رسائی کے لنکس

ضرورت پڑی تو لیبیا میں داعش کے خلاف کارروائی کی جائے گی: امریکہ


ترجمان جوش ارنسٹ (فائل فوٹو)

ترجمان جوش ارنسٹ (فائل فوٹو)

ارنسٹ نے اس بارے میں جواب دینے سے انکار کیا کہ آیا صدر اوباما نے لیبیا میں زمینی دستے بھیجنے کے امکان کے متعلق کوئی فیصلہ کیا ہے یا نہیں۔

وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ لیبیا میں داعش کے خطرے سے نمٹنے کے لیے اگر ضرورت ہوئی تو امریکہ اس کے خلاف کارروائی کر ے گا۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان جو ش ارنسٹ نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ امریکی صدر براک اوباما کو انہتا پسند گروپ داعش کے لیبیا میں پھیلنے کے خطرے سے مسلسل آگاہ رکھا جارہا ہے اور ان کے بقول "اگر امریکہ نے امریکی شہریوں کی لیے ضروری سمجھا تو اس کے لیے صدر (داعش) کے خلاف یک طرفہ کارروائی سے گریز نہیں کریں گے"۔

ارنسٹ نے اس بارے میں جواب دینے سے انکار کیا کہ آیا صدر اوباما نے لیبیا میں زمینی دستے بھیجنے کے امکان کے متعلق کوئی فیصلہ کیا ہے یا نہیں تاہم انہوں نے کہا کہ صدر نے "ایک فیصلہ کن کارروائی کرنے کے متعلق رضامندی کا اظہار کیا ہے" اور یہ لیبیا میں بھی ہو سکتی ہے۔

داعش کے جنگجو لیبیا کی تیل کی تنصیبات پر حملے کر چکے ہیں اور انہوں نے اس ملک میں طاقت کے خلا کا فائدہ اٹھاتے ہوئے سرت شہر میں اپنے قدم جمالیے ہیں جہاں دو متوازی حکومتیں ایک دوسرے پر برتری کے لیے برسر پیکار ہیں۔

اس بات کی توقع کی جارہی ہے کہ لیبیا میں یہ دونوں حریف حکومتیں ایک اتحادی حکومت بنائیں گی۔

ارنسٹ نے کہا کہ امریکہ قومی سلامتی کے مختلف امور میں اس اتحادی حکومت کی حمایت کرے گا تاہم یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ اس حمایت کی نوعیت کیا ہو گی۔

XS
SM
MD
LG