رسائی کے لنکس

حالات کی وجہ سے موسیقی ترک کرنا پڑی: وزیر آفریدی


خیبر پختونخواہ کے گلوکار کہتے ہیں کہ پہلے میوزک کنسرٹس کھلی جگہوں پر ہوتے تھے لیکن اب دھماکوں کے خوف سے گھروں میں محدود پیمانے پر اور بہت کم کم فنکشنز ہوتے ہیں۔

پاکستان کا صوبہ خیبر پختونخوا یوں تو صدیوں سے مخصوص روایات اور ثقافتی اقدار کا گہوارہ رہا ہے لیکن گزشتہ کچھ سالوں سے اس کے قبائلی علاقوں میں اپنی ثقافت کے ساتھ جڑے رہنا ممکن نہیں رہا۔ اور جو لوگ ایسا کرتے ہیں انہیں یا تو دنیا چھوڑنی پڑتی ہے یا پھر علاقہ۔

خیبر ایجنسی کا شمار بھی ایسے ہی علاقے میں ہوتا ہے جہاں کبھی رباب کی دھنوں پر لوک موسیقی کی تانیں گونجا کرتی تھیں لیکن اب ان کی جگہ مارٹر گولوں کی آوازوں نے لے لی ہے اور امن و امان کی ابتر صورتحال کی وجہ سے موسیقی سے وابستہ افراد مارے مارے پھرنے پر مجبور ہیں۔

خیبر ریڈیو سن سن کر بچپن سے جوانی میں قدم رکھنے والے 32سالہ وزیر آفریدی کا شمار ایک زمانے میں خیبر ایجنسی کے بہترین گلوکاروں اور میوزیشنز میں شامل کیا جاتا تھا اور کوئی بھی فنکشن ان کے گانوں کے بغیر ادھورا تصور کیا جاتا تھا۔ وہ اب بھی اس وقت کو یاد کرتے ہیں جب موسیقی سننے میں کچھ پابندیاں ضرور تھیں لیکن جان کاخطرہ نہیں تھا۔ اب وزیر آفریدی موسیقی ترک کرکے ایک فیکٹری میں کام کرتے ہیں۔

روزنامہ ’ایکسپریس ٹربیون‘ کے مطابق2006 میں باڑہ میں سیکورٹی حالات خراب ہوگئے تھے اور کالعدم تنظیم لشکر اسلامی نے وزیر آفریدی کو اغوا کر کے نجی جیل میں قید کر دیاتھا۔ انہیں چند دن بعد دس لاکھ جرمانہ لے کر اس وارننگ کے ساتھ رہا کیا گیا کہ وہ گانا نہیں گائیں گے۔

’میں گانے اور موسیقی کا شیدائی تھا اور اسے چھوڑنا میرے لئے بہت مشکل تھا اس لئے میں اپنا آبائی علاقہ چھوڑ دیا۔‘ وزیر آفریدی نے بتایا۔

لیکن اس ہجرت کا بھی کوئی فائدہ نہیں ہوا کیونکہ وزیر آفریدی کو پانچ ماہ بعد ایک مرتبہ پھر یرغمال بنا لیا گیا اور اس دفعہ پہلے سے زیادہ تاوان کا مطالبہ کیا گیا۔ وزیر کے مطابق ان کے پاس تاوان کے پیسے نہیں تھے اس لئے رشتے داروں نے چندہ کر کے پیسے جمع کئے جس کے بعد انہیں رہائی نصیب ہوئی۔رہائی پاتے ہی وزیر اپنے علاقے سے نکل گئے اور پچھلے پانچ سال سے واپس نہیں گئے۔

کچھ ایسی ہی کہانی خیبر ایجنسی کے مشہور گلوکار حنیف آفرید ی کی بھی ہے جو اب گانا بھول کر پشاور میں ٹیکسی چلا کررہے ہیں۔ وزیر کی طرح انہیں بھی اغوا کر کے پرائیوٹ جیل میں رکھا گیا اور ان کے سامنے تین آپشن رکھے گئے۔ پچاس ہزار روپے تاوان ادا کرو، چار مہینے تبلیغ پر جاؤ یا پھر علاقہ چھوڑ دو۔

حنیف کا کہنا تھا کہ میں غریب آدمی ہوں ۔میرے پاس پچاس ہزار روپے نہیں تھے اس لئے میں نے اپنا گھربار چھوڑ کر ہجرت کر لی اور اب وہ پشاور کے قریب دو کمروں کے گھر میں سات فیملی ممبرز کے ساتھ رہ رہے ہیں۔ پورا دن ٹیکسی چلا کر جو کچھ کماتے ہیں اسے ٹیکسی کے مالک کو دے کر ان کے پاس صرف 300روپے بچتے ہیں۔

ہجرت کی کہانی صرف وزیر اور حنیف تک محدود نہیں بلکہ باڑہ سے تعلق رکھنے والے زیادہ تر میوزیشن اور گلوکار یا تو خیبر ایجنسی چھوڑ چکے ہیں یا پھر اس پروفیشن کو ہمیشہ کے لئے خیرباد کہہ چکے ہیں۔

حنیف کہتے ہیں ”’ایک وقت تھا جب ہمیں شادیوں اور دیگر فنکشنز میں بلوایا جاتا تھا اور لوگ ہمارے شوز میں دلچسپی لیتے تھے لیکن اب شدت پسندوں کے ڈر سے لوگ اپنے موبائل فونز تک میں گانے نہیں رکھتے۔“

خیبر ایجنسی کے ممتاز رباب نواز محبت خان آفریدی کہتے ہیں کہ باڑہ میوزک کی سرگرمیوں کا گڑھ تھا۔ ان حالات میں پختون کلچر کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا ہے اور ثقافتی لحاظ سے یہ علاقے ویران ہوچکے ہیں۔

محبت خان بھی آبائی علاقہ چھوڑ کر اب سربند کے علاقے میں رہائش پذیر ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ پہلے میوزک کنسرٹس کھلی جگہوں پر ہوتے تھے لیکن اب دھماکوں کے خوف سے گھروں میں محدود پیمانے پر اور بہت کم کم فنکشنز ہوتے ہیں۔
XS
SM
MD
LG