رسائی کے لنکس

عالمی ادارہٴصحت کے اندازوں کے مطابق، تمباکو کے استعمال کے نتیجے میں بیماری کے باعث ہر سیکنڈ میں ایک فرد فوت ہوتا ہے۔۔۔ جس کا مطلب یہ ہوا کہ سالانہ تقریباً 60 لاکھ قبل از وقت اموات واقع ہوتی ہیں

عالمی ادارہٴصحت نے تمباکو کی مصنوعات کی غیر قانونی تجارت کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے، جس کے باعث سالانہ 31 ارب ڈالر کا منافعہ ضائع جاتا ہے۔

اکتیس مئی کو تمباکو نوشی ترک کرنے کا سالانہ دِن منایا جا رہا ہے۔ امریکی ادارے نے رکن ممالک سے اِس ناجائز تجارت کے خاتمے کے بارے میں بین الاقوامی معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے کہا ہے۔

’وائس آف امریکہ‘ کی نمائندہ، لیزا شلائن نے عالمی ادارہٴصحت کے جنیوا کے صدر دفتر سے رپورٹ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ممنوعہ سگریٹوں اور تمباکو کی دیگر مصنوعات اسمگل کرنے والے راتوں رات امیر، جب کہ باقی تمام ڈیلر غریب ہوتے جا رہے ہیں۔

شہر کے کسی کونے پر سگریٹ بیچنے والا بیشک ایک سگریٹ ارزاں نرخ پر فروخت کرتا ہوگا، لیکن یہ کاروبار صحت کے لیے مضر ثابت ہو رہا ہے۔

عالمی ادارہٴصحت کے اندازوں کے مطابق، تمباکو کے استعمال کے نتیجے میں بیماری کے باعث ہر سیکنڈ میں ایک فرد فوت ہوتا ہے۔

جس کا مطلب یہ ہوا کہ سالانہ تقریباً 60 لاکھ قبل از وقت اموات واقع ہوتی ہیں۔

ادارے کی پیش گوئی کے مطابق، یہ تعداد بڑھتی رہے گی اور سال 2030میں سالانہ 80 لاکھ سے زائد افراد موت کے منہ میں چلے جائیں گے، اگر عالمی سطح پر تمباکو کی وبا کو ختم کرنے کے لیے کوئی اقدام نہ کیا گیا۔ اس میں سے 80 فی صد سے زائد اموات اُن ملکوں میں واقع ہوں گی جو یا تو غریب ہیں یا پھر متوسط آمدن والے ملک ہیںٕ۔

عالمی ادارہٴصحت کے متعدی امراض کے شعبے کے سربراہ، ڈگلس بیچر نے تمباکو کی ناجائز تجارت کو ’کئی سَروں والا عفریت‘ قرار دیا ہے۔

ادارے نے کہا ہے کہ کم آمدن والے ملکوں کا کھپت سے حاصل ہونے والے محصول پر بے انتہا انحصار ہوتا ہے، جب کہ تمباکو کا ناجائز کاروبار اُن کی کمائی معدوم کر دیتا ہے، جو رقوم عوام کے بھلے کے لیے فراہم کیے جاتے، جِن میں صحت کی دیکھ بھال بھی شامل ہے۔

ایجنسی کا کہنا ہے کہ عدالت کے سامنے پیش ہونے والے مقدمات میں اس صنعت کی داخلی دستاویزات سے تمباکو کی صنعت کی جانب سے متحرک طور پر عالمی سطح پر پرورش کردہ ناجائز کاروبار کا پتا چلتا ہے۔

تمباکو کنٹرول دفتر میں عالمی ادارہٴصحت کے خدو خال تشکیل دینے کے کام سے وابستہ سربراہ، ویرا دا کوسٹا سلوا نے کہا ہے کہ تمباکو کی صنعت اور صحت کا شعبہ ’ناقابل مفاہمت‘ معاملے سے دوچار ہے۔

تمباکو کی اشیا کی ناجائز تجارت کے خاتمے کے معاہدے کی اب تک آٹھ ملک توثیق کر چکے ہیں۔ کم از کم 40 ملکوں کی جانب سے اس کی توثیق کے بعد ہی یہ ایک بین الاقوامی قانون کا درجہ حاصل کر پائے گا۔

XS
SM
MD
LG