رسائی کے لنکس

بتایا جاتا ہے کہ دیامیربھاشا ڈیم بننے سے بجلی کی قیمت میں کمی آئے گی۔ صوبہٴسرحد کا شمالی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کا چھ لاکھ ایکٹر رقبہ کاشت کے قابل ہوجائے گا، بے روزگاری میں کمی واقع ہوگی، بجلی کی کمی کو بڑی حد تک پورا کیا جاسکے گا، ملک میں زرعی خوشحالی آئے گی

کراچی۔۔۔پاکستان زرعی ملک ہے مگر اس کے پاس پانی ذخیرہ کرنے کا مناسب انتظام نہیں۔ یہاں بجلی سے چلنے والے تمام جدید آلات موجود ہیں۔ لیکن، ضرورت کے مطابق بھی بجلی پیدا کرنے کے ذرائع نہیں، 2010ء سے تقریباً ہر سال انتہائی کثر تعداد میں پانی دریاوٴں میں آتا ہے اور سیلاب کی صورت ملکی معیشت کو گھن لگا کر چلا جاتا ہے مگر کوشش کے باوجود اس پر بند نہیں باندھا جا سکتا۔

پاکستان جیسے ترقی پذیر اور غریب ملک کے لئے پانی انمول ہے۔ اس کی قومی پیداوار کا 25فیصد زراعت پر منحصر ہے۔ اسے پینے اور استعمال کے لئے پانی کی اشد ضرورت رہتی ہے۔ لیکن، اس کے باوجود اوسطاً 35.2ملین ایکڑ فٹ پانی مناسب آبی ذخائر نہ بناسکنے کے سبب ضائع ہو جاتا ہے۔ ایسے میں دیامیر بھاشاڈیم یا دیگر ڈیموں کی ضرورت مزید بڑھ جاتی ہے۔ لہذا، یہ کہنا کہ دیامیر بھاشا ڈیم پاکستان کے لئے بہترین انتخاب ہے، درست معلوم ہوتا ہے۔

پاکستان واٹر اینڈ پاور ڈیولپمنٹ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ آبی ذخائر نہ ہونے کی وجہ سے 22 ملین ایکٹر زمین زرخیز ہونے کے باوجود بنجر پڑی ہے۔ ملک میں پچھلی کئی دہائیوں سے کوئی ڈیم یا نئے آبی ذخائر تعمیر ہی نہیں ہوئے۔ پاکستان کو پچھلے عشرے میں نو ملین ایکٹ فٹ کے حساب سے پانی کی کمی کا سامنا تھا جو ایک سال بعد بڑھ کر کہیں سے کہیں جاپہنچا ہے۔

بھاشا ڈیم کے فوائد
ملک کے چاروں صوبوں میں ڈیموں کی تعمیر کے معاملے پر شدید اختلافات ہیں مگر اب وقت آگیا ہے کہ ملک میں آبی ذخائر جلد از جلد تعمیر ہوں۔ اب جبکہ امریکہ نے بھی دیامیر بھاشا ڈیم پروجیکٹ کے لئے تعاون کا یقین دلایا ہے تو یہ منصوبہ جلد از جلد مکمل ہوجانا چاہئے۔ اس منصوبے سے بے پناہ فائدے حاصل ہوسکتے ہیں مثلاً:

دیامیر بھاشا ڈیم بننے سے بجلی کی قیمت میں کمی آئے گی۔ صوبہ سرحد کا شمالی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کا چھ لاکھ ایکٹر رقبہ کاشت کے قابل ہوجائے گا، بے روزگاری میں کمی واقع ہوگی۔

دیا میربھاشا ڈیم کا پانی گلیشیر سے حاصل ہوگا۔ اس ڈیم کیلئے پانی کی مقدار پچاس ملین ایکٹر فٹ ہے۔ اس سے توانائی خاص کر بجلی کی کمی کو بڑی حد تک پورا کیا جاسکے گا۔ ملک میں زرعی خوشحالی آئے گی، معاشی ترقی کے لئے سستی پن ببجلی اور توانائی کی ضرورتیں پوری ہوں گی۔

اعداد و شمار
پاکستان واٹر اینڈ پاور ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق دیامیر بھاشا ڈیم کا منصوبہ دریائے سندھ پر تربیلا ڈیم سے 315 کلومیٹر اوپر،نادرن ایریا کے صدر مقام گلگت سے165 کلو میٹر نیچے اور چلاس سے 40 کلومیٹر پر واقع ہے۔

تجویز کردہ ڈیم کی زیادہ سے زیادہ اونچائی 270 میٹر ہوگی اور اس میں پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش تقریباً 74 لاکھ ایکٹر فٹ ہوگی۔ یہاں دریائے سندھ میں پانی کا اخراج تقریباً پچاس ملین ایکٹر سالانہ ہوگا۔ ڈیم کا یہ منصوبہ 110مربع کلو میٹر پر محیط ہوگا۔

چونکہ زراعت پاکستانی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اور یہاں تیزی سے انسانی آبادی بڑھ رہی ہے۔ لہذا، اگر ڈیم تعمیر نہ ہوئے تو ملک کو خوارک کی کمی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

ساڑھے چار ہزار میگا واٹ بجلی کی پیداوار
بھاشا ڈیم کے ذریعے سالانہ ساڑھے چھ ملین ایکٹر فٹ پانی کا ذخیرہ دستیاب ہوگا۔ اس کے ذریعے دریا کے پانی کو روک کر 4500میگاواٹ سستی بجلی پیدا کرنے کے قابل ہوجائیں گے۔ تھرمل پاور پر انحصار میں کمی آجائے گی جس سے غیر ملکی زرمبادلہ میں بچت ہوگی۔

اگر بھاشا ڈیم تعمیر ہوجاتا ہے تو ہر سال دو سال بعد آنے والا تباہ کن سیلاب بھی کچھ نہیں بگاڑ سکے گا بلکہ ڈیم سے ماحول بہتر، بنجر زمینوں میں کمی واقع ہوگی۔ دریاوٴں اور نہرو ں کا نظام بہتر ہوگا، جنگلات میں اضافہ، آبی حیات کا تحفظ اور موسموں میں اعتدال پیدا کیا جاسکے گا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ڈیم پاکستان کی اقتصادی ترقی کا ضامن ہے۔ یہ وہ منصوبہ ہے جس پر جتنی جلد عمل ہو پاکستان اتنی ہی جلد اپنے کئی مسائل کی قید سے آزاد ہوجائے گا۔ زرعی شعبے میں انقلاب لایا جاسکے گا جبکہ تیس ملین ایکڑ زرعی اراضی بھی اس سے باآسانی سیراب ہوسکے گی۔ علاوہ ازیں یہ تربیلا ڈیم کی زندگی میں 35 برس اضافے کا سبب بن سکے گا بھی کرسکے گا۔

XS
SM
MD
LG