رسائی کے لنکس

لوگوں میں بڑھاپے کے بارے میں پائے جانے والا رویہ ایک دوسرے سے بہت مختلف ہے جو اس بات کی نشاندھی کرتا ہے کہ بڑھاپے کی عمر سے متعلق پایا جانے والاعام تاثر ہمیشہ ایک سا نہیں رہتا ہے بلکہ عمر کے ہر دور میں لوگوں کی رائے تبدیل ہوتی رہتی ہے

یہ خیال عام پایا جاتا ہے کہ انسان کی اصل زندگی 40 برس کی عمر کے بعد ہی شروع ہوتی ہے لیکن اب یہ کہنا بھی شاید مناسب ہوگا کہ وہ اسی عمر میں جوانی سے بڑھاپے کی جانب قدم بڑھاتا ہے۔

یہ بات ایک تحقیقی سروے کے نتیجے کے طور پر سامنے آئی ہے۔
برطانوی حکومت کی جانب سے ایک سروے لوگوں میں بڑھاپے کی عمر کے بارے میں پائے جانے والے رویے کو جانے کے لیے کیا گیا۔ اس تحقیق کے نتیجے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ 40 سال 8 ماہ وہ عمر ہے جب ہم اپنے آپ کو جوان کہنا بند کر دیتے ہیں۔

جبکہ 59 سال 2 ماہ کی عمر میں ہم بڑھاپے کی دہلیز پر قدم رکھنا شروع کرتے ہیں۔
'ڈپارٹمنٹ فار ورک اینڈ پینشن کمیشن' کی جانب سے کرائے جانے والے اس سروے میں171 ،2 مرد اور خواتین نے حصہ لیا ،جن کی عمریں 16 سال سے ذائد تھیں۔

ان لوگوں سے پوچھا گیا کہ ان کے خیال میں بڑھاپے کی صحیح عمر کون سی ہوتی ہے ؟
سروے میں شامل مرد اور خواتین نے بڑھاپے کی صحیح عمر سے متعلق متضاد رائے کا اظہارکیا، خصوصاً خواتین کی رائے مردوں کی بہ نسبت یکسر مختلف پائی گئی۔
مردوں کا عام خیال تھا کہ 38 سال اور 6 ماہ کی عمر میں انھوں نے اپنے آپ کو جوان کہنا بند کر دیا تھا۔

اس کے برخلاف، خواتین سمجھتی ہیں کہ 42 سال اور 9 ماہ وہ عمر ہے جب انھوں نے خود کو جوان سمجھنا بند کر دیا تھا۔
خواتین کے نزدیک بڑھاپے شروع ہوتا ہے 60 سال 4 ماہ کی عمر سے لیکن مردوں کی رائے میں یہ کچھ پہلے یعنی 58 سال کی عمر سے شروع ہوتا ہے۔
خواتین اور مردوں کی رائے کا مختلف ہونا اس بات کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے کہ مرد خود کو جلد بوڑھا محسوس کرنے لگتا ہے، جبکہ دیکھا گیا ہے کہ خواتین مردوں کے مقابلے میں زیادہ عمر تک جیتی ہیں۔
سروے کا حصہ بننے والے ایسے شرکا جن کی عمر 50 سال کے لگ بھگ تھی ان کی رائے میں 46 سال کی عمر سے ادھیڑپن کی عمر کا آغاز ہوتا ہے،اس کے برعکس 50 سال سے زائد عمر کے لوگوں کے مطابق 62 سال کی عمر سے بڑھاپے شروع ہو جاتا ہے۔
16سال سے 24 سال کے نوجوانوں کی رائے ان تمام لوگوں کے برخلاف نکلی جن کے مطابق 32 سال کی عمر میں جوانی کی سرحد پار کر لی جاتی ہے اور بڑھاپا 54 سال کی عمر سے شروع ہو جاتا ہے ۔ یہی سوال جب 80 سال سے زائد عمر کے افراد سے کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ 52 سال کی عمر سے جوانی کا دور ختم ہو جاتا ہے۔
ادارے کے مطابق لوگوں میں بڑھاپے کے بارے میں پائے جانے والا رویہ ایک دوسرے سے بہت مختلف ہے جو اس بات کی نشاندھی کرتا ہے کہ بڑھاپے کی عمر سے متعلق پایا جانے والا عام تاثر ہمیشہ ایک سا نہیں رہتا ہے، بلکہ عمر کے ہردور میں لوگوں کی رائے تبدیل ہوتی رہتی ہے۔
لوگوں کا معیار زندگی اور ان کی آمدنی کا فرق بھی ان کی عمروں پر اثر انداز ہوتا ہے۔
بے روزگار افراد کے بڑھاپے کا آغاز ملازمت پیشہ افراد کے مقابلے میں 9 سال قبل ہی شروع ہو جاتا ہے۔ اسی طرح کرایہ کے گھروں میں رہنے والوں کی ادھیڑپن کی عمر کا آغاز ذاتی ملکیت کے گھروں میں رہنے والوں کی نسبت 5 سال پہلے ہی شروع ہو جاتا ہے۔
50 سال سے زائد عمر کے گروپ سے روس الٹمین کا کہنا تھا کہ سروے کا نتیجہ اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ لوگوں کو بڑھاپے کا احساس تب ہوتا ہے، جب وہ پہلے ہی سے اس میں قدم رکھ چکے ہوتے ہیں۔

خاص طور پر ایسے لوگ جو جوانی سے ادھیڑ عمر کی جانب قدم رکھتے ہیں، ان کے لیے اس حقیقت کو ماننا ذرا مشکل ہوتا ہے اوریہ ہی خیال کرتے رہتے ہیں کہ وہ ابھی جوان ہیں۔
سروے کے نتائج کے مطابق خواتین اور مردوں کی رائے میں بہت فرق دیکھا گیا اور ساتھ ہی نوجوانوں میں پایا جانے والا رویہ کافی پریشان کن ہے جہاں ان کی رائے کے مطابق بوڑھے لوگ معاشرے کے لیے کارآمد شہری نہیں رہتے ہیں، جو کہ سہی نہیں ہے۔
خواتین سے ان کی عمر پوچھنا کوئی مناسب بات نہیں ہو گی۔ مگر، حالیہ برسوں میں مرد اپنی آمدنی کے ساتھ ساتھ اپنی عمر بھی چھپانے لگے ہیں۔ اگر آپ ہماری بات سے متفق نہیں ہیں تو بتائیے آپ کی عمر کیا ہے؟


تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG