رسائی کے لنکس

جنوبی وزیرستان میں جاری آپریشن میں آٹھ عسکریت پسنداور ایک فوجی ہلاک

  • ب

جنوبی وزیرستان میں جاری آپریشن میں آٹھ عسکریت پسنداور ایک فوجی ہلاک

جنوبی وزیرستان میں جاری آپریشن میں آٹھ عسکریت پسنداور ایک فوجی ہلاک

فوج کی طرف سے جاری ہونے والی ایک سرکاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ جنوبی وزیرستان میں عسکریت پسندوں کے ساتھ تازہ جھڑپیں شکئی کے علاقوں میں ہوئی ہیں جن میں آٹھ عسکریت پسندمارے گئے۔اس کے علاوہ جنڈولہ میں شیخ یوسف اڈہ کے علاقے میں تلاشی کے دوران سکیورٹی فورسز نے دو مشتبہ دہشت گردوں کو گرفتار بھی کیا ہے۔

سرکاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ رزمک کے علاقے میں دہشت گردوں نے پَش زیارت نامی ایک چیک پوسٹ پر چھوٹے ہتھیاروں سے حملہ کرکے ایک فوجی کو ہلاک اور تین کو زخمی کردیا۔

واضح رہے کہ اکتوبر کے وسط سے راہ نجات کے نام سے پاکستانی فوج نے جنوبی وزیرستان میں ایک بڑا آپریشن شروع کر رکھا ہے جس کا مقصد اس قبائلی علاقے میں حکومت کی عملداری بحال کرنا اور وہاں موجود شدت پسندوں کے ٹھکانوں کا خاتمہ ہے۔ فوجی حکام کے مطابق اس آپریشن کے دوران زیادہ تر علاقے کو عسکریت پسندوں سے خالی کرا لیا گیا ہے اور ان فوجی کارروائیوں کے دوران سینکڑوں شدت پسندوں کو ہلاک اور ان کے دوسرے ساتھیوں کو بھاگنے پر مجبور کردیا گیاہے۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ جنوبی وزیرستان میں کی جانے والی فوجی کارروائی کا اصل ہدف کالعدم تحریک طالبان پاکستان ہے جس کا کمانڈر حکیم اللہ محسود اور اس کے دوسرے ساتھی حکومت کو انتہائی مطلوب ہیں ۔ باور کیا جاتا ہے کہ پچھلے تین ماہ کے دوران ملک بھر میں خود کش بم دھماکے اور دہشت گردی کے دوسرے واقعات طالبان شدت پسند وں نے آپریشن راہ نجات کے ردعمل میں کیے ہیں اور ان میں مجموعی طور پر چھ سو سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں جن کی اکثریت عام شہریوں کی ہے۔

دوسری طرف جنوبی وزیرستان سے ملحقہ شمالی وزیرستان کے علاقے میں شدت پسندوں کے مشتبہ کے خلاف ڈرون نامی امریکی جاسوس طیاروں کے میزائل حملوں میں بھی تیزی آئی ہے جن میں پچھلے دس روز کے دوران 40سے زائد افراد مارے جاچکے ہیں۔

پاکستانی صدر آصف علی زرداری نے امریکی کانگریس کے ایک اعلیٰ سطحی وفد سے گزشتہ ہفتے ملاقات میں ان ڈرون حملوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ کارروائیاں نہ صرف ملک کی خودمختاری بلکہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں عوامی حمایت میں کمی کا باعث بن رہی ہیں۔ انھوں نے امریکی کانگریس کے وفد پر یہ بھی واضح کیا تھا کہ بین الاقوامی فوج افغانستان میں جو بھی کارروائیاں کررہی ہیں اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ وہ افغان سرحد کے اندر ہی کی جائیں۔

دریں اثناء پیر کو امریکی کانگریس کے ایک وفد نے سینٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے چیئر مین کارل لیون کی قیادت میں وزیراعظم یوسف رضا گیلانی سے اسلام آباد میں ملاقات کی جس میں پاکستانی وزیراعظم نے بلوچستان میں کوئٹہ شوریٰ یا افغان طالبان کی قیادت کی موجودگی کے الزامات کو رد کیا اور امریکہ سے آنے والی ان اطلاعات پر افسوس کا اظہار کیا جن میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے خلوص اور ارادوں پر شکوک وشہبات کااظہار کیا جاتا ہے۔

XS
SM
MD
LG