رسائی کے لنکس

ملا عمر کی موت کی اطلاعات 'قابلِ اعتبار' ہیں، امریکہ


Mullah Omar

Mullah Omar

'وہائٹ ہاؤس' کے ترجمان ایرک شلٹز نے کہا ہے کہ امریکہ کے انٹیلی جنس حلقے ان حالات کا جائزہ لے رہے ہیں جن میں ملا عمر کی موت واقع ہوئی۔

امریکہ نے افغان طالبان کے سربراہ ملا محمد عمر کے وفات کی خبروں کو "معتبر" قرار دیتے ہوئے طالبان پر زور دیا ہے کہ وہ افغان امن عمل میں شریک ہوں۔

بدھ کو واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے 'وہائٹ ہاؤس' کے ترجمان ایرک شلٹز نے کہا کہ امریکہ کے انٹیلی جنس حلقے ان حالات کا جائزہ لے رہے ہیں جن میں ملا عمر کی موت واقع ہوئی۔

لیکن ترجمان نے افغان حکام کے اس دعوے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا جس کے مطابق ملا عمر کا انتقال اپریل 2013ء میں پاکستان کے شہر کراچی میں ہوا تھا۔

بدھ کو مغربی ذرائع ابلاغ میں ملا محمد عمر کی وفات کی اطلاعات سامنے آئی تھیں جن کی بعد ازاں افغان حکومت نے تصدیق کردی تھی۔

پاکستان کی حکومت اور فوج نے تاحال اس خبر پر کوئی ردِ عمل ظاہر نہیں کیا ہے۔ افغان حکومت اور مغربی انٹیلی جنس ایجنسیاں پاکستان کےخفیہ ادارے اور فوج کے ملا عمر سے رابطوں اور طالبان رہنما کی پاکستان میں موجودگی کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔

امریکی محکمۂ خارجہ نے بھی ملا عمر کی ہلاکت کی خبروں کو "قابلِ اعتبار" قرار دیتےہوئے کہا ہے کہ محکمہ طالبان رہنما کی موت کے حالات پر فی الحال کوئی تبصرہ نہیں کرے گا۔

اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے نائب ترجمان مارک ٹونر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ طالبان کو حقیقی امن کےقیام اور اپنی زندگیوں کو پرامن طور پر گزارنے کا ایک موقع میسر آیا ہے جس سے انہیں فائدہ اٹھانا چاہیے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ طالبان افغان حکومت کی جانب سے دی جانے والی امن عمل میں شرکت کی دعوت قبول کرسکتے ہیں جس کے نتیجے میں وہ ایک خود مختار اور متحد افغانستان کے سیاسی عمل میں شریک ہوسکیں گے جسے عالمی برادری کی حمایت حاصل ہے۔

XS
SM
MD
LG