رسائی کے لنکس

’خودکار نظام کا فروغ، ترقی پذیر ملکوں میں روزگار کے مواقع کم ہو جائیں گے‘


روبوٹ

عالمی بینک کے صدر کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ فوری نوعیت کا ہے، چونکہ جنگ عظیم دوئم کے بعد دنیا کو تنازعات، صدمے کی سی صورت حال، قحط اور مہاجرین کے بدترین بحران جیسے سنگین مسائل سے سابقہ ہے

عالمی بینک کے صدر جِم کِم نے متنبہ کیا ہے کہ خودکاری کے نظام کو فروغ ملنے کے نتیجے میں ترقی پذیر دنیا میں روزگار کے مواقع میں ’’دو تہائی کی کمی واقع ہو سکتی ہے‘‘، جس صورت حال کے باعث تنازع اور مہاجرین کی نقل و حمل کا رجحان بڑھ سکتا ہے۔

ڈاکٹر کِم نے یہ بات دنیا بھر سےواشنگٹن آئے ہوئے معاشی اور سیاسی قائدین کے اجتماع سے مخاطب ہوتے ہوئے کہی ہے، جو اس وقت عالمی بینک اور عالمی مالیاتی ادارے کے اجلاس میں شرکت کے لیے امریکی دارالحکومت میں موجود ہیں۔

کِم نے کہا ہے کہ یہ واضح نہیں آیا اپنائے جانے والے مشینوں کے خودکار نظام سے روزگار کے مواقع میں کس تیزی سے کمی واقع ہوگی۔


اُنھوں نے کہا کہ روزگار کے مواقع میں کٹوتی کا خدشہ ایسے میں سامنے آ رہا ہے جب انٹرنیٹ تک عالمی رسائی پر کوئی روک ٹوک نہیں، جس سے غریب ترین ملکوں میں رہنے والے لوگ یہ سمجھنے لگے ہیں کہ دیگر عوام زیادہ آرامدہ زندگی گزار رہے ہیں۔

عالمی بینک کے صدر کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ فوری نوعیت کا ہے چونکہ جنگ عظیم دوئم کے بعد دنیا کو تنازعات، صدمے کی سی صورت حال، قحط اور مہاجرین کے بدترین بحران جیسے سنگین مسائل سے سابقہ ہے۔

کِم نے کہا ہے کہ اس کا علاج یہ ہے کہ نجی ملکیت والے ’ٹرلینز‘ ڈالرز کی رقوم کو استعمال میں لایا جائے، جس پر اس وقت بہت ہی کم یا نہ ہونے کے برابر شرح سود میسر آ رہی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ بینک یہ کوشش کر رہا ہے کہ اِس سرمایہ کاری کو خطرے سے خالی اور تجارتی طور پر زیادہ سودمند بنایا جائے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG