رسائی کے لنکس

بارود اور دھماکے، ایک بار پھر وزیرستان کا مقدر بن گئے


فائل

فائل

بتایا جاتا ہے کہ ایک مرتبہ پھر وزیرستان کا میدان چنا گیا ہے، جو جنوبی اور شمالی حصوں پر مشتمل ہے۔ 19 فروری سے 25 فروری تک یہاں کئی مرتبہ بارودی فضا میں دھماکے پہ دھماکے سنے گئے ہیں، جبکہ سنہ 2004 میں ’وانا آپریشن‘ بھی یہیں کیا گیا تھا

وفاقی کابینہ کی طرف سے طالبان کو غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کا اعلان آئندہ چند روز میں باقاعدہ اور بڑے پیمانے پر ہونے والے فوجی آپریشن’بگل‘ ہے۔ گردش کرتی اطلاعات سے اشارے مل رہے ہیں کہ باقاعدہ فوجی آپریشن کا ماحول تیار ہے۔

جنگ کے لئے ایک مرتبہ پھر وزیرستان کا میدان چنا گیا ہے جو جنوبی اور شمالی حصوں پر مشتمل ہے۔ 19 فروری سے 25 فروری تک یہاں کئی مرتبہ بارودی فضاٴ میں دھماکے پہ دھماکے سنے گئے ہیں، جبکہ سنہ 2004ء میں’وانا آپریشن‘ بھی یہیں کیا گیا تھا۔

سنہ 2010 میں بھی جنوبی وزیرستان متوقع آپریشن کے سبب شہ شرخیوں میں رہا جبکہ ڈرون حملوں اور افغانستان میں تعینات امریکی و نیٹو افواج پر حملے کرنے والوں کا محفوظ ٹھکانہ بھی اسی وزیرستان کو قرار دیا جاتا رہا ہے۔ اس لئے، اس علاقے کا جغرافیہ اور اس کی’تاریخ‘ پر ایک مرتبہ پھر نظر ڈالنا ضروری ہے۔

محل وقوع
وزیرستان پاکستان اور افغانستان کی سرحدوں پر واقع قبائلی علاقہ ہے۔ اس کی سات ایجنسیاں ہیں یعنی باجوڑ، مہمند، خیبر، اورکزئی، کرم، شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان۔ شمال و جنوبی وزیرستان گیارہ ہزار پانچ سو پچاسی مربع کلومیٹر پر محیط ہے۔ دونوں کی مجموعی آبادی ایک محتاط تخمینے کے مطابق 14لاکھ کے قریب ہے۔

عسکری سرگرمیوں کا مرکز کیوں؟
اس علاقے کے حوالے سے سب سے پہلے جو سوال ابھرتا ہے وہ یہ ہے کہ کیا وجہ ہے جو یہ علاقہ سالوں سے عسکری سرگرمیوں کا مرکز بنا ہوا ہے۔ اس سوال کا آسان سا جواب یہ ہے کہ یہی وہ علاقہ ہے جہاں سنہ انیس سو اناسی میں سوویت یونین کے افغانستان پر حملے کے ساتھ ہی سرگرمیاں شروع ہوئی تھیں۔ سوویت یونین تو تقریباً 10سال بعد واپس چلا گیا، لیکن عسکری سرگرمیاں اب بھی اس علاقے کی جڑوں میں بیٹھی ہوئی ہیں۔

فوجی کارروائی ناکام کیوں؟
وزیرستان بے شمار پہاڑی سلسلوں کی سرزمین ہے۔ یہ سنگلاخ وادیاں قدرتی طور پر شدت پسندوں کو چھپنے کا محفوظ ٹھکانا ثابت ہوتی ہیں، جن پر عام گولہ بارود بے اثر ہو جاتا ہے۔ پھر جب بھی ان علاقوں میں آپریشن ہوتا ہے شدت پسند افغانستان فرار ہوجاتے ہیں۔ ماضی میں حافظ گل بہادر گروپ نے یہی حکمت عملی اپنائی ہوئی تھی۔

پاکستانی فوج گزشتہ سالوں میں کئی مرتبہ وزیرستان میں آپریشن کرچکی ہے۔ لیکن، اب بھی وزیرستان ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔

وزیرستان ۔۔ کب کس کا ٹھکانہ رہا
وزیرستان پر کی جانے والی تحقیق، ملکی اور غیر ملکی خبررساں اداروں مثلاً رائٹر اور اے ایف کے مطابق وزیرستان جہادی تنظیم حقانی نیٹ ورک کا محفوظ ٹھکانا رہا ہے۔ حقانی نیٹ ورک کے عسکریت پسند افغانستان میں تعینات امریکی اور نیٹو افواج پر حملوں کی منصوبہ بندی سے لے لیکر تربیت حاصل کرنے تک کا ہر کام یہیں انجام دیا کرتے تھے۔

وزیرستان میں غیر ملکی شدت پسندوں کی موجودگی کے شواہد بھی دنیا کے سامنے آتے رہے ہیں۔ ان غیر ملکی جنگجوٴں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ نیٹو فوج کے لئے مشکلات کھڑی کرتے رہے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق، دیگر ملکی غیر ملکی شدت پسند بھی شمالی وزیرستان کے مختلف علاقوں میں موجود ہیں، جو افغانستان میں نیٹو اور امریکی افواج پر انگلی اٹھاتے رہے ہیں۔

مذکورہ تمام شواہد سے واضح ہو رہا ہے کہ وزیرستان میں باقاعدہ اور وسیع پیمانے پر فوجی آپریشن کے بادل منڈلا رہے ہیں۔ چنانچہ، وزیرستان آئندہ کچھ مہینوں تک ایک مرتبہ بھر شہ سرخیوں میں رہے گا۔

کارروائی کا آغاز
منگل کے روز بھی پاکستانی افواج نے جیٹ طیاروں کی مدد سے شمالی وزیرستان کی تحصیل شوال، گڑیوم، میر جونی، دتہ خیل اور جنونی وزیرستان کے بعض علاقوں میں بمباری کی اور دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں 25سے زائد دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ لیکن، عسکری ذرائع سے خبریں مل رہی ہیں کہ عسکری آپریشن کا یہ دائرہ کار رفتہ رفتہ بڑھ رہا ہے اور اگلے ہفتے یہاں بڑے پیمانے پر باقاعدہ آپریشن شروع ہو سکتا ہے۔

مقامی میڈیا اور ملکی و غیر ملکی خبررساں اداروں کے مطابق 19فروری سے اب تک جن علاقوں کو نشانہ بنایا گیا ان میں شمالی وزیرستان کا علاقہ میر علی بھی شامل ہے۔ یہاں 20جنوری کو بھی جیٹ طیاروں سے بمباری ہو چکی ہے، جس کے نتیجے میں 50جنگجو مارے گئے تھے۔

برطانوی خبررساں ادارے رائٹر کے مطابق، 20 فروری کو فضائیہ کے ساتھ ساتھ زمینی فوجی دستوں نے بھی شمالی وزیرستان اور خیبر ایجنسی میں کاروائی کی اور 40 شدت پسند ڈھیر کردیئے، جبکہ بڑے پیمانے پر بارود کی فیکٹری اور اسلحہ کے ذخیرے تباہ کر دیئے گئے۔

پاکستان فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف بھی واضح الفاظ میں شدت پسندوں کے خلاف بھرپور کارروائی کرنے کا کہہ چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ فوج اندرونی و بیرونی خطرات سے نمٹنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔
XS
SM
MD
LG