رسائی کے لنکس

وکی لیکس کی بدولت عالمی عدم اعتماد میں اضافہ ہوا: پاکستانی تجزیہ کار

  • عمیر ریاض

وکی لیکس کی بدولت عالمی عدم اعتماد میں اضافہ ہوا: پاکستانی تجزیہ کار

وکی لیکس کی بدولت عالمی عدم اعتماد میں اضافہ ہوا: پاکستانی تجزیہ کار

پاکستانی ماہرین کے مطابق وکی لیکس کی جانب سے خفیہ امریکی سفارتی دستاویزات کے اجراء سے سفارت کاروں اور عالمی شخصیات کے درمیان عدم اعتماد کی فضاء میں اضافہ ہوا ہے جس کے باعث بین الاقوامی تعلقات میں غیر محسوس طور پر تناؤ پیدا ہورہا ہے۔

تاہم ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان رازوں کے افشاء سے مستقبل قریب میں کسی بڑی عالمی تبدیلی کے امکانات نظر نہیں آتے۔

سابق پاکستانی سفارتکار منصور عالم کے مطابق وکی لیکس کی جانب سے جاری کی گئی امریکی دستاویزات کی اکثریت شخصی تجزیوں اور آراء پر مشتمل ہے اور انہیں امریکہ کی پالیسی دستاویزات قرار نہیں دیا جاسکتا۔

تاہم ان کے مطابق اس کے باوجود ان دستاویزت کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں اور اس سے عالمی سفارت کاری اور بین الاقوامی تعلقات پر دو ر رس اثرات مرتب ہونگے۔

منصور عالم کا کہنا ہے کہ سفارت کاری میں رازداری کا برتا جانا انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ خفیہ سفارتی معاملات کے افشاء سے دوست دشمن بن سکتے ہیں اور امن جنگ میں بدل سکتا ہے۔ ان کے مطابق اس تناظر میں وکی لیکس کی جانب سے جاری کردہ دستاویزات کے کئی خطرناک نتائج کا نکلنا بھی بعید از قیاس نہیں۔

"وکی لیکس کے عالمی سفارتکاری پہ اثرات" کے موضوع پر کراچی میں ہونے والے ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے روس سمیت کئی یورپی اور لاطینی امریکی ممالک میں سفارتکار کی حیثیت سے خدمات انجام دینے والے منصور عالم کا کہنا تھا کہ وکی لیکس کے ان انکشافات کا ایک لازمی نتیجہ آزاد ممالک کی جانب سے اپنے سرکاری رازوں کی حفاظت کے انتظامات کو مزید بہتر اور سفارت کاری کے نظام کو مزید مستحکم بنانے کی صورت میں سامنے آئے گا۔

تاہم ان کے مطابق وکی لیکس کے اس عمل کے نتیجے میں سفارتکار اور عالمی رہنما اپنی گفتگووں میں محتاط رویہ اختیار کرینگے جس سے معاملات اور مسائل پر کھل کر بات چیت کے عمل کے دروازے بند ہوسکتے ہیں۔

سامنے آنے والی سفارتی دستاویزات میں عالمی رہنماؤں کے ایک دوسرے کے بارے میں دیے گئے منفی تبصروں پر سابق سفارت کار کا کہنا تھا کہ باوجود اس حقیقت کے کہ عالمی رہنما ایک دوسرے کے بارے میں اچھی رائے نہیں رکھتے اس سے ممالک کی ایک دوسرے کے متعلق پالیسیاں تبدیل ہونے کا امکان نہیں تاہم شخصی روئیے بڑی حد تک تبدیل ہوجائینگے۔

سابق سفارتکار کا کہنا تھا کہ کئی سفارتی کیبلز پالیسیوں کے بجائے متعلقہ ممالک کی حکمران شخصیات کی آراء اور تجزیوں پر مشتمل ہیں۔ ان کے بقول ایسے ممالک جہاں پالیسیاں اداروں کے بجائے اشخاص بناتے ہوں وہاں کے سرکردہ افراد کی آراء کا سامنے آنا بھی بہت اہم ہے کیونکہ اس سے ان ممالک کی مستقبل کی پالیسیوں کا اندازہ لگانا ممکن ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ دستاویزات کے ذریعے منظرِ عام پر آنے والے پاکستانی سیاسی قیادت سے متعلق عرب رہنماؤں کے منفی خیالات کے باوجود ان ممالک کی جانب سے پاکستان کے ساتھ جاری تعاون اور اشتراک پر کوئی فرق پڑنے کا امکان نہیں۔

منصور عالم کا کہنا تھا کہ دستاویزات سے یہ انکشاف بھی ہوتا ہے کہ عرب ممالک اسرائیل کے موجود جوہری ہتھیاروں سے زیادہ اس بات سے خوفزدہ ہیں کہ کہیں ایران جوہری ہتھیار بنانے میں کامیاب نہ ہوجائے۔

سیمینار سے خطا ب کرتے ہوئے تجزیہ کار اور صحافی مظہر عباس نے وکی لیکس کی جانب سے خفیہ امریکی دستاویزات کے اجراء کو سفارت و صحافت کا نائن الیون اور امریکہ کی سفارت کاری کو پہنچنے والا اب تک کا سب سے بڑا نقصان قرار دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ دستاویزات سے اس گمان کو تقویت ملتی ہے کہ صرف شخصی بادشاہت اور آمریت کے تحت چلنے والے ممالک ہی نہیں بلکہ امریکہ اور دیگر ترقی یافتہ مملکتیں بھی اپنے شہریوں کو لاعلم رکھنے اور بعض اوقات ان تک غلط معلومات پہنچانے کیلئے میڈیا کو آلہ کار کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔

مظہر عباس کا کہنا تھا کہ صحافیوں کی جانب سے معلومات کے حصول کی خاطر 'ہیکنگ' جیسے غیر قانونی ذرائع کے استعمال کی حوصلہ افزائی نہیں کی جاسکتی تاہم ان کے بقول اگر ایک صحافی ہیکر بن جائے تو وہ وکی لیکس کے بانی جولین اسانج کی طرح دنیا میں تہلکہ مچا نے کی صلاحیت کا حامل ہوگا۔

مظہر عباس کے بقول وکی لیکس کے انکشافات نے پاکستانی عوام کی معلومات میں کوئی خاطر خواہ اضافہ نہیں کیا کیونکہ ان کے بقول عوام سیاستدانوں کے معاملات کے حوالے سے پہلے ہی خاصے باخبر ہیں۔

سیمینار کی میزبان اور "پاکستان انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل افیئرز" کی سربراہ ڈاکٹر معصومہ حسن نے اپنے خطاب میں کہا کہ وکی لیکس کے انکشافات کی بدولت دنیائے سفارت کاری میں کئی اہم تبدیلیاں متوقع ہیں جن کے اثرات آنے والے وقتوں میں سامنے آئیں گے۔

XS
SM
MD
LG