رسائی کے لنکس

برطانوی ادارے قیدیوں سے ایذاء رسانی کے ذریعے تفتیش پر یقین نہیں رکھتے: سرکاری بیان

  • عادل زیب

برطانوی ادارے قیدیوں سے ایذاء رسانی کے ذریعے تفتیش پر یقین نہیں رکھتے: سرکاری بیان

برطانوی ادارے قیدیوں سے ایذاء رسانی کے ذریعے تفتیش پر یقین نہیں رکھتے: سرکاری بیان

‘ہم نے واٹر بورڈنگ کو ہمیشہ ایذاء رسانی سمجھا ہے۔ میں یہ یقین نہیں رکھتا کہ لندن میں دہشت گردی کے منصوبوں کو واٹر بورڈنگ کی مدد سے ناکام بنایا گیا تھا۔جارج بش اپنے غلط فیصلوں کو صحیح ثابت کرنے کے لیے ایسےدعوے کر رہے ہیں’

برطانوی حکومت نے حال ہی میں منظرِ عام پر آنے والی سابق امریکی صدر جارج بش کی کتاب پر اپنے مؤقف کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ برطانوی ادارے قیدیوں سے ایذاء رسانی کے ذریعے تفتیش پر یقین نہیں رکھتے۔

10ڈاؤننگ اسٹریٹ سے جاری کیے گئے ایک بیان کے مطابق برطانوی انٹیلی جنس اداروں نے دورانِ تفتیش ایذاء رسانی کے استعمال سے ہمیشہ گریز کیا ہے۔

اپنے دورِ حکومت کی یادداشتوں پر مبنی کتاب ‘ڈسیشن پوائنٹس’ میں سابق امریکی صدر کا کہنا تھا کہ تفتیش کے متنازعہ طریقے واٹر بورڈنگ کے استعمال سے حاصل کی گئی خفیہ معلومات سے لندن کے بگ بین اور ہیتھرو ایئرپورٹ سمیت کناری وہارف پر دہشت گردی کے حملوں کو ناکام بنایا گیا تھا۔

Bush memoirs. Nov. 2010

Bush memoirs. Nov. 2010

جارج بش کی کتاب ‘ڈسیشن پوائنٹس’ کے مطابق 9/11کے مرکزی کردار خالد شیخ محمد سمیت دو سعودی شدت پسندوں ابو زبیدہ اور عبدالرحیم ناشری سے متنازعہ واٹر بورڈنگ کے ذریعے تفتیش کی گئی تھی اور اِنہی ملزمان سے حاصل کردہ خفیہ معلومات کے بعد لندن میں دہشت گردی کے منصوبوں کو ناکام بنایا گیا تھا۔

برطانیہ میں حزبِ اقتدار سمیت حزبِ اختلاف کی جماعت لیبر کے رہنما اور اِس وقت برطانوی پارلیمنٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کے سربراہ کِم ہالز نے بھی سابق امریکی صدر کی جانب سے واٹر بورڈنگ کے استعمال کو جائز قرار دینے کی مذمت کی۔ اُن کے الفاظ میں ‘ہم نے واٹر بورڈنگ کو ہمیشہ ایذاء رسانی سمجھا ہے۔ میں یہ یقین نہیں رکھتا کہ لندن میں دہشت گردی کے منصوبوں کو واٹر بورڈنگ کی مدد سے ناکام بنایا گیا تھا۔جارج بش اپنے غلط فیصلوں کو صحیح ثابت کرنے کے لیے ایسےدعوے کر رہے ہیں۔’

ادھر، انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے دورانِ تفتیش واٹر بورڈنگ کے استعمال کو ایذاء رسانی قرار دیتے ہوئے امریکی حکام سے معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

وائس آف امریکہ سے بات چیت میں ایمنسٹی انٹرنیشنل میں امریکی امور کی تحقیقات کے ماہر رابرٹ فریئر نے کہا کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل سابق امریکی صدر کی جانب سے واٹر بورڈنگ کے استعمال کی اجازت دینے کے معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ کرتی ہے۔ ا ُن کے الفاظ میں: ‘واٹر بورڈنگ بین الاقوامی قوانین کے تحت ایک جرم ہے، اور امریکی حکام بھی بین الاقوامی قوانین کے پابند ہیں۔’

جارج بش کے مطابق اُنھوں نے واٹر بورڈنگ کو دورانِ تفتیش استعال کرنے سے قبل امریکی وکلاء سے مشورہ کیا تھا۔

اِس حوالے سے ایمنسٹی انٹرنیشنل کے عہدے دار کا کہنا تھا کہ واٹر بورڈنگ ایذا ء رسانی ہے، جب کہ بین الاقوامی قانون کے مطابق ایذاء رسانی ایک جرم ہے۔ کوئی ملک یا وکیل چاہے کتنی بھی کوشش کرلے غیر قانونی طریقوں کو قانونی ثابت نہیں کر سکتا۔

واضح رہے کہ واٹر بورڈنگ ہمیشہ سے ایک متنازعہ طریقہٴ تفتیش رہا ہے جس میں دوران تفتیش ملزمان کو پانی میں غرق ہونے کا احساس ہوتا ہے۔ امریکی صدر براک اوباما نے اقتدار سنبھالنے کے بعد واٹر بورڈنگ پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا تھا۔

XS
SM
MD
LG