رسائی کے لنکس

وکی لیکس کے حامیوں کی جانب سے مزید سائبر حملوں کی دھمکی


وکی لیکس کے حامیوں کی جانب سے مزید سائبر حملوں کی دھمکی

وکی لیکس کے حامیوں کی جانب سے مزید سائبر حملوں کی دھمکی

وکی لیکس کی حمایت میں سامنے آنے والے ایک سائبر گروپ نے ویب سائٹ کو مالیاتی سہولیات فراہم کرنے سے انکار کرنے والے اداروں کے خلاف "ڈیٹا جنگ" چھیڑنے کی دھمکی دی ہے۔

جمعرات کے روز مختلف میڈیا اداروں کو دئیے گئے انٹرویوز میں گروپ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ وہ وکی لیکس اور اس کے بانی جولین اسانج کے مخالفین کے خلاف سائبر حملوں میں تیزی لائیں گے۔ ’’نامعلوم‘‘کے نام سے اپنی شناخت کرانے والے ترجمان نے جولین اسانج کو "شہید آزادی اظہارر رائے" قرار دیتے ہوئے ان کے دفاع کے عزم کا اظہار کیا۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ ان کے گروپ کی جانب سے سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس کے ذریعے رضاکار بھرتی کیے گئے ہیں جو مخالفین کی ویب سائٹس پر حملوں میں مدد فراہم کریں گے۔

گروپ نے وکی لیکس کو سہولیات کی فراہمی سے انکار کرنے والے "ماسٹر کارڈ" اور "ویزا" کریڈٹ کارڈز کی ویب سائٹس پر حملہ کرکے ان کی سروس میں خلل ڈالنے کی ذمہ داری بھی قبول کی ہے۔

گروپ کے دعویٰ کے مطابق اس کی جانب سے سوئیڈن سے تعلق رکھنے والی کئی ویب سائٹس کو بھی سائبر حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ واضح رہے کہ اسانج کی گرفتاری سوئیڈن کی جانب سے جاری کیے گئے وارنٹ پر عمل میں آئی ہے جہاں وہ جنسی زیادتی اور دست درازی کے الزامات میں پولیس کو مطلوب ہیں۔

سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹ "ٹوئیٹر" پر گروپ کے ترجمان "نامعلوم" کی جانب سے جاری کیے گئے ایک پیغام میں اپنے حامیوں سے "ویزا ویب سائٹ پر حملے کے اگلے مرحلے کیلئے اپنے اپنے 'ہتھیار' تیار رکھنے کا کہا گیا ہے"۔

وکی لیکس کی جانب سے امریکہ کی خفیہ سفارتی دستاویزات کے اجراء کے بعد پیدا ہونے والے سیاسی دباؤ کے باعث ویزا اور ماسٹر کریڈٹ کارڈز کی جانب سے ویب سائٹ کو بھیجے جانے والے عطیات کی پروسسنگ معطل کردی گئی تھی۔ فنڈز کی فراہمی معطل ہونے کے باعث ویب سائٹ کے منتظمین کو اپنا کام جاری رکھنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

تاہم ویب سائٹ کی جانب سے خفیہ سفارتی کیبلز کی اشاعت کا عمل اب بھی جاری ہے۔ بدھ کے روز جاری کی گئی نئی دستاویزات کے مطابق فروری2010ءمیں امریکی انتظامیہ نے ویزا اور ماسٹر کارڈ کمپنیوں کے کاروبار کو ایک مجوزہ روسی قانون کی زد میں آنے سے بچانے کی خاطر روسی حکام سے مذاکرات کیے تھے۔

اطلاعات کے مطابق تاحال وکی لیکس کی ویب سائٹ کو انٹرینٹ پر موجود 1000 کے لگ بھگ مرر سائٹس سے منسلک کردیا گیا ہے تاکہ وکی لیکس کے کسی پابندی کی زد میں آنے کی صورت میں خفیہ دستاویزات کے اجراء کا عمل جاری رکھا جاسکے۔

XS
SM
MD
LG