رسائی کے لنکس

ایبولا کے مریضوں میں پھر اضافہ ہورہا ہے، عالمی ادارۂ صحت


فائل

فائل

عالمی ادارے نے منگل کو اپنی ایک رپورٹ میں گزشتہ تین دنوں کے دوران ایبولا کے مزید 150 مریضوں کے ہلاک ہونے کی خبر دی ہے

عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے خبردار کیا ہے کہ مغربی افریقی ملکوں میں ایبولا کے مریضوں اور اموات میں دوبارہ اضافہ ہورہا ہے۔

عالمی ادارے نے منگل کو اپنی ایک رپورٹ میں گزشتہ تین دنوں کے دوران ایبولا کے مزید 150 مریضوں کے ہلاک ہونے کی خبر دی ہے جس کے بعد ایبولا سے ہونے والی کل ہلاکتوں کی تعداد 9152 ہوگئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ تین دنوں کے دوران ایبولا سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے تین افریقی ملکوں میں 303 نئے مریض سامنے آئے ہیں۔ لائبیریا میں 136، سیرالیون میں 113 اور گنی میں 54 مریض رپورٹ ہوئے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے نمائندۂ خصوصی برائے ایبولا ڈاکٹر ڈیوڈ نابارو نے کہا ہے کہ مریضوں کی تعداد میں اضافے سے ظاہر ہورہا ہے کہ ایبولا کی وبا پر اب تک قابو نہیں پایا جاسکا ہے۔

منگل کو جنیوا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر نوبارو نے کہا کہ ایبولا پر قابو پانے کی کوششیں جاری ہیں لیکن آثار بتا رہے ہیں وائرس اب بھی ایک بڑا خطرہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایبولا سے نبٹنے کے ذمہ دار تمام ادارے اور اہلکار پوری تندہی سے اپنا کام کر رہے ہیں اور ان کا ہدف وائرس کے نئے مریضوں کی تعداد کو حتی الامکان کم کرنا ہے۔

طبی ماہرین نے مغربی افریقی ملکوں کے باشندوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ ایبولا کی طرف سے غفلت نہ برتیں اور احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کریں۔

عالمی ادارۂ صحت کے مطابق گزشتہ ماہ گنی میں ایبولا کے ایک مریض کی غیر محتاط طریقے سے تدفین کے نتیجے میں وائرس 11 نئے افراد میں منتقل ہوگیا تھا۔

ایبولا سے مرنے والے افراد کی لاشیں بھی مرض کو پھیلانے کا سبب بنتی ہیں جس کے باعث ان میتوں کی تدفین صرف حفاظتی لباس پہنے ہوئے امدادی اہلکار ہی کرتے ہیں۔

تاحال ایبولا کا کوئی حتمی علاج دریافت نہیں ہوا لیکن رواں ماہ لائبیریا میں عالمی اداروں کی زیرِ نگرانی وائرس سے بچاؤ کی دو متوقع ویکسینوں کا تجرباتی استعمال شروع ہوا ہے۔

امریکہ کے 'نیشنل انسٹی ٹیوٹس آف ہیلتھ' کے زیرِ نگرانی ہونے والے اس تجربے کے لیے 27 ہزار مردوں اور خواتین نے اپنا اندراج کرایا ہے جنہیں یہ ویکسین دی جائے گی۔

XS
SM
MD
LG