رسائی کے لنکس

محققین کے لیے نتائج حیران کن تھے جس سے اندازا لگایا جا سکتا تھا کہ کاروباری پس منظر نا رکھنے والے والدین کے آخری نمبر کے بچوں میں مستقبل میں کاروبار سے منسلک خطرات کو گلے لگانے کا تقریباً 50 فیصد زیادہ امکان تھا۔

بچوں کی پیدائش کی ترتیب کے اثرات پر مبنی ایک نئے جائزے سے پتا چلتا ہے کہ غیر کاروباری والدین کے گھر پیدا ہونے والے آخر کے بچوں میں بڑے بہن بھائیوں کے مقابلے میں کاروبار میں جانے کے امکانات زیادہ ہیں۔

برطانیہ کی برمنگھم یونیورسٹی اور ریڈنگ یونیورسٹی کی قیادت میں کیے جانے والے مطالعے کے لیے محققین نے 1970ء میں پیدا ہونے والے 17,000ب بچوں کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا جنھیں 38 سال کی عمر میں دوبارہ مطالعے میں شامل کیا گیا تھا۔

محققین کے لیے نتائج حیران کن تھے جس سے اندازا لگایا جا سکتا تھا کہ کاروباری پس منظر نا رکھنے والے والدین کے آخری نمبر کے بچوں میں مستقبل میں کاروبار سے منسلک خطرات کو گلے لگانے کا تقریباً 50 فیصد زیادہ امکان تھا۔

یہ اعداد و شمار کاروباری تجربہ رکھنے والے والدین کے آخری بچوں کے لیے 65 فیصد تک تھا لیکن اس کے باوجود کاروباری خاندان کے بڑے بچوں کے مقابلے میں چھوٹے بہن بھائیوں میں کاروبار کو پیشہ بنانے کا امکان کم تھا۔

انفرادی اختلافات کے مطالعے کے لیے بین الاقوامی سوسائٹی کے سرکاری جریدے 'پرسنالٹی اینڈ انڈیویجویل ڈیفرینسس' میں شائع ہونے والے مطالعے کی اہم مصنف پروفیسر فرانسس گرین نے کہا کہ ہم بہت عرصے سے یہ جانتے ہیں کہ کاروباری خاندانوں میں نسل در نسل منتقل ہوتا ہے لیکن جو چیز کم واضح تھی کہ کون سے بچے میں والدین کی پیروی کرنے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ہماری تحقیق بتاتی ہے کہ اگر آپ کے والدین کے پاس کاروباری تجربہ نہیں تھا اور آپ گھر کے آخری بچے تھے تو آپ میں اپنے بڑے بہن بھائیوں کے مقابلے میں کاروبار کو بطور کیرئیر اپنانے کے امکانات زیادہ تھے۔

تاہم پیدائش کی ترتیب کے اثرات اس وقت ڈرامائی طور پر تبدیل ہو گئے جب محققین نے ان بچوں کو دیکھا جن کے والدین پہلے سے کاروبار کر رہے تھے۔ نتائج سے واضح تھا کہ کاروباری گھرانوں میں پیدا ہونے والے آخری بچوں کا کاروبار میں والدین کی پیروی کرنے کا امکان 18 فیصد کم تھا۔

جبکہ بڑے اور منجھلے بچوں میں والدین کی طرح کاروبار میں جانے کے اعلیٰ ترین امکانات تھے اور پہلے اور دوسرے بچے کے لیے یہ امکانات بالترتیب 115 اور 118 فیصد تک موجود تھے۔

تحقیق کے ایک اور اہم محقق ڈاکٹر لیانگ ہان جن کا تعلق ریڈنگ یونیورسٹی سے تھا کہ ہمارے نتائج کا ایک مطلب یہ ہے کہ کاروباری خاندانوں میں کاروباری مالکان کو یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ وہ کس طرح اپنا جانشین مقرر کرنے کے لیے پیدائش کی ترتیب کے نظریے کا استعمال کر سکتے ہیں۔

محققین نے کہا کہ پہلا اور دوسرا بچہ خاندانی کاروبار کو سنبھالنے کے حوالے سے زیادہ ذمہ دار ہو سکتا ہے کیونکہ وہ اس سے زیادہ واقف ہوتا ہے لیکن ممکن ہے کہ آخر میں پیدا پونے والے بچوں کی خطرات لینے کی خصلتیں انھیں کاروبار میں جانے کی طرف آمادہ کرتی ہیں۔

XS
SM
MD
LG