رسائی کے لنکس

وکی لیکس: امریکہ اورجرمنی کاخفیہ جاسوسی سیٹلائٹ پروگرام


وکی لیکس: امریکہ اورجرمنی کاخفیہ جاسوسی سیٹلائٹ پروگرام

وکی لیکس: امریکہ اورجرمنی کاخفیہ جاسوسی سیٹلائٹ پروگرام

رپورٹ کے مطابق HiROSنامی اس منصوبے کی تکمیل پر سیٹلائٹ زمین پر 50سنٹی میٹر کی چھوٹی سی چیز کو بھی دیکھ سکیں گےاور دن میں تین سے پانچ مرتبہ عکس فراہم کر سکیں گے۔

وکی لیکس کی جانب سے افشا کئے گئے سفارتی پیغامات کے مطابق امریکہ اور جرمنی مشترکہ طور پر ایک خفیہ سیٹلائٹ پروگرام پر کام کر رہے ہیں جو جاسوسی کے لئے استعمال کیا جائے گا۔

ناروے کی ایک اخبار آفٹن پوسٹن نے مبینہ طور پر وکی لیکس سے حاصل کی گئی معلومات کی بنا پر ایک رپورٹ شائع کی ہے جس کے مطابق فروری 2009 اور فروری 2010کے دوران برلن میں امریکی سفارتخانے سے بھیجی گئی کیبلز میں اس پروگرام کا ذکر ہے۔ ان پیغامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ کچھ ممالک خاص طور پر فرانس نے اس منصوبے کو روکنے کی کوشش بھی کی تھی۔

جرمنی کے خلائی پروگرام کے ادارے نے پیر کے روز ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیٹلائٹ پروگرام پر کام تو ہورہا ہے مگر نہ تو وہ خفیہ ہے اور نہ ہی اس کا مقصد جاسوسی ہے۔

رپورٹ کے مطابق HiROSنامی اس منصوبے کی تکمیل پر سیٹلائٹ زمین پر 50سنٹی میٹر کی چھوٹی سی چیز کو بھی دیکھ سکیں گےاور دن میں تین سے پانچ مرتبہ عکس فراہم کر سکیں گے۔ پروگرام کے تحت جدید سیٹلائٹس موجودہ سیٹلائٹس کے برعکس نہ صرف رات کو بلکہ زیر زمین حرکت کی عکاسی کر کے تصاویر کم وقت میں زمین پر بھیج سکیں گے۔

اخبار کا کہنا ہے کہ افشا کئے گئے سفارتی پیغامات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سیٹلائٹس سن 2013میں کام کرنا شروع کر دیں گے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس پروگرام کی متنازعہ نوعیت کی وجہ سے امریکہ اور جرمنی کے حکام نے اپنی عوام کے سامنے اسے ایک غیر دفاعی پروگرام کے طور پر پیش کیا۔ مگر رپورٹ میں سفارتی پیغامات کے حوالے سے کہا ہے کہ یہ منصوبہ مکمل طور پر جرمن انٹیلی جنس سروس اور جرمنی کے خلائی ادارے کے کنٹرول میں ہے۔

XS
SM
MD
LG