رسائی کے لنکس

احتیاط لازم ہے، ڈینگی بخار جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے

  • شہناز نفیس

احتیاط لازم ہے، ڈینگی بخار جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے

احتیاط لازم ہے، ڈینگی بخار جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے

عالمی ادارہٴ صحت کے مطابق، ڈینگی بخار 100سے زیادہ ممالک میں لوگوں کی صحت کے لیے خطرہ ہے۔ اِس بیماری کی علامات نزلہ و زکام کی علامات سے ملتی جلتی ہیں۔ اِس میں، تیز بخار کے ساتھ آنکھوں میں درد کے علاوہ جوڑوں کا درد کئی ہفتوں تک رہتا ہے

عالمی ادارہٴ صحت کے مطابق ہر سال تقریباً 50لاکھ لوگ ڈینگی فیور میں مبتلا ہوجاتے ہیں اور مزید تقریباً ڈھائی کروڑ لوگوں کا اِس مرض میں مبتلا ہونے کا ہر وقت خدشہ رہتا ہے، جو مچھروں کےباعث پھیلتا ہے۔

ڈینگی بخار 100سے زیادہ ممالک میں لوگوں کی صحت کے لیے ایک خطرہ ہے۔ اِس بیماری کی علامات نزلہ و زکام کی علامات سے ملتی جلتی ہیں۔ اِس میں تیز بخار کے ساتھ آنکھوں میں درد کے علاوہ جوڑوں کا درد کئی ہفتوں تک رہتا ہے۔

عالمی داراہٴ صحت سے منسلک ایک ڈاکٹر کے مطابق ڈینگی بخار کی ایک صورت جسے’ بیک بون فیور‘ کہا جاتا ہے، مہلک ہوسکتی ہے۔

عام طور پر إِس کے ایک یا دو فی صد مریض ’ ہیموریک فیور‘ کی خطرناک بیماری میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ اِس بیماری سے’ کیپیلریز لیک‘ کرنا شروع کرتی ہیں، جس سے موت واقع ہوسکتی ہے۔ اِس صورت ِ حال کو روکا جاسکتا ہے، لیکن کچھ کیسز میں جسم کے بعض اعضاٴ فیل ہونے کی وجہ سے مریض فوت ہوجاتا ہے۔

اس وبائی بیماری کی روک تھام کے لیے ابھی تک کوئی ویکسین ایجاد نہیں ہوئی ، نہ ہی اس بیماری کے علاج کے لیے کوئی خاص دوا موجود ہے۔ اِس سے بچنے کا واحد طریقہ مچھروں کا خاتمہ کرنا اور خود کو مچھروں کے کاٹنے سے محفوظ رکھنا ہے۔

آڈیو رپورٹ سنیئے:

XS
SM
MD
LG