رسائی کے لنکس

موسیٰ کالونی ہی وہ علاقہ ہے جہاں کے لوگ سارے شہر کے برعکس لائٹ جانے پر خوش ہوتے ہیں، جبکہ کچھی محلہ، محمدی کالونی، کیماڑی ٹاوٴن میں 30 سال سے پانی نہیں آیا۔ علاقے میں پانی 200 سے 300 روپے ’ فی گھنٹہ‘ فروخت ہوتا ہے

کراچی میں بجلی کے بعد اب پانی کا مسئلہ بھی نہایت سنگین ہوگیا ہے۔ لیاری، محمدی کالونی اور مچھر کالونی ایسی بستیاں ہیں جہاں کے باسی پچھلے 30 سالوں سے پانی کو ترس رہے ہیں، جبکہ موسیٰ کالونی کے باسیوں کا کہنا ہے کہ بل ادا کرنے کے باوجود یہاں تین ماہ سے پانی نہیں ہے۔

موسیٰ کالونی ہی وہ علاقہ ہے جہاں کے لوگ سارے شہر کے برعکس لائٹ جانے پر خوش ہوتے ہیں کیوں کہ لائٹ نہ ہونے کی وجہ سے اطرافی علاقوں کے سیکشن پمپس اور موٹرز بند ہوجاتی ہیں جس سے ان کی لائینوں میں پانی آنے لگتا ہے اور ذرا سی دیر میں سینکڑوں بچے، خواتین، نوجوان اور مرد بڑے بڑے برتن، گیلن اور پانی ذخیرہ کرنے والی دیگر اشیاء لے کرگلی کے ایک کونے پر لگے سکشن پمپ پر پہنچ جاتے ہیں۔

بسااوقات پانی کی لائنوں میں کئی کئی گھنٹے لگنا پڑتا ہے اور اس دوران اگر ’غلطی‘ سے بھی مقررہ وقت سے پہلے لائٹ آجائے تو پانی آنا بند ہوجاتا ہے یا چھٹی وغیرہ کے دن جب شہر میں کہیں لوڈ شیڈنگ نہیں ہوتی، موسیٰ کالونی کے باسی پانی دیکھنے کو بھی ترس جاتے ہیں۔

کالونی کے دیرینہ رہائشی افراد قادر، محمد آصف، سلیم اور ایک خاتون جنہوں نے اپنا نام ظاہر نہیں کیا۔ وائس آف امریکہ کے نمائندے پانی کے مسائل سے متعلق تفصیلات بتائیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے ’یہاں کا نظام سارے شہر سے الٹا ہے۔ یہاں لائٹ جاتی ہے تو پانی آتا ہے جبکہ باقی جگہ لائٹ آتی ہے تو پانی آتا ہے۔‘

خاتون نے خاصی برہمی والے انداز میں یہ بھی کہا کہ ’سیاسی لوگوں کو جب ووٹ چاہئے ہوتے ہیں تو یہاں کا رخ کرتے ہیں ورنہ ہم مریں یا زندہ رہیں کوئی آکر پوچھتا بھی نہیں۔۔ارے بھائی ہم بھی انسان ہیں۔۔ہمیں بھی تو جینے کا حق دو۔۔‘

وہ علاقے جہاں 30سالوں سے پانی نہیں آیا
شہر کے دوسرے کنارے پر واقع محمدی کالونی اور مچھر کالونی کے ایک رہائشی غلام مصطفیٰ سوڈھو نے وی او اے کو بتایا ’کچھی محلہ، محمدی کالونی، کیماڑی ٹاوٴن میں 30 سال سے پانی نہیں آیا۔ علاقے میں پانی 200 سے 300 روپے ’فی گھنٹہ‘ فروخت ہوتا ہے۔ یہ مضر صحت پانی ہے کیوں کہ جن گنی چنی پائپ لائنوں کے ذریعے پانی یہاں تک آتا ہے ان کے قریب سے ہی گڑ لائنیں گزرتی ہیں اور چونکہ دونوں ہی لائینں سالہاسال پرانی ہیں لہذا، لیکیج کی وجہ سے پانی مضر صحت ہوجاتا ہے۔‘

