رسائی کے لنکس

سنہ 2014میں سینیٹ کی ذیلی کمیٹی کے ایک اندازے کے مطابق، بیرون ملک قائم امریکی ادارے ٹیکس کے ملکی نظام کی آمدن کو 150 ارب ڈالر کا نقصان پہنچا رہے ہیں

امریکی نام کہاں ہیں؟ پاناما پیپرز کے افشا ہونے کے بعد یہ وہ سوال ہے جو عام سنا جا رہا ہے۔ پاناما کی لا فرم کی جانب سے ایک کروڑ 15 لاکھ سے زائد دستاویزات کا انکشاف ہوا ہے جن میں عالمی رہنماؤں اور مشہور شخصیات کے چھپے ہوئے غیرملکی اکاؤنٹس کی تفصیل درج ہیں، جو راز ابھی فاش ہو رہے ہیں۔

تحقیق کا کام کرنے والے صحافیوں کے بین الاقوامی کنشورشیئم (آئی سی آئی جے) نے اِن مالی اعداد و شمار کا تجزیہ کیا ہے، جس کاوش میں 70 ممالک سے تعلق رکھنے والے 300 سے زائد صحافیوں کی ٹیم شامل ہے۔

’آئی سی آئی جے‘ کی رپورٹ کے مطابق، اختتام ہفتہ جاری ہونے والی إِن دستاویزات میں 214000 سے زائد’ آف شور‘ اکائیوں کی تفاصیل درج ہیں، جن کا تعلق 200 سے زائد ملکوں اور علاقہ جات کے افراد سے ہے۔

اس میں 140 بین الاقوامی سیاست دانوں کے نام بھی شامل تھے، جن میں 12 موجودہ اور سابق سیاسی رہنما شامل ہیں، جنھوں نے مبینہ طور پر بیرون ملک اکاؤنٹ کھول رکھے ہیں، تاکہ اُن کے اثاثے چھپے رہیں اور ممکنہ طور پر ٹیکس سے بچا جا سکے۔

اسے تاریخ کا سب سے بڑا انکشاف بتایا جاتا ہے، لیکن اب تک اِس میں کسی امریکی سیاست داں یا نامور امریکی کا نام سامنے نہیں آیا۔

امریکی پاسپورٹ

اخبارات کے ’میک لیچی گروپ‘ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ افشا ہونے والی دستاویزات میں کم از کم 200 امریکی پاسپورٹوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اِن میں سے کئی پاسپورٹ آف شور کمپنیوں سے ریٹائر ہونے والے افراد کے ہیں، جنھوں نے لاطینی امریکہ میں جائیداد خریدی۔

میک لیچی کا کہنا ہے کہ وہ واحد امریکی اخباری ادارہ ہے جو اس کنسورشئیم میں شامل ہے۔

یہ دستاویزات، جو پاناما کی لا فرم، ’موساک فونسیکا‘ کی سطح پر فاش ہوئے، اُن سے آف شور کمپنیوں کے 3500 حصص مالکان کے نام درج ہیں، جن میں امریکہ کے ایڈریس دیے گئے ہیں۔ تاہم، اِن سے یہ مراد نہیں کہ اِن کے مالک یا اِن کی تحویل امریکی شہری کرتے ہیں۔

اسی طرح، لا فرم سے وابستہ تقریباً 3100 کمپنیاں ہیں، جن کے بارے میں میک لیچی نے بتایا ہے کہ وہ ’آف شور پیشہ ور افراد‘‘ پر مشتمل ہیں، جو امریکہ میں قائم ہیں، خاص طور پر جنوبی فلوریڈا میں میامی اور نیو یارک کے مقامات پر واقع ہیں۔

جمیس ہینری ’ٹیکس جسٹس نیٹ ورک‘ نامی وکلا کے گروپ میں معیشت داں اور سینئر مشیر ہیں۔ اُنھوں نے ایک ہسپانوی کیبل نیوز چینل، ’فیوژن‘، جو میک لیچی کے ساتھ کام کرنے والے پراجیکٹ کے ایک ساجھے دار ہیں، بتایا کہ امریکہ میں شیل کمپنیاں بنانا نسبتاً آسان کام ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اِن دستاویزات کے پلندے میں چند ہی امریکیوں کے نام سامنے آئے ہیں۔

ہینری نے فیوژن کو بتایا کہ درحقیقت امریکیوں کو پاناما جانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ بقول اُن کے، ’’بنیادی طور پر امریکہ میں ’آن شور‘ قسم کی صنعتوں کا جال بچھا ہوا ہے، جو اتنی ہی خفیہ ہیں جیسا کہ کہیں ہوسکتی ہوں‘‘۔

نیواڈا، ویومنگ، ڈلاویئر
ہیتھر لوے ’گلوبل فائنینشل انٹیگرٹی‘ میں قانونی مشیر اور سرکاری معاملات کے سربراہ ہیں۔ نفعے نقصان کے بغیر کام کرنے والا یہ ادارہ واشنگٹن میں قائم ہے۔ ہیتھر لوے نے ’انٹرنیشنل بزنیس ٹائمز‘ کو بتایا کہ نیواڈا، ویومنگ اور ڈلاویئر ’بے نامی کمپنیوں اور لچکدار ضابطوں کے لیے مشہور ہیں، جہاں مرضی کی کمپنیاں کھولی جاتی ہیں، اور کسی حد تک ٹیکسوں میں چھوٹ ہوتی ہے‘‘۔

لوے نے ’آئی بی ٹی‘ کو بتایا کہ اِن ریاستوں کےبینکوں اور کمپنیوں کے مالکوں کی مرضی پر منحصر ہے کہ وہ کیا معلومات عام کرنا چاہتے ہیں، یا حکومت کو دینا یا ریکارڈ پر رکھنا چاہتے ہیں‘‘۔

قومی اخبار ’یو ایس اے ٹوڈے‘ نے خبر دی ہے کہ موساک فونسیکا سے وابستہ امریکہ میں قائم کمپنیوں کی اکثریت نیواڈا کی کمپنی، ایف ایف کارپوریٹ سروسز لمیٹڈ کی ہیں۔

سنہ 2014 میں سینیٹ کی ذیلی کمیٹی کے ایک اندازے کے مطابق، بیرون ملک قائم امریکی ادارے ٹیکس کے ملکی نظام کی آمدن کو 150 ارب ڈالر کا نقصان پہنچا رہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG