رسائی کے لنکس

روہت شیٹھی کی نئی فلم ’ویلکم ٹو کراچی‘۔۔ ہوسکتا ہے کراچی اور ممبئی کے درمیان ’تفریحی پل‘ کا کردار ادا کرنے میں تاریخی ثابت ہو۔ فلم کا اعلان ہی ’کراچی، ممبئی قربتوں‘ کی جانب مثبت اشارہ ہے

پاکستان انٹرٹیمنٹ انڈسٹری کے ایک بہت بڑے حلقے کا خیال ہے کہ پاکستان فلم انڈسٹری اس بار لاہور کے بجائے کراچی میں اپنا ’دوسرا جنم‘ لے رہی ہے۔

اپنی بات کے جواز میں شوبزنس سے جڑے اس حلقے کا کہنا ہے’بڑے بجٹ کی فلموں کا کراچی میں تیار ہونا، ٹی وی انڈسٹری سے وابستہ بے شمار لوگوں کا شہر قائد میں قیام، بڑے بڑے پروڈکشن ہاوٴسز کی شروعات، اس شعبے میں بڑے پیمانے پر ہونے والی سرمایہ کاری اور الٹرا ماڈرن سنیما انڈسٹری میں کروڑوں کی ریل پیل ۔۔۔یہ سب چیزیں اس بات کا واضح اشارہ ہیں۔‘

اور اب تو ممبئی اور کراچی کے درمیان فلمی قربتیں بھی بڑھنے لگی ہیں۔ اس حوالے سے تازہ ترین اطلاعات یہ ہیں کہ ممبئی والوں نے دنیا بھر کے لوگوں کا کراچی میں انتہائی پرتپاک انداز میں ’ویلکم‘ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کس طرح؟ ۔۔۔تو سنئے:

بالی ووڈ پروڈیوسر اشیش موہن نے ارشد وارثی اور جیکی بھاگنانی نے ’ویلکم ٹو کراچی‘ کے نام سے ایک مزاحیہ فلم بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ فلم کی پوری کہانی کراچی کر گرد گھومتی ہے۔

بھارت کے انتہائی مقبول اور سب سے پرانے فلمی رسالے’فلم فیئر‘ کا کہنا ہے کہ فلم صرف ایک سالہ مدت میں پوری ہوجائے گی اور اگلے سال یعنی 2015ء میں اسے آپ سنیما گھروں کی زینت بنتے دیکھیں گے۔

’ویلکم ٹو کراچی‘ سے جڑا ایک اور سب سے بڑا، دلچسپ اور اہم پہلو یہ ہے کہ اس فلم کے ڈائریکٹر ہیں روہت شیٹھی۔

جی ہاں، وہی روہت جنہوں نے اس سے قبل شاہ رخ خان و دپیکا پڈکون کے ساتھ ’چنائی ایکسپریس‘ بنائی تھی اور جس نے بزنس کے اتنے سارے ریکارڈز بنائے کہ بہت سی فلمیں پیچھے رہ گئیں۔

روہت کی دیگر نام و شہرت کمانے والی بڑی کچھ بڑی اور دیگر فلموں کے نام ہیں: ’سنگھم‘، ، ’گول مال‘، ’گول مال ریٹرنز‘، ’گول مال تھری‘، اور ’بول بچن‘۔

روہت نے حال ہی میں روہت شیٹھی پروڈکشنز کے نام سے ذاتی کمپنی بھی شروع کردی ہے۔ ’سنگھم ریٹرنز‘ اس کمپنی کی پہلی پروڈکشن ہے۔

’ویلکم ٹو کراچی‘ میں پہلے ارشد وارثی اور عرفان (خان) ایک ساتھ کام کررہے تھے لیکن ’انڈین ایکسپریس‘ کا کہنا ہے کہ آخری لمحوں میں عرفان کا فلم کے کریٹیوز پر اختلاف ہوگیا جس کے بعد اب جیکی بھاگنانی عرفان خان والا کردار اداکریں گے۔ جیکی کو آپ فلم ’ینگ ستان‘ میں دیکھ چکے ہیں۔

ویلکم ٹو کراچی ۔۔۔دو ایسے دوستوں کی کہانی ہے جو عادتاً ایڈونچر پسند ہیں۔ لیکن، کراچی آکر شہر کی سیاسی صورتحال میں ایسا پھنستے ہیں کہ نہ اگلے بنتی ہے نہ نکلے۔ ایسے میں بہت سی مزاحیہ سچویشنز بھی جنم لیتی ہیں جو فلم دیکھنے والوں کو ہنسا ہنسا کر لوٹ پوٹ کردیں گی۔

جب روہت شیٹھی سے یہ سوال کیا گیا کہ فلم بنانے کے لئے انہوں نے کراچی کو ہی کیوں منتخب کیا تو ان کا کہنا تھا: ’کراچی دنیا کے دوسرے شہروں کے مقابلے میں کچھ خطرناک ہوسکتا ہے، لیکن یہاں کے لوگوں کے احساسات بہت بڑے ہیں۔۔ان میں انسانی قدریں ہیں ۔۔۔اچھے اور انسان دوست لوگ ہر جگہ بستے ہیں اور یہی چیز مجھے کراچی والوں کے قریب لے آئی اور یہی پہلو میں نے اپنی فلم میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ ‘

​روہت شیٹھی جیسے بڑے پروڈیوسر اور ڈائریکٹر کا کراچی سے متعلق فلم بنانا یہاں کے ڈھائی کروڑ شہریوں کے لئے نہایت خوشگوار احساس ہے، محسوس یہ ہوتا ہے کہ فلم کو بڑے پیمانے پر پذیرائی حاصل ہوگی۔۔

یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ’ویلکم ٹو کراچی‘۔۔۔ کراچی اور ممبئی کے درمیان ایک ’تفریحی پل‘ کا کردار ادا کرنے میں تاریخی ثابت ہو۔ اور اس پل کے ذریعے دونوں شہروں کی انٹرٹیمنٹ انڈسٹری کے درمیان پھیلا گیپ ختم یا ’کم سے کم‘ ہوجائے۔

XS
SM
MD
LG