رسائی کے لنکس

کانفرنس میں خلیجی سربراہوں کی عدم شرکت 'سرد مہری' نہیں: امریکہ


ترجمان جوش ارنسٹ

ترجمان جوش ارنسٹ

چھ ممالک میں سے صرف کویت اور قطر کے سربراہان کانفرنس میں شریک ہو رہے ہیں بحرین، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور اومان اپنے سینیئر عہدیداروں کو کانفرنس میں اپنی نمائندگی کے لیے بھیج رہے ہیں۔

وائٹ ہاوس نے ان اطلاعات کو مسترد کیا ہے کہ جمعرات کو کیمپ ڈیوڈ میں ہونے والی کانفرنس میں خلیجی رہنماوں کی غیر حاضری کسی سرد مہری کو ظاہر کرتی ہے اور اس سے امریکہ اور خلیج تعاون کونسل کے مابین سلامتی کے تعلقات کے تناظر میں منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

سعودی عرب نے اتوار کو کہا کہ بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز 14 مئی کو ہونے والی کانفرنس میں شرکت نہیں کریں گے۔

وزیرخارجہ عادل الجبیر کا کہنا تھا کہ اس کانفرنس میں ولی عہد شہزادہ محمد بن نائف شریک ہوں گے۔

لیکن اس اعلان سے قبل ہی خلیجی ریاستوں کی طرف سے اپنے حریف ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق امریکہ کی زیرقیادت مذاکرات کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔

سعودی عرب کے فرمانروا کی کانفرنس میں عدم شرکت کا معاملہ وائٹ ہاوس کی نیوز بریفنگ پر غالب رہا، جہاں ترجمان جوش ارنسٹ نے صحافیوں کو بتایا کہ "انھیں بعض قیاس آرائیوں کے بارے میں علم ہے یہ امریکہ کو کسی قسم کا پیغام دینے کی کوشش ہے۔ لیکن اگر ایسا ہے تو ایسا کوئی پیغام موصول نہیں ہوا کیونکہ سعودیوں کی جو رائے ہم تک پہنچی ہے وہ بہت مثبت ہے۔"

خلیج تعاون کونسل کے چھ ممالک میں سے صرف کویت اور قطر کے سربراہان کانفرنس میں شریک ہو رہے ہیں بحرین، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور اومان اپنے سینیئر عہدیداروں کو کانفرنس میں اپنی نمائندگی کے لیے بھیج رہے ہیں۔

وائٹ ہاوس کا کہنا تھا کہ شاہ سلمان نے پیر کو صدر اوباما سے فون پر بات کی اور واشنگٹن نہ آسکنے پر معذرت کرتے ہوئے بتایا کہ ولی عہد شہزادہ محمد اور نائب ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان، جو کہ بادشاہ کے صاحبزادے اور ملک کے وزیردفاع بھی ہیں، سعودی عرب کی نمائندگی کریں گے۔

دونوں رہنماوں نے ایران سے جوہری مذاکرات اور یمن کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

قومی سلامتی سے متعلق صدر اوباما کے نائب مشیر بین روہڈز کا کہنا ہے کہ کانفرنس میں سعودی عرب اور دیگر پانچ ملکوں کی خاطر خواہ نمائندگی ہوگی۔

XS
SM
MD
LG