رسائی کے لنکس

جس طرح انتخابی نظام تیار کیا گیا ہے اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اس وقت لندن میئر کے عہدے کی دوڑ میں صادق خان اور زیک گولڈ اسمتھ اہم اُمیدوار ہیں۔

جمعرات کو انگلینڈ بھر میں بلدیاتی انتخابات ہو رہے ہیں جب کہ دارالحکومت لندن کے میئر کے عہدے کے لیے بھی پولنگ ہو رہی ہے۔

لندن کا اگلا میئر کنزرویٹیو جماعت کے میئر بورس جانسن کی جگہ سنبھال لےگا۔

انتخابی جائزہ رپورٹوں اور تجزیوں کے حوالے سے کہا جا رہا ہے کہ میئر کے اہم عہدے کے لیے اصل مقابلہ دو بڑی جماعتوں کے امیدواروں یعنی حکومتی جماعت قدامت پسند کے امیدوار زیک گولڈ اسمتھ اور حزب مخالف جماعت لیبر پارٹی کے پاکستانی نژاد برطانوی امیدوار صادق خان کے درمیان ہے۔

5 مئی کو برسٹل، لیور پول، لندن اور سیلفورڈ شہروں میں رہنے والے افراد میئر کے لیے اپنے پسندیدہ امیدواروں کے حق میں ووٹ کاسٹ کریں گے۔

پولنگ کا آغاز صبح سات بجے ہوا جو رات دس بجے تک جاری رہے گی۔

اس دن لندن اسمبلی کی 25 نشستوں پر بھی انتخاب لڑا جا رہا ہے جبکہ ملک بھر سے 125 کونسلوں میں انتخابات ہو رہے ہیں اس کے علاوہ انگلینڈ بھر میں 40 پولیس کمشنرز کے لیے بھی انتخاب لڑا جا رہا ہے۔

لندن میئر ایک 'ضمنی ووٹوں کے نظام ' کے تحت منتخب کیا جاتا ہے۔ جس میں ووٹرز پہلی اور دوسری ترجیح کے طور پر دو امیدواروں کی نشاندہی کرتے ہیں اور اگر ان میں سے کوئی امیدوار پہلی ترجیح کے طور پر 50 فیصد سے زیادہ ووٹ حاصل کر لیتا ہے تو اسے فاتح قرار دیا جاتا ہے۔

برطانوی سیاست میں لندن میئر کا فیصلہ اہم مانا جاتا ہے۔ دارالحکومت کا میئر 20 بلین پاؤنڈز کا بجٹ کنٹرول کرتا ہے جو کہ کئی سرکاری اداروں کے بجٹ سے زیادہ ہے۔ تاہم اس کے اختیارات محدود ہیں اسے ہاؤسنگ ڈولپمنٹ، ٹرانسپورٹ اور پولسنگ کے معاملات وغیرہ کے لیے اختیارات حاصل ہیں۔

جس طرح انتخابی نظام تیار کیا گیا ہے اس سے صاف ظاہر ہوتا ہےکہ اس وقت لندن میئر کے عہدے کی دوڑ میں صادق خان اور زیک گولڈ اسمتھ اہم دعوے دار ہیں۔

تاہم ریسپیکٹ پارٹی کے امیدوار جارج گیلوے بھی لندن میئر کے عہدے کے لیے ایک اہم اُمیدوار تسلیم کیا جا رہا ہے۔

آئی جی کے ایک جائزے سے ظاہر ہوتا ہے کہ زیک گولڈ اسمتھ کی مقبولیت میں پچھلے مہینے کے مقابلے میں کمی آئی ہے اور وہ 12.5فیصد کے مقابلے میں 8.3 فیصد مقبول امیدوار خیال کئے گئے ہیں۔

اسی طرح یو گو کے ایک سروے کے نتائج میں صادق خان کو زیک گولڈ اسمتھ کے مقابلے میں مقبول قرار دیتے ہوئے انھیں زیک سے 7 پوائنٹس کے ساتھ آگے دکھایا گیا ہے۔

بکیز کی طرف سے بھی لیبر جماعت کے امیدوار کو لندن میئر کے لیے پسندیدہ قرار دیا گیا ہے۔

لندن میئر کی انتخابی مہم کی خاص بات یہ تھی کہ اس مہم کے دوران لیبر پارٹی کے امیدوار صادق خان اور قدامت پسند جماعت کے امیدوار زیک گولڈ اسمتھ سمیت جارج گیلوے نے اپنی انتخابی مہم کے دوران پاکستان کے ساتھ خاصا لگاؤ ظاہر کیا ہے۔

جس کی ایک وجہ یہ ہے کہ صادق خان کے والد 1960ء میں کراچی سے برطانیہ ہجرت کر کے آئے تھے جب کہ زیک تحریک انصاف کے چیئرمین اور کرکٹر عمران خان کی سابقہ اہلیہ جمائما خان کے بھائی ہیں۔ اس کے علاوہ جارج گیلوے کو ہمیشہ سے پاکستانی نژاد کی حمایت حاصل رہی ہے انھیں بھٹو خاندان کے ساتھ خاص مراسم کی وجہ سے بھی پاکستانیوں کا مخلص خیال کیا جاتا ہے۔

