رسائی کے لنکس

وکی لیکس: گوانتانامو کاغذات سے سامنے آنے والی پیچیدگیاں

  • ال پیسن

خلیج گوانتانامو میں واقع امریکی جیل

خلیج گوانتانامو میں واقع امریکی جیل

انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ وکی لیکس گوانتانامو کاغذات سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ نےسینکڑوں لوگوں کو اس قید خانے میں برسوں سے کسی ثبوت کے بغیر رکھا ہوا ہے۔ لیکن بعض دوسرے ماہرین کہتے ہیں کہ ان کاغذات سے جو کبھی خفیہ تھے، ظاہر ہوتا ہے کہ ا ن لوگوں سے کس قسم کے خطرات پیش آ سکتے ہیں اور یہ طے کرنا کہ کسے چھوڑ دیا جائے اور کسے قید رکھا جائے کس قدر مشکل کام ہے۔

جب گیارہ ستمبر 2001 کو امریکہ پر حملہ ہوا تو اصل فکر یہ تھی کہ فوری طور پر یہ معلوم کیا جائے کہ یہ دہشت گرد کون ہیں، ان کی تعداد کتنی ہے، وہ کہاں ہیں اور انہیں کیسے روکا جائے۔ اسی کوشش میں امریکہ کی قیادت میں افغانستان پر حملہ کیا گیا اور وہاں سے اور دوسرے ملکوں سے سینکڑوں افغان اور غیر ملکی جنگجوؤں کو پکڑ لیا گیا۔ پھر ایک اہم فیصلہ کیا گیا۔ امریکی عہدے داروں نے کچھ لوگوں کو گوانتانامو بے، کیوبا میں امریکی بحری اڈے پر بھیج دیا جہاں ان کے لیے رہائشی سہولتیں تعمیر کی جا سکتی تھیں اور انہیں دشمن کے جنگجوؤں کی طرح رکھا جا سکتا تھا۔ یہاں وہ امریکی سول عدالتوں کے دائرہ کار سے باہر تھے اور ان سے نسبتاً آزاد ماحول میں قیمتی معلومات حاصل کی جا سکتی تھیں۔

لیکن یہاں ابتدا میں آنے والے قیدیوں کے لیے رہائش کی سہولتیں بہت خراب تھیں۔ پھر برسوں تک ان سے سختی سے پوچھ گچھ کی گئی، قانونی پیچیدگیاں پیدا ہوئیں اور بین الاقوامی سطح پر مذمت ہوئی۔ حال ہی میں شائع ہونے والے کاغذات سے بش انتظامیہ کے دور کے حالات پر کچھ روشنی پڑتی ہے جب یہ طے کرنے کے لیے کہ کس قیدی کو چھوڑ دیا جائے اور کسے بدستور قید میں رکھا جائے ، ایک طریقہ بنایا گیا تھا۔

شان کڈیڈال نیو یارک میں قائم سنٹر فار کونسٹیٹیوشنل رائٹس سے وابستہ ہیں۔ وہ کہتےہیں’’آپ نے اتنے بہت سے لوگوں کو کسی خاص ثبوت کے بغیر قید میں ڈال دیا جب کہ آپ کے پاس انہیں پکڑ کر یہاں لانے کے لیے بھی کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں تھا، پھر آپ نے برسوں تک ان سے پوچھ گچھ کی، اور پھر ہر ایک کو پکڑے رکھنے کے لیے ان چیزوں پر انحصار کیا جو قیدیوں نے ایک دوسرے کے بارے میں بتائی تھیں۔‘‘

کڈیڈال اور دوسرے قانونی ماہرین اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے لوگ کہتے ہیں کہ گوانتانامو میں قید کیے جانے والے بہت سے لوگ بہت معمولی سے ثبوت اوراکثر دوسرے قیدیوں کے بیانات کی بنیاد پر قید میں رکھے گئے تھے ۔ وہ کہتے ہیں کہ قیدیو ں کی بیانات اکثر نا قابلِ اعتبار ہوتےہیں، خاص طور سے اگر وہ پوچھ گچھ کے قابلِ اعتراض طریقوں کے دوران دیے جائیں۔

