رسائی کے لنکس

وائٹ ہاؤس ترجمان نے کہا ہے کہ اِن ہلاکتوں سے اس بات کی فوری ضرورت اجاگر ہوتی ہے کہ لیبیا کے امن و امان کی درہم برہم صورت حال سیاسی تصفیے اور اس دہشت گرد گروہ کو مشترکہ طور پر مسترد کیے جانے کی متقاضی ہے

وائٹ ہاؤس نے لیبیا میں ایتھیوپیا کے 30 مسیحیوں کے قتل عام کے واقعے کی ’شدید الفاظ میں‘ مذمت کی ہے، جس کی ذمہ داری داعش نے قبول کی ہے۔

ایک خاتون ترجمان نے اتوار کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ اِن دہشت گردوں نے اِن افراد کو محض مذہبی بنا پر قتل کیا، کیونکہ اس بہیمانہ ظلم کے ارتکاب سے اس گروہ کی مخصوص سوچ کا اظہار ہوتا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ اِن ہلاکتوں سے اس بات کی فوری ضرورت اجاگر ہوتی ہے کہ لیبیا کے امن و امان کی درہم برہم صورت حال سیاسی تصفیے اور اس دہشت گرد گروہ کو مشترکہ طور پر مسترد کرنے کی متقاضی ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اس قتل عام کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے، داعش کے شدت پسند گروہ نے ایک خوفناک وڈیو پوسٹ کی ہے، جس میں ساحل سمندر پر ایک شخص کو سر جھکاتے اور اُن کا سر قلم کیے جانے کی حرکت کو دکھایا گیا ہے؛ جب کہ دیگر افراد کو عقب سے سر پر گولیاں ماری جا رہی ہیں۔

یہ وڈیو، اُسی نوعیت کی ہے جس طرح داعش کے شدت پسندوں نے مصر کے مسیحیوں کے سربراہان کے سرقلم کیے تھے۔

عرب لیگ کے ایک اہل کار نے فرانس کے خبر رساں ادارے، اے ایف پی کو بتایا کہ علاقے کے ممالک سے تعلق رکھنے والے فوجی سربراہان آئندہ ہفتے قاہرہ میں ملاقات کرنے والے ہیں، جس میں دولت اسلامیہ کے شدت پسندوں کے خلاف مؤثر مشترکہ فوجی طاقت تشکیل دینے پر گفتگو ہوگی۔

علاقے کے متعدد ساجھے داروں پر مشتمل امریکی قیادت والے اتحاد نے اتوار کو داعش کے مرکزی گڑھ پر حملے جاری رکھے، جس دوران عراق میں 12 فضائی کارروائیاں جب کہ شام میں ایک فضائی کارروائی کی گئی۔

ادھر، ایتھیوپیا میں، سرکاری ترجمان، رضوان حسین نے بتایا ہے کہ منظر پر آنے والی وڈیو کی تصدیق کے لیے حکام قاہرہ کے اپنے سفارت خانے سے رابطے میں ہیں۔

حسین نے بتایا کہ اُن کے خیال میں ہلاک شدگان ایتھیوپیا کے پناہ گزیں تھے، جو یورپ جانے کے ارادے سے سفر پر تھے۔

XS
SM
MD
LG