رسائی کے لنکس

پانی کی قلت مستقبل میں عالمی تنازعوں کا موجب بن سکتی ہے: ماہرین


پانی کی قلت مستقبل میں عالمی تنازعوں کا موجب بن سکتی ہے: ماہرین

پانی کی قلت مستقبل میں عالمی تنازعوں کا موجب بن سکتی ہے: ماہرین

پانی کی قلت مستقبل میں عالمی تنازعوں کے ایک بڑے محرک کی شکل اختیار کرتی جارہی ہے: امریکی انٹیلی جنس عہدے دار

امریکہ میں انٹیلی جنس کے عہدے داروں کا خیال ہے کہ پانی کی قلت مستقبل میں عالمی تنازعوں کے ایک بڑے محرک کی شکل اختیار کرتی جارہی ہے۔

بھارت میں امریکی سفیر ٹموتھی روئمر امریکی کانگریس کی انٹیلی جنس کمیٹی میں بارہ برس سے شامل ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ تنازعاتی امور سے متعلق رپورٹوں تک اُن کی براہِ راست رسائی ہے جِن کے بارے میں امریکی عہدے دار سمجھتے ہیں کہ وہ جنگ کی شکل اختیار کر سکتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ پانی کے مسائل اِن رپورٹوں میں 1990ء کے عشرے کے بعد اُبھر کر سامنے آئے ہیں۔

ہم نے دیکھا کہ فہرست میں القاعدہ اور ٹیکنالوجی اور پانی جیسے مسائل دسویں یا گیارہویں نمبر پر تھے جب کہ اندازوں کے بارے میں رپورٹ میں پانی اولین مسائل میں شامل تھا۔

بھارت کی آبادی ایک ارب سے زیادہ ہے اور توقع کی جارہی ہے کہ اکیسویں صدی کے وسط تک یہ چین کی آبادی سے بڑھ جائے گی۔ دونوں ملک کوہِ ہمالیہ کے سلسلے سے نکلنے والے پانی کے بڑے ذریعوں پر انحصار کرتے ہیں۔ اِن دریاؤں میں ایک دریائے برہما پترا ہے جو چینی کنٹرول والے تبت اور بھارتی صوبے اروناچل پردیش سے ہو کر گزرتا ہے۔

بھارتی عہدے دار اِس دریا پر ایک ہائیڈرو الیکٹرک ڈیم تعمیر کرنے کے چینی منصوبے کا بغور جائزہ لے رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ گذشتہ برس کے آخر میں بھارت اور چین کے درمیان ایک سربراہ کانفرنس میں بیجنگ نے یقین دہانی کروائی تھی کہ اِس سے پانی کی ترسیل متاثر نہیں ہوگی۔ مگر یہ امر تناؤ میں اضافہ کرتا ہے کہ چین اروناچل پردیش پر بھارت کی خودمختاری کو مکمل طور پر تسلیم نہیں کرتا۔ چینی نقشوں میں اِسے جنوبی تبت بتایا گیا ہے۔

بھارت کے کروڑوں باشندوں کے لیے پانی کی قلت آبادی کا نہیں بلکہ پانی کی ترسیل کے لیے زیریں ڈھانچے کی کمی اور پانی کی صفائی کا انتظام نہ ہونا ہے۔

بھارت کے وزیرِ ماحولیات جے رام رامیش کہتے ہیں کہ بھارت میں اکثریت کو حفظانِ صحت کی سہولتیں اور پانی کی ترسیل میں درپیش چیلنج کی جزوی وجہ ماحولیاتی غربت ہے جب کہ صنعتی اور تکنیکی اعتبار سے بھارت تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔

اُن کے الفاظ میں: ’بھارت کو ماحولیات پر سنجیدگی سے کیوں غور کرنا چاہیئے، اِس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ یہ لوگوں کی صحت کا سنگین مسئلہ بنتا جارہا ہے اور عام صحت کا مسئلہ امراٴ یا اوسط طبقے کے لوگوں کے لیے نہیں بلکہ غریبوں کے لیے۔‘

رامیش کہتے ہیں بھارت نے ایک دس سالہ پروگرام شروع کیا ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جائے کہ صنعتی طور پر آلودہ یا شہروں کی سیوریج کا پانی صاف کیے بغیر ملک کے بڑے دریا گنگا میں نہ ڈالا جائے۔ وہ کہتے ہیں بھارت کے زیرِ زمین پانی پر کروڑوں بھارتی روزانہ زراعت کے لیے انحصار کرتے ہیں اور انسان ہی اُسے آلودہ کر رہے ہیں۔

رامیش کہتے ہیں کہ پانی کی کوالٹی بے حد ضروری ہے اور ہمیں اِن مسائل پر اِس سے کہیں زیادہ منظم طریقے سے توجہ دینی ہوگی جتنا کہ ہم اِس وقت کر رہے ہیں۔

بھارتی صوبے مغربی بنگال میں جو ادپور یونیورسٹی میں ماحولیاتی علوم کے ڈائریکٹر دیپانکر چکرورتی وہ شخصیت ہیں جنھوں نے عشروں پہلے مغربی بنگال اور بنگلہ دیش کے زیرِ زمین پانی میں آرسینک کی آلائش کے بارے میں آگاہ کیا تھا۔

چکرورتی خبردار کرتے ہیں کہ آرسینک کی آلودگی شمال مشرقی بھارت یا بنگلہ دیش تک محدود نہیں رہے گی بلکہ آئندہ عشروں میں گنگا کے میدانی علاقوں اور دیگر عبوری آبی گزرگاہوں تک بھی پہنچ جائے گی۔

مدثرہ منظر کی زبانی آڈیو رپورٹ سنیئے:

XS
SM
MD
LG