رسائی کے لنکس

چین کی بحریہ کے کمانڈر وو شینگلی نے اس موقع پر امید کا اظہار کیا کہ اس اجلاس سے ایشیا بحرالکاہل کے ممالک میں کشیدگی کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔

علاقائی بحری فورم میں چین، امریکہ اور جاپان سمیت دیگر وفود نے سمندر میں حادثات اور غلط معلومات سے بچنے کے لیے قواعد و ضوابط وضع کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

منگل کو چین کے مشرقی شہر چنگڈاؤ میں شروع ہونے والے ویسٹرن پیسیفک نیول سمپوزیم میں تمام 21 رکن ممالک کے نمائندوں نے اس معاہدے پر اتفاق کیا۔

چین کی بحریہ کے کمانڈر وو شینگلی نے اس موقع پر امید کا اظہار کیا کہ اس اجلاس سے ایشیا بحر الکاہل کے ممالک میں کشیدگی کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔

"ہم امید کرتے ہیں کہ اس سمپوزیم میں بات چیت کے ذریعے خطے کی بحری قوتوں کے مابین اعتماد کو فروغ اور بات چیت کے ذریعے متوقع اہداف حاصل کر سکتے ہیں۔"

تعاون پر توجہ مرکوز ہونے کے باوجود دور روزہ سمپوزیم بیجنگ اور اس کے پڑوسیوں کے مابین عسکری تناؤ کے باعث الجھاؤ کا شکار نظر آیا۔

چین نے کثیر الاقومی بحری مشقوں میں جاپان کو مدعو کرنے سے انکار کیا تھا۔ جاپان کے مندوبین کا بھی کہنا تھا کہ سمپوزیم کے موقع پر اپنے چینی ہم منصبوں سے علیحدہ ملاقات کا ان کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

جاپان اور چین کے درمیان مشرقی بحیرہ چین میں جزائر کی ملکیت کے تنازع کے باعث حالات کشیدہ ہیں۔ بیجنگ جنگ عظیم دوئم اور اس سے پہلے ہونے والی خلاف ورزیوں پر ٹوکیو کی طرف سے معافی مانگنے پر ہچکچاہٹ کی وجہ سے برہم ہے۔

چین کے دیگر پڑوسیوں خصوصاً جنوبی بحیرہ چین سے منسلک سرحدوں والے ممالک بیجنگ پر الزام عائد کرتے ہیں کہ وہ متنازع جزائر پر اپنا حق جتانے کے لیے "غیر اخلاقی" طریقے استعمال کر رہا ہے۔

امریکی عہدیداروں کے مطابق ان کا ملک چین کے بڑھتے ہوئے بحری بیڑوں کے ساتھ کارروائی سے متعلق واضح ہدایات اور بین الاقوامی پانیوں میں کس طرح کی کارروائیاں قابل قبول ہوں اس بارے میں انتظامات سے آگاہی کا متمنی ہے۔
XS
SM
MD
LG