رسائی کے لنکس

وزیرستان میں ڈرون حملوں کے باعث پولیو مہم ملتوی

  • شاہد

پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں حالیہ دنوں میں مشتبہ امریکی ڈرون حملوں میں تیزی آنے کے بعد مقامی انتظامیہ نے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کی مہم عارضی طور پرملتوی کر دی ہے۔

خطے کے انتظامی مرکز وانا میں سینیئر ڈاکٹر شیرزلی خان نے ٹیلی فون پر وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پولیو کی تین روزہ مہم کا آغاز پیر سے ہونا تھا لیکن وانا سب ڈویژن میں ہفتہ اور اتوار کو دو ڈرون حملوں کے بعد عوامی ردعمل کے خوف سے اب اسے موخرکردیا گیا ہے۔

’’اس ایشو (ڈرون حملوں) کی وجہ سے ہماری (پولیو) مہم اب 13 جون سے شروع ہوگی۔‘‘

اُنھوں نے بتایا کہ جنوبی وزیرستان میں پیر سے شروع ہونے والی پولیو مہم کا ہدف پانچ سال سے کم عمر 75 ہزار بچے ہیں۔

ڈاکٹر شیرزلی نے کہا کہ جنوبی وزیرستان میں گزشتہ سال پولیو کے دو مصدقہ کیس سامنے آئے تھے جب کہ اس سال اب تک نئے کیس کی اطلاع نہیں ہے۔

’’جنوبی وزیرستان میں ہماری پولیو مہم بہت کامیابی سے جاری ہے کیونکہ ہمیں یہاں پر تمام گروپوں کا تعاون حاصل ہے۔ لیکن ڈرون حملے اس مہم میں وقفے کا باعث بنے ہیں۔‘‘

اُنھوں نے کہا کہ جنوبی وزیرستان میں محسود قبائل کے علاقوں میں پولیو مہم مشکلات سے دوچار ہے اور پولیٹیکل انتظامیہ مقامی جرگوں کے ذریعے ان مسائل کو حل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

دریں اثنا ملحقہ شمالی وزیرستان میں بھی پیر کو ایک تازہ امریکی ڈرون حملے میں غیر ملکیوں سمیت پندرہ مشتبہ عسکریت پسند ہلاک ہوگئے۔ یہ حملہ تحصیل میر علی کے قریب عیسو خیل نامی گاؤں میں ایک مشتبہ ٹھکانے پر کیا گیا۔ محکمہ صحت کے عہدیداروں نے اس قبائلی خطے میں بھی پیر سے پولیو کی مہم شروع کرنے کا اعلان کر رکھا ہے جس دوران 60 ہزار بچوں کو اس بیماری سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں گے۔ تاہم ان کے بقول ڈرون حملوں سے انسداد پولیو کی مہم پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں اور سلامتی کے خدشات کے پیش نظر قطرے پلانے والی ٹیموں کو دوردراز علاقوں میں نہیں بھیجا گیا۔

وزیرستان ایجنسی کا ایک دور افتادہ گاؤں

وزیرستان ایجنسی کا ایک دور افتادہ گاؤں

مقامی عہدیداروں کے مطابق شمالی وزیرستان میں رواں برس اب تک پولیو کے 17 نئے کیسز سامنے آچکے ہیں۔

پاکستان میں پولیو کے خاتمے کی مہم 1990ء کی دہائی میں شروع کی گئی تھی۔ ملک کے بعض حصوں میں اس مہم کی کبھی مذہب کو بنیاد بنا کر مخالفت کی گئی تو کبھی محکمہ صحت میں بدانتظامی اور مبینہ بدعنوانیاں رکاوٹ بنتی رہی ہیں۔

لیکن حالیہ برسوں میں ملک میں شدت پسندی کی لہر اور اس کے خلاف سرکاری فوج کی کارروائیوں کے باعث انسان کو اپاہج بنانے والے اس وائرس کو ختم کرنے کے مقررہ اہداف پر پاکستان کو بار بار نظر ثانی کرنا پڑی ہے۔

مقامی اور بین الاقوامی فلاحی تنظیموں کا کہنا ہے کہ پولیو مہم کو گزشتہ سال اُس وقت ایک اور شدید دھچکا لگا جب ایبٹ آباد میں اُسامہ بن لادن کی موجودگی کا پتہ لگانے کے لیے امریکی سی آئی اے کی ایما پر ایک پاکستانی ڈاکٹر، شکیل آفریدی، نے انسداد پولیو کی ایک جعلی مہم چلائی تھی۔

امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ اس اقدام کے بعد فلاحی تنظیموں کی سرگرمیوں کے بارے میں پاکستان میں اب لوگوں میں شکوک و شبہات نے جنم لیا ہے جب کہ رضا کار بھی اپنے فرائض کی ادائیگیوں میں انجانے خوف کا شکار رہتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG