رسائی کے لنکس

مقامی حکام نے ان جھڑپوں میں مجموعی طور پر 14 فوجیوں اور7 شہریوں کی ہلاکت جبکہ 65 کے زٕخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔

شمالی وزیرستان کےانتظامی مرکزمیران شاہ میں فوج اورطالبان جنگجوؤں کے درمیان دوروز تک جاری رہنے والی خونریز جھڑپیں ختم اور حالات معمول پر آگئے ہیں۔

قبائلی ذرائع کا کہنا ہے کہ منگل کوشہر پرسکون رہا اورمرکزی بازار میں لوگ اپنی تباہ شدہ دکانوں کے ملبے کو صاف کرنے میں مصروف رہے۔

لڑائی کا آغاز اتوار کو اُس وقت ہواجب عسکریت پسندوں نے امین چیک پوسٹ کے قریب ایک فوجی قافلے پر گھات لگا کر حملہ کردیا۔

مقامی حکام نے ان جھڑپوں میں مجموعی طور پر 14 فوجیوں اور7 شہریوں کی ہلاکت جبکہ 65 کے زٕخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔

فوج نےجوابی کارروائی میں عسکریت پسندوں کو بھاری جانی نقصان پہنچانے کے دعوے بھی کیےہیں تاہم آزاد ذرائع سے ان کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔

وفاق کے زیرانتظام سات قبائلی علاقوں میں سے شمالی وزیرستان میں پاکستانی فوج نے اب تک باقاعدہ آپریشن نہیں کیا ہے اور اس خطے میں قبائلی رہنماؤں کے ساتھ ایک امن معاہدہ تاحال موثر ہے۔ اس معاہدے میں فوج کو یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ علاقے میں طالبان کے اہم کمانڈر حافظ گل بہادر کے جنگجو سکیورٹی فورسز کے خلاف حملوں سے اجتناب کریں گے۔

حالیہ لڑائی نےاس امن معاہدے کے وجود کو بظاہر خطرے میں ڈال دیا ہے لیکن تاحال دونوں جانب سے اس بارے میں ایسا کوئی تاثر نہیں دیا گیا ہے۔

آڈیو رپورٹ سنیئے:

XS
SM
MD
LG