رسائی کے لنکس

جوکووی انڈونیشیا کے پہلے صدر ہوں گے جن کا انڈونیشیا کے سابق صدر اور آمر حکمران سوہارتو کے 32 سالہ دورِ حکومت سے کسی قسم کا تعلق نہیں رہا ہے۔

انڈونیشیا کے الیکشن کمیشن نے اعلان کیا ہے کہ جوکو وڈوڈو سخت مقابلے کے بعد آئندہ پانچ سال کے لیے ملک کے نئے صدر منتخب ہوگئے ہیں۔

منگل کی شب جاری کیے جانے والے حتمی سرکاری نتائج کے مطابق نو جولائی کو ہونے والے انتخاب میں ڈالے گئے 13 کروڑ ووٹوں میں سے جناب وڈوڈو نے 15ء53 فی صد ووٹ حاصل کرکے کامیابی حاصل کی ہے۔

جوکو وڈوڈو – جو انڈونیشیا میں 'جوکووی' کے نام سے معروف ہیں – کا مقابلہ سابق فوجی جنرل پرابوو سوبیانتو سے تھا جنہیں 47 فی صد ووٹ ملے ہیں۔

جوکووی انڈونیشیا کے پہلے صدر ہوں گے جن کا انڈونیشیا کے سابق صدر اور آمر حکمران سوہارتو کے 32 سالہ دورِ حکومت سے کسی قسم کا تعلق نہیں رہاہے۔

ان کے حریف جنرل سوبیانتو سوہارتو کے داماد ہیں جنہیں انتخاب میں کئی سیاسی جماعتوں کی حمایت حاصل تھی۔

جنرل سوبیانتو نے انتخابی عمل میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کے الزامات عائد کیے ہیں لیکن توقعات کے برخلاف انہوں نے انتخابی نتائج کو آئینی عدالت میں چیلنج نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

جوکووی 20 اکتوبر کو موجودہ صدر سوسیلو بمبانگ یودھویونو کی جگہ آئندہ پانچ برسوں کے لیے اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے جو زیادہ سے زیادہ دو مدت تک صدر رہنے کی آئینی شرط پوری کرچکے ہیں۔

تریپن سالہ جوکووی انڈونیشیا کی تاریخ کے ساتویں اور براہِ راست عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے والے تیسرے صدر ہوں گے۔ وہ انڈونیشیا کے پہلے صدر ہوں گے جن کا ملک کی اشرافیہ سے تعلق نہیں۔

حالیہ صدارتی انتخاب آبادی کے اعتبار سے مسلم دنیا کے سب سے بڑے ملک اور جنوب مشرقی ایشیا کی سب سے بڑی معیشت کا اعزاز رکھنے والے انڈونیشیا کی تاریخ کا سب سے سخت مقابلے اور کشیدگی والا انتخاب تھا۔

ایک غریب گھرانے میں پیدا ہونے والے جوکووی نے فرنیچر کے کاروبار کے ذریعے اپنی سیاسی حیثیت کو مستحکم کیا اور اس وقت وہ دارالحکومت جکارتہ کے گورنر کی حیثیت سے فرائض انجام دے رہے ہیں۔

انڈونیشیا میں ان کی شناخت ایک صاف ستھرے اور قابل سیاست دان کی ہے اور ان کی سربراہی میں قائم جکارتہ کی مقامی حکومت کی کارکردگی کو ملک میں سراہا جاتا ہے۔

XS
SM
MD
LG