رسائی کے لنکس

پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان چوتھا اور آخری ٹی ٹوئنٹی میچ پورٹ آف اسپین کے کوئنز پارک اوول میں کھیلا گیا

چار ٹی 20 میچز کی سیریز کے چوتھے اور آخر میچ میں ویسٹ انڈیز نے پاکستان کو جیتنے کے لئے 125 رنز کا ہدف دیا ہے۔ ویسٹ انڈیز کی ٹیم اتوار کی رات مقررہ 20 اوورز میں 8 وکٹس کے نقصان پر 124 رنز بنانے میں کامیاب رہی۔ یوں، پاکستان کو یہ میچ جیتنے کے لئے نسبتاً آسان ہدف عبور کرنا ہوگا۔

پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان چوتھا اور آخری ٹی ٹوئنٹی میچ پورٹ آف اسپین کے کوئنز پارک اوول میں کھیلا گیا۔

لوئس اور والٹن نے اننگز کا آغاز کیا۔ لیکن، لوئس گزشتہ روز کے مقابلے میں آج کوئی بڑا کارنامہ نہ کرسکے اور صرف 7 رنز کے انفرادی 27 رنز کے مجموعی اسکور پر آؤٹ ہوگئے ۔ان کی وکٹ عماد وسیم نے لی۔

شعب ملک کو ایک مرتبہ وہاب ریاض اور دوسری مرتبہ شاداب خان کی گیند پر والٹن کا تھرڈ مین باؤنڈری پر کیچ لینے کا موقع ملا۔ ان میں سے پہلا چانس ضائع ہوگیا۔ تاہم، انہوں نے والٹن کو دوسرا موقع نہیں دیا اور جارحانہ اسٹروکس کھیلنے والے والٹن کو 40 رنز پر ڈھیر کردیا۔

پاکستان کو جیسن محمد کی تیسری وکٹ 59 رنز کے مجموعی اسکور پر ملی۔

انہیں حسن علی نے کلین بولڈ کیا۔ جیسن 10 بالوں پر صرف ایک رن ہی بنا سکے۔

سیمنز نے جیسن کی جگہ لی جبکہ سیمولز، والٹن کے آؤٹ ہونے کے بعد سے کریز پر موجود تھے۔ ٹیم کا مجموعی اسکور 73 رنز تک ہی پہنچا تھا کہ سیمنز ڈرامائی انداز میں آؤٹ ہوگئے۔

انہوں نے شارٹ کھیلا تو دوسرے اینڈ پر کھڑے سیموئلز رنز بنانے کے لئے بھاگنے میں کچھ لمحوں کا توقف کر بیٹھے اس دوران سیمنز نے کریز چھوڑ دی۔ انہیں دوسرے اینڈ پر پہنچنا تھا۔ لیکن، اس دوران خود بالر حسن علی نے فیلڈنگ کرتے ہوئے گیند وکٹس سے ٹکرادی اور یوں سیمنز آؤٹ ہوگئے۔

پانچویں وکٹ کی صورت میں سیموئلز کو حسن علی نے بغیر کوئی چانس دیئے کلین بولڈ کر دیا۔ حسن علی کو ہیٹ ٹرک کرنے کا موقع ہاتھ آیا۔ لیکن وہ اس میں کامیابی حاصل نہ کر سکے۔

پولارڈ اور بریتھویٹ نے چھٹے اور ساتویں وکٹ کے طور پر کریز سنبھالی۔ لیکن، رومان رئیس نے صرف تین رنز پر پولارڈ کو بھی کلین بولڈ کر دیا۔ وہ کلین بولڈ ہونے والے آج کے تیسرے کھلاڑی تھے۔ اس وقت تک ویسٹ انڈیز کے صرف 82 رنز بنے تھے۔

پولارڈ کی جگہ ہولڈر نے لی۔ لیکن، وہ کھاتا کھولے بغیر ہی آؤٹ ہوگئے۔ ان کی وکٹ شاداب خان نے لی۔ یوں ویسٹ انڈیز کی صرف ایک رنز کے اضافے سے ساتویں وکٹ گری۔

نارائن نے کریز پر موجود بریتھویٹ کا ساتھ دینا تھا جن پر بڑے اسکور کرنے کی بھاری ذمے داری عائد ہوتی تھی۔ اس ذمے داری کو نبھانے میں وہ کسی حد تک کامیاب بھی رہے۔ آخری اوورز میں انہوں نے کافی چوکے لگائے اور جارحانہ اسٹروکس کھیلے۔ لیکن اس موقع پر جبکہ 19اوورز رہ گئے تھے نارائن ان کا ساتھ چھوڑ گئے اور بدی نے ان کی جگہ لی۔ نارائن نو بالز پر نو ہی رنز بناسکے۔

دوسرے اینڈ پر بریتھویٹ نے 37 رنز بنائے، جبکہ بدری نے صرف ایک رنز بنایا۔

پاکستان کی جانب سے حسن علی اور شاداب خان نے دو ، دو جبکہ عماد وسیم، رومان رئیس اور وہاب ریاض نے ایک، ایک وکٹ لی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG