نیوکلیئر ہتھیار موجود ہیں اور انکے درمیان جنگیں بھی ہو چکی ہیں۔ دونوں ملکوں کی سرحد پر لہلاتے کھیتوں کے درمیان خاردار تاروں کی باڑ کھنچی ہوئی ہے۔

لیکن ان زمینوں کو سیراب کرنے والے پانی سرحدوں کی قید سے آزاد ہیں ۔ دریائے سندھ کا طاس دونوں ملکوں میں پھیلا ہوا ہے۔ دونوں ملک آبپاشی ، پینے کے پانی اور پن بجلی کے لیے اسی پانی پر انحصار کرتے ہیں۔
لیکن دونوں ملکوں کے درمیان پانی کے تنازعات تشدد سے نہیں بلکہ 1960 کے سمجھوتے کے ذریعے پُر امن طریقے سے حل ہوئے۔

واشنگٹن کے ریسرچ گروپ سٹیمسن سینٹر میں ماحول کی سیکورٹی کے ماہر ڈیوڈ مائیکل کہتے ہیں کہ ‘‘سندھ طاس معاہدہ اس لیے تیار کیا گیا اور اس پر دستخط کیے گئے کہ فریقین کو احساس تھا کہ اس دریا کے پانی کی تقسیم پر اگر کوئی سمجھوتہ نہ ہوا تو اس کے سنگین نتائج بر آمد ہو سکتے ہیں۔’’

لیکن آنے والے برسوں میں اس دریا کے وسائل کی تقسیم کا معاملہ اور زیادہ مشکل ہو سکتا ہے۔ دونوں ملک تیزی سے ترقی کر رہے ہیں اور غذا، پانی اور توانائی کی مانگ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اور دریا کے طاس میں مزید پانی دستیاب نہیں ہے۔

ڈیوڈ کہتے ہیں کہ ایسا صرف جنوبی ایشیا میں نہیں ہو رہا ہے۔ ‘‘دنیا میں ، ہمیں ایسے بہت سے علاقوں کا پتہ چل رہا ہے جہاں پانی کے قابلِ تجدید وسائل ختم ہوتے جا رہے ہیں۔’’

جنوب مشرقی ایشیا کے دریائے میگانگ پر پن بجلی پیدا کرنے کے لیے 12 بندوں کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ ان منصوبوں سے دریا کے نیچے کے حصے میں رہنے والے ان لوگوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے جو اپنے کھیتوں اور مچھلیوں کی افزائش کے لیے اس دریا پر انحصار کرتے ہیں۔

افریقہ میں زیریں صحارا کے علاقے میں اور مشرقِ وسطیٰ میں دریاؤں کے پانی اور زیرِ زمین پانی کے ذخائر کے حقوق جنگ کا پیش خیمہ بن سکتے ہیں۔

آب و ہوا کی تبدیلی کے ساتھ بارش کا انداز تبدیل ہو جائے گا اور کچھ علاقوں میں زیادہ بارش ہونے لگے گی اور کچھ میں کم۔ پانی کے وسائل کو مختلف علاقوں میں تقسیم کرنے کے مسائل اور زیادہ شدید ہو جائیں گے ۔ لیکن بات یہاں ختم نہیں ہوتی۔

ڈیوڈ کہتے ہیں کہ ‘‘مستقبلِ قریب میں آب و ہوا کی تبدیلی اور پانی کی قلت کا دباؤ سب سے اہم مسئلہ نہیں ہے۔ آنے والے چند عشروں میں پانی کے وسائل پر سب سے زیادہ دباؤ آبادی میں اضافے سے پڑے گا۔ زیادہ آبادی کا مطلب ہے پانی کی زیادہ مانگ، بلکہ زیادہ آلودگی بھی۔’’

ڈیوڈ کہتے ہیں کہ حالات اتنے خراب ہو سکتے ہیں کہ آلودہ پانی کی مانگ بھی بڑھ جائے گی۔ ‘‘پانی کی قلت اور پانی کی ضرورت پورے کرنے کے دباؤ کی نتیجے میں لوگ آلودہ پانی استعمال کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ اس کا ایک انتہائی پریشان کن نتیجہ یہ ہوگا کہ لوگوں کی صحت متاثر ہوگی۔’’

گندے پانی سے پھیلنے والی بیماریوں کے نتیجہ میں صرف بھارت میں ہی مجموعی قومی پیداوار کا چھہ فیصد حصہ خرچ ہو جاتا ہے۔ اور آلودگی پانی کے بہاؤ کے ساتھ آگے بڑھ جاتی ہے۔

اگرچہ اس قسم کے دباؤ سے پانی کے سوال پر جنگ کا خطرہ بڑھ جاتا ہے لیکن ڈیوڈ کہتے ہیں کہ جنگیں نا گزیر نہیں ہیں۔

‘‘ملکوں کے درمیان جتنا زیادہ تعاون ہوتا ہے، دستیاب وسائل میں اتنا ہی اضافہ ہو جاتا ہے۔ اور دنیا کے ملک، وہ بھی جو آپس میں مل جل کر نہیں رہتے، اس بات کو سمجھتے ہیں۔’’

لہٰذا ڈیوڈ کہتے ہیں کہ انہیں ایسا مستقبل نظر آ رہا ہے جس میں پانی کے جھگڑوں پر جنگیں کم ہوں گی اور سمجھوتے زیادہ ہوں گے۔
XS
SM
MD
LG