رسائی کے لنکس

عالمی ادارہ ِصحت کے مطابق سعودی عرب میں ان دنوں میرس وائرس کا تقریباً ہر روز ایک نیا کیس رجسٹر کیا جا رہا ہے۔

عالمی ادارہ ِصحت کا ایک مشن رواں ہفتے سعودی عرب کی حکومت کی درخواست پر اپنا ایک مشن وہاں بھیجے گا۔ اس مشن کا مقصد آنے والے سیزن میں مڈل ایسٹ ریسپائریٹری سنڈروم سے بچاؤ کے لیے جسے میرس کورونا بھی کہا جاتا ہے، اقدامات کو یقینی بنانا ہے۔

سعودی عرب گذشتہ دو برسوں سے میرس وائرس سے نمٹنے کے لیے اقدامات اٹھا رہا ہے۔

عالمی ادارہ ِصحت کے تحقیق دانوں نے گذشتہ دو برسوں میں سعودی عرب میں کم از کم 975 کیسز کی تصدیق کی ہے جن میں سے 358 اموات ہوئی تھیں۔

2012 کے بعد سے سعودی عرب میں میرس وائرس کے ہاتھوں ہلاکت کی شرح 35 فیصد رہی۔

سعودی عرب میں گذشہ برس مئی اور جون میں میرس وائرس بڑے پیمانے پر پھوٹ پڑی تھی۔ عالمی ادارہ ِصحت کے مطابق سعودی عرب میں ان دنوں میرس وائرس کا تقریباً ہر روز ایک نیا کیس رجسٹر کیا جا رہا ہے۔ اومان اور متحدہ عرب امارات میں بھی میرس وائرس کے کیسز درج کیے جا رہے ہیں۔

عالمی ادارہ ِصحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ سعودی عرب میں لوگوں میں یہ وائرس اونٹوں کی وجہ سے پھیل رہا ہے۔

عالمی ادارہ ِصحت نے حال ہی میں فلپائن میں بھی میرس وائرس کا ایک کیس رپورٹ ہونے کی تصدیق کی ہے۔ 32 سالہ خاتون جن میں میرس وائرس کی تصدیق کی گئی ہے، سعودی عرب میں بطور نرس کام کرتی ہے۔

XS
SM
MD
LG