رسائی کے لنکس

عالمی ادارہ ِصحت کی ہیپیٹائٹس سی سے بچاؤ کی ہدایات جاری


عالمی ادارہ ِ صحت کا کہنا ہے کہ ان نئی گائیڈ لائنز کی وجہ سے ان ممالک میں اس موذی مرض کے ہاتھوں ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں کمی لانا ممکن ہو سکے گا جہاں یہ مرض عام ہے۔

عالمی ادارہ صحت نے ہیپیٹائٹس سی کے لیے، جسے پاکستان میں عموماً کالا یرقان کے نام سے پہچانا جاتا ہے، عالمی سطح پر نئی ہدایات جاری کی ہیں۔

ہیپیٹائٹس سی جگر کی ایک خطرناک بیماری ہے جس کی وجہ سے ہر سال دنیا بھر میں ساڑھے 3 لاکھ سے 5 لاکھ تک افراد ہلاک ہوتے ہیں۔

عالمی ادارہ ِ صحت کا کہنا ہے کہ ان نئی گائیڈ لائنز کی وجہ سے ان ممالک میں اس موذی مرض کے ہاتھوں ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں کمی لانا ممکن ہو سکے گا جہاں یہ مرض عام ہے۔

عالمی ادارہ ِصحت کے مطابق دنیا بھر میں ہر سال 130 سے 150 ملین افراد ہیپیٹائٹس سی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اس مرض کے سب سے زیادہ مریض وسطی اور مشرقی ایشیاء اور شمالی افریقہ میں پائے جاتے ہیں۔

ہیپیٹائٹس سی وائرس عموماً طبی مراکز میں دوبارہ استعمال کی جانے والی سوئیوں اور سرنجز کی وجہ سے ہوتا ہے۔

ماہرین ِصحت کے مطابق جن لوگوں کو ہیپیٹائٹس سی ہوتا ہے ان کی اکثریت کو جگر کا کینسر ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے۔

عالمی ادارہ ِصحت نے ہیپیٹائٹس سے بچاؤ کے لیے حفاظتی تدابیر کے لیے ہدایات شائع کی ہیں۔

سٹیفن وکٹر، عالمی ادارہ ِصحت کے عالمی ہیپیٹائٹس پروگرام کے سربراہ ہیں، جن کا کہنا ہے کہ یہ مرض قابل ِعلاج ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ اس کے بہتر علاج سامنے آ رہے ہیں۔

سٹیفن وکٹر کے الفاظ، ’اب تک ہیپیٹائٹس سی کا جو علاج تھا اس میں تقریباً 48 ہفتے تک باقاعدگی سے انجیکشن لگنے ہوتے تھے۔ یہ ایک بہت مشکل کام تھا۔ اسی وجہ سے مریض اس طریقہ ِعلاج سے گھبراتے تھے۔ مگر اب ایک نیا طریقہ ِعلاج آگیا ہے۔ اب ہیپیٹائٹس سی کا علاج 12 ہفتے میں ممکن ہو سکتا ہے۔ بہت سے مریض تو ایسے ہیں جنہیں انجیکشن لگنے کی بھی ضرورت نہیں ہوتی اور علاج میں 90 ٪ کامیابی بھی حاصل ہوتی ہے‘۔
XS
SM
MD
LG