رسائی کے لنکس

وکی لیکس کا آئندہ اقدام: امریکہ اور اتحادی پریشان


وکی لیکس کا آئندہ اقدام: امریکہ اور اتحادی پریشان

وکی لیکس کا آئندہ اقدام: امریکہ اور اتحادی پریشان

متنازع ویب سائٹ "وکی لیکس" کی جانب سے لاکھوں کی تعداد میں امریکی سفارتی دستاویزات کی ممکنہ اشاعت نے امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک کو پریشانی میں مبتلا کردیا ہے۔

عراق میں تعینات امریکی سفیر جیمز جیفری نے امریکی سفارت کاروں کی مرتب کردہ خفیہ رپورٹوں پر مشتمل سفارتی کیبلز کی ممکنہ اشاعت کو "قطعاً ناقابلِ قبول اور مستقبل میں سفارتی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں ایک بڑی رکاوٹ" قرار دیا ہے۔

عراق جنگ کے حوالے سے خفیہ دستاویزات جاری کرکے شہرت پانے والی ویب سائٹ "وکی لیکس" نے پیر کے روز اعلان کیا تھا کہ اس کی جانب سے امریکہ کی تیس لاکھ سے زائد خفیہ سفارتی کیبلز شائع کرنے کی تیاری کی جارہی ہے۔ مذکورہ دستاویزات کی تعداد ویب سائٹ کی جانب سے چند ماہ قبل عراق جنگ کے حوالے سے جاری کی گئی چار لاکھ کے لگ بھگ امریکی انٹیلی جنس رپورٹوں سے سات گنا زیادہ ہے۔

سفارتی حلقوں کے مطابق سفارتی کیبلز دنیا بھر میں موجود امریکی سفارت خانوں اور واشنگٹن کے اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے درمیان ہونے والی خفیہ خط و کتابت اور بھیجی جانے والی رپورٹوں پر مشتمل حساس دستاویزات ہیں۔ امریکی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ان دستاویزات کی افشاء ہونے سے امریکہ اور اس کے کئی اتحادی ممالک کے مابین تعلقات میں تناؤ پیدا ہوسکتا ہے۔

اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ترجمان پی جے کرولی کا بدھ کے روز واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو میں کہنا تھا کہ امریکی انتظامیہ دستاویزات کی ممکنہ اشاعت کے حوالے سے دنیا بھر میں موجود اپنے سفارت خانوں سے مستقل رابطے میں ہے۔

اسرائیلی اخبار "دی ہارٹیز" کا ایک اعلیٰ حکومتی عہدیدار کے حوالے سے کہنا ہے کہ اسرائیلی حکومت نے خبردار کیا ہے کہ افشاء کیے جانے والے دستاویزات میں تل ابیب میں قائم امریکی سفارت خانے کی جانب سے بھیجی جانے والی خفیہ کیبلز بھی شامل ہو سکتی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق ایک برطانوی اخبار "الحیات" کا دعویٰ ہے کہ دستاویزات کی ممکنہ اشاعت امریکہ کی جانب سے ترکی کے علیحدگی پسند گروپ "پی کے کے" کو فراہم کی جانے والی در پردہ امداد کا پردہ چاک کردے گی۔ واضح رہے کہ مذکورہ گروپ امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی مرتب کردہ دہشت گرد گروپوں کی فہرست میں شامل ہے۔

برطانوی اخبار کے مطابق خفیہ دستاویزات کی اشاعت سے ترکی کی جانب سے عراق میں القاعدہ کو مبینہ طور پر مدد فراہم کرنے کا معاملہ بھی منظرِ عام پر آنے کی امید ہے۔

"وکی لیکس" نے دستاویزات کی اشاعت کے حوالے سے کسی حتمی تاریخ کا اعلان تاحال نہیں کیا ہے۔ متنازع ویب سائٹ کے بانی جولین اسانجے نامی ایک سابق آسٹریلوی کمپیوٹر ہیکر ہیں جنہیں ماضی میں بھی امریکہ کی کئی حساس فوجی دستاویزات شائع کرنے پر پینٹاگون کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔

XS
SM
MD
LG