رسائی کے لنکس

وزیرستان میں امریکی ڈرون حملے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں اضافہ

  • شمیم شاہد

اسی علاقے میں ایک مشتبہ ٹھکانے پرڈرون حملے میں کالعدم تحریک طالبان کے سربراہ حکیم اللہ محسود کے زخمی یا ہلاک ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں.

شمالی اور جنوبی وزیرستان کو ملانے والے سرحدی علاقے شکتوئی میں اتوار کو ایک مشتبہ امریکی ڈرون حملے میں اطلاعات کے مطابق ہلاک ہونے والوں کی تعداد 20 ہلاک ہوگئی ہے۔

قبائلی ذرائع نے بتایا ہے کہ بغیر پائلٹ کے جاسوس طیارے سے داغے گئے کم از کم چار میزائلوں سے میشبا نامی ایک گاؤں میں عسکریت پسندوں کے مشتبہ ٹھکانے کو ہدف بنایا گیا۔ مرنے والوں میں زیادہ تر غیر ملکی بتائے گئے ہیں اور ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ پچھلے چند روز کے دوران شکتوئی اور اس کے اردگرد علاقوں پر کئی میزائل حملے کیے جا چکے ہیں جن میں اطلاعات کے مطابق غیر ملکیوں سمیت متعدد عسکریت پسند مارے جا چکے ہیں۔

گذشتہ ہفتے اسی علاقے میں ایک مشتبہ ٹھکانے پرڈرون حملے میں کالعدم تحریک طالبان کے سربراہ حکیم اللہ محسود کے زخمی یا ہلاک ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں۔ لیکن اس شد ت پسند کمانڈر نے ایک روز قبل ذرائع ابلاغ کو جاری کیے گئے ایک آڈیو پیغام میں اپنے زخمی یا ہلاک ہونے کی اطلاعات کو بے بنیاد قرار دے کر مسترد کیا تھا۔

وزیرستان میں ڈرون حملوں میں غیر معمولی تیزی آئی ہے اور ناقدین اسے 30 دسمبر کو افغان صوبے خوست میں سی آئی اے کے مرکز پراس خودکش حملے کا ردعمل قرار دے رہے ہیں جس میں امریکی خفیہ ادارے کے سات افسران ہلاک اور چھ زخمی ہو گئے تھے۔

اُردنی خود کش بمبار ہُمام خلیل ابو مُلال البلاوی اور تحریک طالبان کا سربراہ حکیم اللہ محسود کی ویڈیو فلم سی آئی اے پر حملے کے دس روز بعد جاری کی گئی

اُردنی خود کش بمبار ہُمام خلیل ابو مُلال البلاوی اور تحریک طالبان کا سربراہ حکیم اللہ محسود کی ویڈیو فلم سی آئی اے پر حملے کے دس روز بعد جاری کی گئی

مشرقی افغانستان کے اس صوبے کی سرحدیں شمالی وزیرستان سے ملتی ہیں اور اردن سے تعلق رکھنے والے خودکش بمبار کی سی آئی اے کے مرکز پر حملے سے پہلےتیار کی گئی ویڈیو فلم میں وہ حکیم اللہ محسود کے ساتھ بیٹھ کر اپنا آخری پیغام پڑھ کر سنا رہا تھا۔

اس فلم کے منظر عام پر آنے کے بعد بظاہر القاعدہ اور پاکستانی طالبان کے درمیان قریبی تعلق کی تصدیق ہونے سے امریکہ نے وزیرستان کے علاقوں پر حملوں کا سلسلہ تیز کردیا۔

افغانستان میں سی آئی اے کے مرکز پر ہونے والے حملے کے بعد سے اب تک مبینہ طور پر وزیرستان میں دس امریکی ڈرون حملے کیے گئے ہیں جن میں 80 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ میزائل حملوں میں مرنےوالوں کی اکثریت طالبان جنگجووں کی بتائی گئی ہے اور ان میں غیر ملکی بھی شامل ہیں۔

دریں اثنا اتوار کے روز قبائلی علاقے باجوڑ کے مرکزی شہر خار میں نامعلوم مسلح افراد نے ایک طالبان مخالف قبائلی رہنما ملک عبدالقیوم کی گاڑی پر خودکار ہتھیاروں سے فائرنگ کر کے انھیں اور ان کے ایک رشتہ دار کو ہلاک کردیا۔


XS
SM
MD
LG