رسائی کے لنکس

القاعدہ کا خطرہ، مغربی ممالک کے شام سے رابطے


مغربی ملکوں کی حکومتیں شام میں سرکاری فورسز سے برسرِ پیکار باغیوں کی صفوں میں غیر ملکی جنگجووں کی موجودگی سے نالاں ہیں

مغربی ملکوں کی حکومتیں شام میں سرکاری فورسز سے برسرِ پیکار باغیوں کی صفوں میں غیر ملکی جنگجووں کی موجودگی سے نالاں ہیں

شامی وزیرِ خارجہ کے بقول ان رابطوں سے ان ملکوں کی سیاسی حکومتوں اور سکیورٹی کے ذمہ دار اداروں کے درمیان موجود اختلافات کا اظہار ہوتا ہے۔

شام کے ایک اعلیٰ حکومتی عہدیدار نے دعویٰ کیا ہے کہ بعض مغربی ممالک کے انٹیلی جنس حکام نے سکیورٹی کے امور پر تعاون بڑھانے کی غرض سے دمشق کا دورہ کیا ہے۔

شام کے نائب وزیرِ خارجہ فیصل مقداد نے یہ دعویٰ بدھ کو معاصر نشریاتی ادارے 'بی بی سی' کو دیے جانے والے ایک انٹرویو میں کیا۔

فیصل مقداد کے بقول جن مغربی ممالک کے حکام نے دمشق کے دورے کے دوران میں شامی حکام کے ساتھ تعاون بڑھانے پر بات چیت کی ہے ان میں سے کئی شام کے صدر بشار الاسد کی حکومت کے مخالف ہیں۔

شامی وزیرِ خارجہ کے بقول ان رابطوں سے ان ملکوں کی سیاسی حکومتوں اور سکیورٹی کے ذمہ دار اداروں کے درمیان موجود اختلافات کا اظہار ہوتا ہے۔

تاہم انٹرویو کے دوران میں جناب مقداد نے ان ممالک کے نام بتانے سے گریز کیا جن کے انٹیلی جنس حکام نے ان کے بقول شام کے دارالحکومت دمشق کا دورہ کیا ہے۔

انٹرویو کے دوران جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا شام کا دورہ کرنے والے سکیورٹی حکام میں برطانیہ کے اہلکار بھی شامل تھے تو انہوں نے اس سوال کا براہِ راست جواب دینے سے معذرت کرلی۔

اپنے انٹرویو میں شام کے نائب وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ ان کے ملک سے متعلق مغربی ممالک کا رویہ تبدیل ہورہا ہے۔ جناب مقداد کے بقول ان کی حکومت کے مخالف ممالک کی جانب سے سکیورٹی امور میں تعاون کی درخواست کا مطلب ہے کہ ان کی سیاسی اور دفاعی قیادت کے درمیان اختلافات ہیں۔

خیال رہے کہ مغربی ممالک شام میں جاری خانہ جنگی کے دوران حزبِ اختلاف کی جماعتوں اور گروہوں کی حمایت کر رہے ہیں۔ تاہم مغربی حکومتیں صدر بشار الاسد کی حکومت کے خلاف لڑنے والے ان باغی گروہوں کو کسی قسم کی امداد دینے سے گریزاں ہیں جن پر 'القاعدہ' سے منسلک ہونے یا اس کے نظریاتی حلیف ہونے کا شبہ ہے۔

مغربی ملکوں کی حکومتیں شام میں سرکاری فورسز سے برسرِ پیکار باغیوں کی صفوں میں غیر ملکی جنگجووں کی موجودگی سے بھی نالاں ہیں جو اسد حکومت کے خلاف تین برسوں سے جاری مسلح مزاحمت میں شرکت کو "مذہبی فریضہ" سمجھ کر اپنے آبائی ملک چھوڑ کر وہاں پہنچے ہیں۔

شام میں صدر بشار الاسد کے خلاف شروع ہونے والی احتجاجی تحریک گزشتہ تین برسوں کے دوران میں مکمل خانہ جنگی میں تبدیل ہوچکی ہے جس میں اب تک اقوامِ متحدہ کے اندازوں کے مطابق ایک لاکھ سے زائد شامی باشندے ہلاک ہوچکے ہیں۔
XS
SM
MD
LG