کڈیڈال کہتےہیں کہ کسی کے لیے یہ پیشگوئی کرنا کیسے ممکن ہے کہ وہ مستقبل میں کیا کرے گا خاص طور سے جب ہمارے پاس ان کی ماضی کی سرگرمیوں کے بارے میں بھی اتنی محدود اور نا قابلِ اعتبار معلومات ہیں۔ کسی کے خطرناک ہونے کے بارے میں اندازہ لگانے کی کوشش کرنا احمقانہ بات ہے۔

لیکن واشنگٹن میں قدامت پسند ہیریٹیج فاؤنڈیشن کے سینیئر تجزیہ کار جیمز کارفانو کہتے ہیں کہ گوانتانامو میں جو ممکنہ دہشت گرد قید ہیں، ان کے خطرے سے امریکہ کو محفوظ رکھنے کے لیے ملٹری پینلز کو بالکل یہی کرنا چاہیئے ۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ فرض کرنا صحیح نہیں ہے کہ قیدیوں کو حراست میں رکھنے کے فیصلے صرف ان خفیہ کاغذات کی بنا پر کیئے گئے جو اس ہفتے وکی لیکس نے شائع کیے ہیں۔ لیکن کارفانو یہ بات بھی تسلیم کرتے ہیں کہ اس بنیاد پر کہ کسی نے ماضی میں کیا کیا تھا یا کیا ہوگا، یہ طے کرنا کہ وہ مستقبل میں کیا کر سکتا ہے، مشکل کام ہے۔

’’ہم جانتے ہیں کہ یہ انتہائی مشکل کام تھا۔ یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ کسی ایسے شخص کو رہا نہ کیا جائے جس کا امریکہ پر حملہ کرنے کا امکان ہو۔ اس کا انحصار بڑی حد تک نیت پر ہے۔ اس لیے میرے خیال میں اس پر حیر ت نہیں ہونی چاہیئے کہ حکومت سے اس معاملے میں کچھ غلطیاں ہوئی ہیں۔‘‘

2002 میں گوانتانامو کا قید خانہ کھلنے کے بعد سے اب تک وہاں کل 779 لوگ قید کیے گئے ہیں۔ ان میں سے 607 رہا کیے جا چکے ہیں یا اپنے ملکوں کے حوالے کیے جا چکے ہیں۔ ان میں سے کتنے لوگوں نے بعد میں دہشت گردی اختیار کی ہے، اس سلسلے میں مختلف اندازے ہیں۔ لبرل ریسرچ تنظیم نیو امریکہ فاؤنڈیشن کے مطابق ایسے لوگوں کی تعداد چھ فیصد ہے جب کہ دسمبر میں امریکی انٹیلی جنس کے سربراہ نے 25 فیصد کا اندازہ لگایا تھا۔

پینٹا گان کے ترجمان کرنل ڈیوڈ لاپان افشا کیے ہوئے کاغذات کی تفصیلات پر بات نہیں کر سکتے کیوں کہ تکنیکی اعتبار سے وہ اب بھی خفیہ ہیں۔ لیکن وہ کہتے ہیں کہ ان کاغذات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس انتظامیہ اور پچھلی انتظامیہ دونوں کے لیے مختلف ذرائع سے معلومات اکٹھی کرنا اور یہ طے کرنا کتنا مشکل کام تھا کہ ان قیدیوں کو گوانتانامو میں ہی رکھا جائے، یا انہیں ان کے ملکوں کو واپس بھیج دیا جائے۔

اس طرح بعض ماہرین اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ امریکہ کو گوانتانامو کے قیدیوں کی حراست جاری رکھنی چاہیئے کیوں کہ انہیں رہا کرنا بہت خطرناک ہو گا، جب کہ دوسرے ماہرین کہتےہیں کہ غیر یقینی کی اس کیفیت کا تقاضا ہے کہ مزید لوگوں کو رہا کر دیا جائے یا کم از کم ان پر جلد از جلد مقدمے چلائے جائیں تا کہ عدالت میں ثبوت کا جائزہ لیا جا سکے۔

XS
SM
MD
LG