رسائی کے لنکس

پاکستان اور افغانستان انسداد پولیو کی کوششیں تیز کریں: ڈبلیو ایچ او


ڈبلیو ایچ او کی ترجمان سونا باری کے مطابق پاکستان میں رواں سال اب تک پولیو وائرس کے 29 اور افغانستان میں سات کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت "ڈبلیو ایچ او" نے پاکستان اور افغانستان پر زور دیا ہے کہ وہ پولیو کے موذی وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کی کوششیں تیز کریں جن میں بیرون ملک سفر کرنے والے لوگوں کی بہتر اسکریننگ بھی شامل ہے۔

ڈبلیو ایچ او کے ماہرین کی ہنگامی کمیٹی نے ایک بیان میں متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں بین الاقوامی ہوائی سفر کرنے والے مسافروں کی ویکسین کا خیال نہیں رکھا جاتا اور " نہ ہی بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر بیرون ملک جانے والے افراد کی بغیر ویکسین کے سفر پر پابندی ہے اور نہ اس پرعمل کیا جا رہا ہے۔"

عالمی ادارے نے طالبان کے دھڑوں کی طرف سے ویکسین مہم روکے جانے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ " صوبہ قندھار میں مہم کی معطلی بین الاقوامی سطح پر اس وائرس کے پھیلاو کے خطرے کی ایک بڑی اضافی وجہ ہے۔"

پاکستان اور افغانستان دنیا کے دو ایسے ملک ہیں جہاں انسانی جسم کو مفلوج کر دینے والی بیماری 'پولیو' کے وائرس پر تاحال پوری طرح قابو نہیں پایا جا سکا ہے۔

ڈبلیو ایچ او کی ترجمان سونا باری کے مطابق پاکستان میں رواں سال اب تک پولیو وائرس کے 29 اور افغانستان میں سات کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں جب کہ گزشتہ سال اسی عرصے میں یہ تعداد بالترتیب 108 اور آٹھ تھی۔

بھارت میں 2011ء کے بعد پولیو کا کوئی نیا کیس سامنے نہیں آیا تھا اور اس ملک کو تین سال قبل پولیو فری قرار دے دیا گیا تھا۔

ڈبلیو ایچ او کی ترجمان کے مطابق نائیجیریا میں ایک سال سے کوئی نیا کیس رپورٹ نہیں ہوا جب کہ صومالیہ میں آخری کیس 11 اگست 2014ء کو رپورٹ ہوا تھا۔

ماہرین نے پاکستان میں اس ضمن میں کیے گئے اقدامات کا اعتراف کیا لیکن ان کے بقول افغان اور پاکستانی شہریوں کے لیے ویکسینیشن کو ہر صورت لازمی بنایا جائے خواہ وہ ہوائی، بحری یا سڑک کے راستے بیرون ملک سفر کر رہے ہوں۔

پاکستانی وزیراعظم کے انسداد پولیو سیل کی سربراہ سینیٹر عائشہ رضا فاروق نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں اس یقین کا اظہار کیا کہ ملک سے اس موذی وائرس کا جلد خاتمہ کر دیا جائے گا۔

اس وائرس پر قابو پا لینا نائیجیریا کے لیے ماہرین کے بقول ایک اہم سنگ میل ہے لیکن اس ملک میں جاری تشدد کی لہر کے باعث خدشہ ہے کہ اس کامیابی کو برقرار رکھنے کی کوششیں متاثر ہو سکتی ہیں۔

پاکستان میں بھی خاص طور پر دسمبر 2012ء سے انسداد پولیو مہم سے وابستہ افراد پر شدت پسندوں کے متعدد ہلاکت خیز حملے ہو چکے ہیں جن میں درجنوں رضا کار اور سکیورٹی اہلکار ہلاک و زخمی ہوئے۔

XS
SM
MD
LG