غلام مصطفیٰ سوڈھو مزید بتاتے ہیں، ’انہی لائنوں پر کچھ لوگوں نے موٹریں لگا کر پانی بیچنے کا دھندا جاری رکھا ہوا ہے۔ ہر گھر کو فی گھنٹہ کے حساب سے پانی ملتا ہے ۔۔خواہ اس گھنٹے میں پانی کتنا ہی کم کیوں نہ آئے ٹائم میں اضافہ صرف پیسہ ڈبل کرنے کی ہی صورت میں ملتا ہے۔‘

لوڈ شیڈنگ سے قلت آب کا مسئلہ مزید سنگین
کراچی کو بجلی فراہم کرنے والی کمپنی ’کے الیکٹرک‘ نے پمپنگ اسٹیشنز کولوڈ شیڈنگ سے ملنے والا استثناء ختم کردیا ہے کے الیکٹرک کے ترجمان احمد فراز اس کی وجہ یہ بتاتے ہیں کہ واٹر بورڈ پر کے الیکٹر ک کے 36 ارب روپے واجب الادا ہیں، لہذا جب تک یہ رقم ادا نہیں ہوتی پمپنگ اسٹیشن کا استثناء ختم نہیں ہوگا۔ اس سبب بھی پانی کی فراہم اور بحران دوگنا ہوگیا ہے۔

واٹر بورڈ کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق دو کروڑ سے زیادہ آبادی والے شہر کراچی کو ہر روز ایک ہزار گیلن پانی درکار ہوتا ہے۔ جس میں 350 ملین گیلن شارٹ فال کی مد میں گھٹ جاتا ہے۔ مرے پر سو درے کے مصداق شہر کو پانی کی فراہمی کا ایک بڑا ذریعہ حب ڈیم ہے لیکن بارشیں نہ ہونے سے ڈیم میں 100 ملین گیلن پانی کم ہوگیا ہے۔اس طرح یومیہ شارٹ فال 400سے پانچ سو ملین گیلن تک پہنچ جاتا ہے جو آبادی کے لحاظ سے دیکھیں تو بہت کم ہے۔

پانی کی کمیابی اور مانگ میں اضافے کے سبب یہاں بھی مافیا کا جنم ہوچکا ہے۔ شہر میں متعدد غیر قانونی ہائنڈرنٹس کھل گئے ہیں جہاں ایک ٹینکر 1000روپے سے بھی زیادہ قیمت میں فروخت ہوتا ہے اور اگر بجران مزید بڑھ جائے تو ریٹ بھی بڑھ جاتے ہیں۔ قابل غور بات یہ ہے کہ جب سارے شہر کو پانی کے بحران کا سامنا ہے تو ان ہائیڈرنٹس میں پانی کہاں سے آتا ہے؟

وہ سکشن پمپ جس سے پانی لائٹ جانے کے بعد آتا ہے

وہ سکشن پمپ جس سے پانی لائٹ جانے کے بعد آتا ہے

اس وقت شہر میں پانچ اہم اور بڑے پمپنگ اسٹیشنز ہیں کو گھارو، پیپری، حب اور دھابیجی میں واقع ہیں۔ انہی سے شہر بھر کو پانی سپلائی ہوتا ہے ۔ پانچ اہم اسٹیشنز کے باوجود گلستان جوہر، گلشن اقبال، لیاری، سرجانی ٹاوٴن، نیوکراچی، ڈیفنس اور کلفٹن کے باسی پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں۔ یہاں پانی کے لئے ہاہاکار مچا ہوا ہے۔

واٹر بورڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر ہاشم رضا کا کہنا ہے کہ شہر کو مجموعی طور پر 560 ملین گیلن پانی کی کمی کا سامنا ہے، جبکہ کئی کئی گھنٹے ہونے والی بجلی کی لوڈ شیڈنگ نے اس مسئلے کو سنگین سے سنگین تر کردیا ہے۔ منگل کی رات دھابیجی پمپنگ اسٹیشن پر اچانک ہونے والے بریک ڈاوٴن کے سبب 72ا نچ قطر کی پائپ لائن مکمل طور پر تباہ ہوگئی۔

ادھر وزیر بلدیات سندھ شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ وہ پانی کے بحران سے بخوبی واقف ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ نہیں بلکہ بہت جلد اس پر قابو پالیا جائے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ عوام اپنی شکایات کے فوری ازالے کے لئے فون نمبر 021پر اپنی شکایات درج کرائے۔

XS
SM
MD
LG