رسائی کے لنکس

یورپی یونین کے رہنماؤں نے یوکرین میں ہونے والی پُرتشدد کارروائیوں کو ’یوکرینی حکام کی جانب سے طاقت کا بے جا استعمال‘ قرار دیا ہے۔

مغربی طاقتوں نے بدھ کے روز یوکرین کے دارالحکومت میں ہونے والے پرتشدد واقعات اور اس کے نتیجے میں 26 افراد کی ہلاکت کے بعد یوکرین پر پابندیاں لگانے کی تنبیہہ دی ہے۔ مغربی طاقتوں نے یوکرین کے صدر وکٹر یانوکووچ کو اپنے یورپین مخالفین کے ساتھ مفاہمت کرنے پر دباؤ ڈالا ہے۔

یوکرین کے صدر وکٹر یانوکووچ نے، جنہیں روس کی حمایت حاصل ہے، یوکرین کے دارالحکومت کیئو میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان ہونے والے پرتشدد واقعات کو فوجی بغاوت کی ایک کوشش قرار دیا۔ یوکرین کے صدر کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان کی سیکورٹی فورسز نے ملک بھر میں ’دہشت گردوں کے خلاف آپریشن‘ کا آغاز کر دیا ہے۔

دوسری طرف یورپی یونین کے رہنماؤں نے یوکرین میں ہونے والی پُرتشدد کارروائیوں کو ’یوکرینی حکام کی جانب سے طاقت کا بے جا استعمال‘ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ اس کریک ڈاؤن میں ملوث عہدیداروں پر ہنگامی طور پر پابندیاں عائد کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔

امریکہ نے یوکرین کے صدر پر زور دیا ہے کہ وہ مظاہرین کے ساتھ تصادم سے گریز کریں، پولیس کو واپس بلائیں اور اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کریں۔

پولینڈ کے وزیر ِاعظم ڈونلڈ ٹسک نے اندیشہ ظاہر کیا ہے اگر مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو پھر کیا ہوگا؟ مذاکرات کی ناکامی کی صورت میں یوکرین میں انارکی اور خانہ جنگی پھیلنے کا خدشہ ہے۔

گذشتہ تین ماہ سے یوکرین کے دارالحکومت میں مظاہرین نے دارالحکومت کئیو میں وقتاً فوقتاً دھرنا دے رکھا ہے۔ یہ مظاہرے یورپی یونین کے ساتھ معاہدہ نہ کرنے اور روس کے ساتھ معاہدہ کرنے کی وجہ سے کیے جا رہے ہیں۔

دوسری طرف روسی وزیر ِ خارجہ سرگئی لاوروف نے مغرب پر الزام لگایا ہے کہ وہ یوکرین میں اپوزیشن رہنماؤں کو ’قانون کی عملداری سے باہر‘ کا راستہ دکھا رہا ہے۔
XS
SM
MD
LG