رسائی کے لنکس

وکی لیکس کے انکشافات اور پاکستانی قوم کی ذمہ داری


وکی لیکس کے انکشافات اور پاکستانی قوم کی ذمہ داری

وکی لیکس کے انکشافات اور پاکستانی قوم کی ذمہ داری

وکی لیکس کے انکشافات کے بعد گزشتہ روز امریکی وزیر خارجہ ہلری کلنٹن نے پاکستانی صدرآصف زرداری کو فون کیا ، جس میں انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان اور امریکہ تعلقات اس ویب سائٹ کے انکشافات سے متاثر نہیں ہونگے۔ لیکن پاکستانی مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستانی سیاستدانوں کے امریکہ پر حد سے زیادہ انحصار اور پاکستان پر فوج کے کنٹرول کے حوالے سے سامنے آنے والے انکشافات پاکستانی قوم کو اپنے ملک کی سیاست اور سلامتی کے معاملات کو ایک نئے تناظر میں دیکھنے کا موقعہ فراہم کر رہے ہیں۔

معروف پاکستانی صحافی اور تجزیہ کار زاہد حسین کا کہناتھاکہ وکی لیکس کے انکشافات میں زیادہ تر باتیں پاکستانیوں کے لیے نئی نہیں ہیں، تاہم ان کی اشاعت سے ان کے ذہنوں میں موجود شبہات اور خدشات کو مزید تقویت ملی ہے اور اب انہیں اس مسئلے کا سامنا ہے کہ وہ اپنے راہنماؤں میں سے کس پر اعتماد کریں ۔

سابق صدر پرویز مشرف کے ساتھی اور تجزیہ کار ڈاکٹر نسیم اشرف کا کہناتھا کہ وکی پیڈیا میں سابق صدر سے منسوب چیزیں غلط ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پرویز مشرف نے کبھی بھی عراق میں فوج بھیجنے کی پیش کش نہیں کی تھی اور نہ ہی انہوں نے صدر آصف زرداری کے ساتھ کسی معاہدے کے تحت اقتدار چھوڑا۔ اس بارے میں شائع شدہ مواد امریکی سفیر کا اپنا تجزیہ ہے۔

ڈاکٹر نسیم اشرف کا کہناتھاکہ پاکستان تب بھی اور اب بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کا اتحادی ہے اور اس صورت حال کے اندر رونما ہونے والی چیزوں کو ایک بڑے کینوس میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔

دونوں تجزیہ کاروں کا کہناتھا کہ ان انکشافات کے بعد اب یہ پاکستانی قوم کی ذمہ داری ہے کہ وہ صورت حال کا جائزہ لیں اور ایسے اقدامات کے بارے میں سوچیں جن سے مستقبل میں اس طرح کے واقعات کو روکنے میں مدد مل سکے۔

XS
SM
MD
LG