رسائی کے لنکس

نیومیکسیکو کا سفید ریت کا صحرا: مناظر فطرت کا ایک عظیم شاہکار


نیومیکسیکو کا سفید ریت کا صحرا: مناظر فطرت کا ایک عظیم شاہکار

نیومیکسیکو کا سفید ریت کا صحرا: مناظر فطرت کا ایک عظیم شاہکار


کرہ ارض پر جابجا فطرت کے ایسے مظاہر بکھرے پڑے ہیں جو نظروں کو خیرہ اور دل و دماغ کو اپنی جانب کھینچ لیتے ہیں۔ قدرت کے ان عظیم عجائبات میں جنوب مغربی امریکی ریاست نیو میکسیکو میں واقع وسیع و عریض رقبے پر پھیلا ہوا ایک صحرابھی شامل ہے۔ جہاں اجلی ریت کے بگولے رقص کرتے دکھائی دیتے ہیں اور ہوا کی لہروں کے ساتھ روشن ریت کے چھوٹے بڑے ٹیلے خانہ بدوشوں کی طرح اپنی جگہ بدلتے ہیں۔

نیومیکسیکو کے اس ریگ زار کا شمار امریکہ کے سفید شفاف ریت کے سب سے بڑے صحرا کے طورپر ہوتا ہے ،جہاں ریت پر قطاراندرقطار بنی ہوئی لہریں سمندر کی سطح پر بننے والی لہروں جیسی دکھائی دیتی ہیں۔ جب وہاں آندھی چلتی ہیں تو ریت اپنے راستے میں آنے والی ہر چیز کو ڈھانپ دیتی ہے۔

چمکیلی سفید ریت کے ٹیلوں نے وہاں کے ماحول پر اپنے گہرے اثرات ڈالے ہیں اور وہاں پودوں اور جانوروں کو سخت موسمی حالات میں زندہ رہنے کے لیے سخت جدوجہد کرنا پڑتی ہے۔ اس صحرا میں کچھ ایسے پودے اگتے ہیں جن میں یہ خوصیات ہوتی ہیں کہ ان کی تیزی سے نشوونما ہوتی ہے تاکہ اس سے پہلے کہ ٹیلے اپنی جگہ بدلیں، وہ پھل پھول سکیں۔ اسی طرح وہاں بہت سے ایسے چھوٹے چھوٹے جانور پائے جاتے ہیں جن کی رنگت ریت کی ہی طرح سفید ہوتی ہے تاکہ وہ ریت میں چھپ کر خود کو ان نظروں سے بچا سکیں جو ان کے شکار کے تعاقب میں ہوتی ہیں۔

نیومیکسیکو کے اس صحرا کو ،جسے سفید ریت کی قومی یادگار کہاجاتا ہے، دیکھنے کے لیے ہرسال پانچ ہزار سے زیادہ سیاح آتے ہیں اور وہ اجلی ریت کے ٹیلوں پر چڑھ کرریت کے سمندر میں متحرک بگولوں اور ٹیلوں کا نظارہ کرتے ہیں۔

کرہ ارض کا یہ عظیم قدرتی عجوبہ کیسے وجود میں آیا؟ یہ جاننے کے لیے ہمیں تاریخ میں بہت پیچھے جانا پڑے گا۔ یہ ذکر ہے آج سے تقریباً 25 کروڑ سال پہلے کا۔ اس زمانے میں یہ علاقہ ایک بڑے سمندر کی تہہ تھا۔ یہاں پر چونے اور گندھک کی معدنیات بڑی مقدار میں موجود تھیں۔ وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ یہاں کا پانی آہستہ آہستہ خشک ہوگیا اور چونے اور گندھک کی معدنیات نے جپسم کی چٹانوں کی شکل اختیار کرلی۔
تقریباً سات کروڑ سال پہلے زمین کی سطح میں آنے والی قدرتی تبدیلیوں کے باعث یہ چٹانیں دوپہاڑی سلسلوں میں ڈھل گئیں۔ وقت مزید آگے بڑھا اور ان دو پہاڑی سلسلوں کے درمیان واقع زمین میں بریدگی کا عمل شروع ہوا اور اس جگہ نے ایک پیالے جیسی شکل اختیار کرلی۔

لگ بھگ 24 ہزار سال پہلے اس علاقے میں شدید بارشیں ہوئیں جس سے پہاڑی سلسلوں کے درمیان واقع یہ پیالہ بھر گیا اورا س طرح جھیل اوٹیرو وجود میں آگئی۔ بارشوں کا پانی پہاڑوں پر سےجپسم اپنے ساتھ بہا کر جھیل میں لے گیا۔

وقت مزید آگے بڑھا اور جھیل اوٹیرو مکمل طورپر خشک ہوگئی۔ لیکن سفید جپسم وہاں باقی رہ گیا۔ پھر وہاں تیز ہواؤں اور آندھیوں کا دور شروع ہوا جو کئی ہزار سال تک جاری رہا۔ ہوا کے تھپیڑوں نے جپسم کو ریزہ ریز ہ کرکے ریت کی شکل دے دی۔ اورپھر جب ہوا رکتی تھی تو اس جگہ پر سفید ذرات سے ٹیلے بن جاتے تھے۔

سفید ریت کی اس قومی یادگار میں موجود ریت عام ریت سے مختلف ہے کیونکہ یہ جپسم سے بنی ہوئی ہے۔ عام ریت پانی میں حل نہیں ہوتی جب کہ جپسم آسانی سے حل ہوجاتا ہے۔

جپسم کے ذرات جب ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں تو ان کی سطح پر لہریں سی بن جاتی ہیں ۔ یہ لہریں روشنی پڑنے پر چمکنے لگتی ہیں جس سے وہ سفید دکھائی دیتی ہیں۔ جپسم کے ٹیلے سفید برف کے بڑے بڑے گولوں جیسے دکھائی دیتے ہیں لیکن وہ برف کی طرح ٹھنڈے ہوتے ہیں اور نہ ہی گیلے۔ اس علاقے میں سالانہ صرف اٹھارہ سینٹی میٹر بارش ہوتی ہے۔ یہاں گرمیوں میں شدید گرمی پڑتی ہے۔

سفید ریت کی قومی یادگار میں تقریباً چار سو قسموں کے جانور پائے جاتے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر پرندے اور کیڑے مکوڑے ہیں۔ یہاں پر 26 اقسام کے رینگنے والے جانور بھی رہتے ہیں جن میں سانپ اور چھپکلیاں بھی شامل ہیں۔ یہاں چالیس سے زیادہ اقسام ایسے جانور بھی موجود ہیں جو اپنے بچوں کو دودھ پلاتے ہیں۔ ان میں خرگوش، بھیڑیئے اور لومڑ شامل ہیں۔

دنیا کے قدرتی عجائبات میں شمار کیا جانے والا یہ صحرا ریاست نیو میکسیکو کے جنوب مشرقی شہر الاموگورو سے تقریباً 24 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ وہاں صحرا کے لیے ایک سیاحتی مرکز بھی موجود ہے جہاں سیاحت کے حوالے سے تمام معلومات فراہم کی جاتی ہیں۔

XS
SM
MD
LG