لندن کے میئر کے لیے چلائی جانے والی انتخابی مہم الزامات کے ساتھ شروع ہوئی اور آخر میں لیبر پارٹی میں جاری افراتفری کے مسائل کے ساتھ اختتام تک جا پہنچی ہے۔

لیبر پارٹی کے امیدوار صادق خان

صادق خان ایک بس ڈرائیور کے بیٹے ہیں۔ انھوں نے وکالت کی تعلیم حاصل کی ہے اور انسانی حقوق کے شعبے کے ایک اہم وکیل رہے ہیں وہ پندرہ برس کی عمر سے لیبر کے رکن ہیں۔ وہ 1994ء سے 2004ء تک کونسلر کے عہدے پر کام کرتے رہے ہیں جبکہ 2005ءء میں انھیں ٹوٹنگ کے علاقے سے رکن پارلیمنٹ منتخب کیا گیا وہ برطانوی پارلیمان کے پہلے مسلمان وزیر تھے جنھیں 2008ء میں ٹرانسپورٹ کا وزیر بنایا گیا تھا۔

انتخابی مہم کے دوران انھوں نے جن مسائل پر توجہ مرکوز رکھی ان میں لندن میں نئے گھروں کی ترجیح اور مقامی آمدنی کے مطابق کرایہ شامل ہے۔ اس کے علاوہ انھوں نے وعدہ کیا ہے کہ وہ تمام پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں کو چار سال کے لیے منجمد کر دیں گے۔

صادق خان کا کہنا ہے کہ وہ تمام لندن کے لوگوں کے میئر ہوں گے جو لندن کی آبادی کی بہتر نمائندگی کر سکتے ہیں۔

تاہم ان کے ناقدین ان پر الزام لگاتے ہیں کہ ان کے قانونی کیرئیر کے دوران شدت پسندوں کے ساتھ روابط رہے ہیں جب کہ دوسری طرف لوگ اس حوالے سے بھی شکوک و شبہات ظاہر کرتے ہیں کہ وہ ٹرانسپورٹ کے منصوبوں کی سرمایہ کاری میں کٹوتی کر کے کرایوں کو منجمد کرنا چاہتے ہیں۔

وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون بھی اپنی جماعت کے امیدوار زیک گولڈ اسمتھ کی انتخابی مہم میں شامل رہے ہیں اور ایک موقع پر انھوں نے صادق خان پر دہشت گردوں سے مراسم رکھنے کا الزام لگایا تھا۔

تاہم انتخانی مہم کے آخری دنوں میں صادق خان نے اپنے وعدوں کی تجدید کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہاؤسنگ کے بحران سے نمٹنے کے لیے مثبت منصوبہ بندی کے حوالے سے اپنی توجہ مرکوز رکھیں گے جبکہ ان کا کہنا تھا کہ اگر کنزرویٹیو کا امیدوار اگلا میئر منتخب ہوا تو لندن میں رہائش کے مسائل اسی طرح برقرار رہیں گے۔

کنزرویٹیو کے امیدوار زیک گولڈ اسمتھ

صادق خان کے حریف امیدوار زیک گولڈ اسمتھ کا تعلق ایک ارب پتی سنار گھرانے سے ہے وہ 200 ملین پاؤنڈز کی دولت کے مالک ہیں۔ وہ رچمنڈ پارک جیسے پوش علاقے سے رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئے تھے وہ ایک رسالے کے سابق ایڈیٹر بھی ہیں۔

انھوں نے اپنی انتخابی میم کے دوران جن مسائل پر توجہ مرکوز رکھی ہے ان میں 2020ء تک نئے گھروں کی تعمیر اور زیر زمین ٹرینوں ٹیوب میں پولسنگ میں اضافہ اور چار سال کے لیے کونسل ٹیکس منجمد کرنے کا وعدہ شامل ہے۔

انھوں نے یہ بھی وعدہ کیا ہے کہ اگر وہ منتخب ہوتے ہیں تو بورس جانسن کے جاری منصوبوں کو تکمیل کے مراحل تک پہنچائیں گے۔

انھوں نے لندنرز سے یہ وعدہ بھی کر رکھا ہے کہ وہ لڑکیوں اور خواتین کے خلاف تشدد کے مسائل سے نمٹنے کے لیے ایک ملین پاؤنڈ کا فنڈ قائم کریں گے علاوہ ازیں انھوں نے لندن میں آلودگی کے مسائل سے نمٹنے کے لیے مزید اختیارات حاصل کرنے کا عندیہ بھی دیا ہے۔

تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ وہ لندن کے لوگوں کے ساتھ رابطے میں نہیں ہیں ان کے حوالے سے یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ انھوں نے اپنے حریف امیدوار صادق خان کے خلاف انتہائی منفی انتخابی مہم لڑی ہے۔

XS
SM
MD
LG