رسائی کے لنکس

اس سروے کے مطابق اب امریکہ میں پروٹسٹنٹ فرقے کی اکثریت نہیں۔ 2014 میں صرف 47 فیصد امریکیوں نے اپنی شناخت پروٹسٹنٹ ظاہر کی۔

سفید فام مسیحی طویل عرصے سے امریکی سیاست میں طاقتور اور بااثر رہے ہیں۔ صدر براک اوباما کے علاوہ امریکہ کے تمام 43 صدور سفید فام مسیحی گھرانوں سے تعلق رکھتے تھے۔ صدر اوباما کی والدہ سفید فام تھیں جبکہ ان کے والد سیاہ فام تھے۔

تاہم اب امریکی معاشرت میں تبدیلی آ رہی ہے۔ ایک زمانے میں سفید فام مسیحی ملک میں تقریباً ہر جگہ اکثریت میں تھے مگر پبلک ریلیجن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (پی آر آر آئی) کے ایک سروے کے مطابق اب سفید فام مسیحی ملک کی 19 ریاستوں میں اقلیت میں ہیں۔

پی آر آر آئی کی تعریف کے مطابق ’’سفید فام مسیحی‘‘ اناجیلی عقائد رکھنے والے پروٹسٹنٹ، عام پروٹسٹنٹ، کیتھولک یا قدامت پسند مسیحی عقائد رکھنے والے ایسے امریکی ہیں جو خود کو ’’غیر ہسپانوی، سفید فام‘‘ کہتے ہیں۔

اس سروے کے مطابق اب امریکہ میں پروٹسٹنٹ فرقے کی اکثریت نہیں۔ 2014 میں صرف 47 فیصد امریکیوں نے اپنی شناخت پروٹسٹنٹ ظاہر کی۔

پی آر آر آئی کے سربراہ رابرٹ پی جونز نے کہا کہ ’’اب بہت سے لوگ ایسے ہیں جو پروٹسٹنٹ گھروں میں پلے بڑھے ہوئے مگر اب اس فرقے سے غیر وابستہ ہیں۔ پھر نسلی اعتبار سے بھی ملک کی آبادی میں تبدیلیاں واقع ہوئی ہیں جس کی وجہ سے ملک بھر میں پروٹسٹنٹ فرقے میں تخفیف ہوئی ہے۔‘‘

نسلی اعتبار سے آبادی میں جو تبدیلیاں ہوئی ہیں ان میں کیتھولک فرقے کی غیر سفید فام آبادی میں اضافہ شامل ہے۔ امریکہ میں اب کیتھولک فرقے کے زیادہ پیروکار ہسپانوی ہیں اور اناجیلی عقائد رکھنے والوں میں بھی غیر سفید فام افراد زیادہ ہیں۔

اب بھی 76 فیصد امریکی اپنی شناخت مسیحی ظاہر کرتے ہیں مگر امریکہ کی غیر مسیحی اور غیر یہودی آبادی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ملک کی پانچ فیصد آبادی اسلام، بدھ مت، ہندومت یا کسی دوسرے مذہب سے تعلق رکھتی ہے۔

اس تنوع میں ان مریکیوں کی بڑھتی ہوئی آبادی سے مزید اضافہ ہو گیا ہے جو خود کو کسی بھی مذہب سے غیر وابستہ قرار دیتے ہیں۔ شمال مغربی بحرالکاہل سے لے کر الاسکا، اوریگون اور واشنگٹن ریاست تک ایک نام نہاد ’’بےچرچ‘‘ پٹی پھیلی ہوئی ہے۔ بہت سے لوگ ایسے ہیں جو کسی بھی مذہب سے وابستہ نہیں اور ملک کی 13 ریاستوں میں ’’مذہب سے غیر وابستہ‘‘ افراد کی آبادی سب سے زیادہ ہے۔

آنے والے سالوں میں مذہب سے غیر وابستہ امریکی سیاست میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اسّی اور نوے کی دہائی میں سیاسی بحث مذہبی بمقابلہ غیر مذہبی کے گرد گھومتی تھی۔ مگر اب اس میں تبدیلی واقع ہو سکتی ہے۔

XS
SM
MD
LG