رسائی کے لنکس

ہمارا دماغ ایسے کاموں کے بارے میں بہت کم آگاہی محفوظ رکھتا ہے جن کا نتیجہ منفی نکلتا ہے یا پھر ایسےکاموں کے یاد رکھنے کے حوالے سے ہمارے خیالات دماغ میں کہیں دورموجود ہوتے ہیں یہی وجہ ہے کہ دماغ برے نتائج کے ساتھ ہمارے اعمال منسلک کرنے میں زیادہ وقت لگاتا ہے۔

ایسا کیوں ہوتا ہے کہ ہم میں سے زیادہ تر لوگ ایسے کاموں کا کریڈٹ لینے میں خوشی محسوس کرتے ہیں جن کے نتائج اچھے نکلتے ہیں لیکن ہم میں سے تھوڑے ہی لوگ ایسے ہوں گے جو ان کاموں کی ذمہ داری قبول کرنا چاہیں گے جن کے برے یا حسب منشاء نتائج نہیں نکلتے ہیں۔

برطانوی محققین نے پتا لگایا ہے کہ ’’کیوں ہم اپنا قصورماننے کے بجائے شرمندگی یا ندامت چھپانے کی کوشش کرتے ہیں‘‘ تو اس کا جواب بہت سادہ ہے کہ ہم اپنے ان اعمال کے بارے بہت کم یاد رکھتے ہیں جن کا نتیجہ اچھا نہیں نکلتا ہے ۔

نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ہمارا دماغ ایسے کاموں کے بارے میں بہت کم آگاہی محفوظ رکھتا ہے جن کا نتیجہ منفی نکلتا ہے یا پھر ایسےکاموں کے یاد رکھنے کے حوالے سے ہمارے خیالات دماغ میں کہیں دورموجود ہوتے ہیں یہی وجہ ہے کہ دماغ برے نتائج کے ساتھ ہمارے اعمال منسلک کرنے میں زیادہ وقت لگاتا ہے۔

یونیورسٹی کالج لندن کے نیوروسائنس کے شعبہ سے منسلک پروفیسر پیٹرک ہاگرڈ نے کہا کہ ممکن ہے کہ تحقیق اس بات کی وضاحت پیش کر سکے کہ کیوں ہمیں اپنے اعمال کے لیے خود کو قصور وار تسلیم کرنے میں مشکل ہوتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ محققین نے اندازا لگایا ہے کہ لوگ مثبت نتائج کے مقابلے میں منفی نتائج کی ذمہ داری کوبہت کم محسوس کرتے ہیں۔ اسے ماضی کے کسی ایسے کام کے لیے محض جوازبنا کر پیش نہیں کیا جارہا ہے جس کے بارے میں کہا جا سکے کہ ہم نے تو اچھا کام کیا تھا لیکن نتیجہ اچھا نہیں نکلا بلکہ حقیقت میں جو تجربہ ہم نے اس وقت کیا ہوتا ہے اس کا احساس مکمل طور پرتبدیل ہو جاتا ہے۔

میل آن لائن میں شائع ہونے والی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تجربے میں شامل شرکاء سے محققین نےایک بٹن دبانے کے لیے کہا جس کے نتیجے میں تین طرح کے شور کی آوازیں سنائی دیں جنھیں منظور، نامنظور اور غیر جانبدار شور کا نام دیا گیا ۔ اس کے بعد شرکاء سے انفرادی طور پر کارروائی اور شور سنائی دینے کے درمیان کے وقت کے بارے میں اندازہ لگانے کے لیے کہا گیا ۔

ماہرین کے مطابق اچھے یا برے نتیجے کی بنیاد پر انفرادی طور پر شرکاء نے ہر بارمختلف سطح کی ذمہ داری کو محسوس کرنے کا تجربہ کیا ۔

انھوں نے دریافت کیا کہ شرکاء اپنی ان کارروائیوں کو پہچاننے میں زیادہ وقت لگا رہے تھے جن کا نتیجہ برا تھا جبکہ انھیں ان کارروائیوں کو پہچاننے میں دقت نہیں تھی جن کا نتیجہ اچھا ثابت ہوا تھا ۔

پرفیسر ہاگرڈ کا کہنا ہے کہ ’’تحقیق کے نتیجے سے پتا چلا ہے کہ ہم برے نتائج کو مختلف طرح سے محسوس کرتے ہیں اور نا صرف اس کے بارے میں لوگوں سے مختلف باتیں کہتے ہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ہمارا دماغ برے نتائج یا ناکامیوں کے حوالے سے زیادہ مستحکم کنکشنز نہیں بناتا ہے اس کے بر خلاف اچھے نتائج اور کامیابیوں پر بہت مضبوط ردعمل کا اظہار کرتا ہے‘‘۔

انھوں نے کہا کہ اس بات کی مثال اس طرح سمجھنی چاہیئے کہ ’’جب ایک ٹیم ورک کی محنت کے نتیجے میں اچھے نتائج سامنے آتے ہیں تو ہر رکن اس میں اپنی کاوش ڈھونڈنے لگ جاتا ہے لیکن جب نتائج غلط ثابت ہوتے ہیں تو کوئی بھی اس میں اپنا حصہ ڈالنے کے لیے تیار نہیں ہوتا ہے‘‘۔

محققین نے کہا کہ ہمارا دماغ اچھے نتائج اور کامیابیوں کو یاد رکھنے کے بارے میں زیادہ دلچسپی رکھتا ہے دماغ ہمارے ایسےکاموں کو یادگار بنا کر پیش کرتا ہے جن کا یاد رکھنا ہماری زندگی میں خوشیوں اور کامیابیوں کا احساس دلاتا ہے اور انسان کی حیاتیاتی بقا کے لیے اچھے نتائج اور کامیابیوں کی ہی ضرورت پڑتی ہے۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG