رسائی کے لنکس

وکی لیکس پر خفیہ دستاویزات کی اشاعت سے درپیش خطرات

  • گیری تھامس

وکی لیکس پر خفیہ دستاویزات کی اشاعت سے درپیش خطرات

وکی لیکس پر خفیہ دستاویزات کی اشاعت سے درپیش خطرات

وکی لیکس کی طرف سے افغانستان کی جنگ کے بارے میں امریکی فوج کے ہزاروں خفیہ کاغذات افشا کیے جانے کے بعد امریکہ میں زبردست بحث چھڑ گئی ہے۔ امریکی عہدے داروں نے کہا ہے کہ اس طرح انہیں معلومات فراہم کرنے والے لوگ خطرے میں پڑ گئے ہیں۔ لیکن یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ معلومات کے ذرائع کے اصل نام ان کاغذات میں موجود ہی کیوں تھے جو پینٹا گان کے خفیہ کمپیوٹر نیٹ ورک کے ذریعے وسیع پیمانے پر تقسیم کیے جاتے ہیں۔

وکی لیکس ویب سائٹ پر شائع ہونے والی نوے ہزار دستاویزات میں ان افغان باشندوں کے نام موجود ہیں جنھوں نے کسی نہ کسی شکل میں امریکی فوجوں کو اطلاعات فراہم کی تھیں۔ اس ہفتے ’’اے بی سی‘‘ ٹیلیویژن کے پروگرام ’’This Week‘‘ میں وزیرِ دفاع رابرٹ گیٹس نے کہا کہ خفیہ دستاویزات کے افشا ہونے سے ان افغان باشندوں نیز ان امریکی سپاہیوں کے لیے خطرہ پیدا ہو گیا ہے جن کی مدد کی گئی تھی’’

میں سمجھتا ہوں کہ ان معلومات سے افغانستان میں ہماری مدد کرنے والے خطرے میں پڑ گئے ہیں۔ ہمارے سپاہیوں کے لیے خطرہ پیدا ہو گیا ہے کیوں کہ طالبان اورہمارے مخالفین ان کاغذات سے ہمارے طریقوں اور ہماری جنگی چالوں کے بارے میں بہت کچھ معلوم کر سکتے ہیں۔ آپ جانتے ہیں کہ انٹیلی جنس کے کام میں اپنےذرائع کی حفاظت کرنا ایک مقدس فریضہ ہوتا ہے‘‘۔

لیکن انٹیلی جنس کے بعض ماہرین پوچھ رہے ہیں کہ ان ذرائع کے ناموں کی بہتر طریقے سے حفاظت کیوں نہیں کی گئی تھی۔ جن کاغذات میں اطلاعات فراہم کرنے والوں کے نام تھے ان پرسیکرٹ یا خفیہ کا نشان لگا ہوا تھا جو درمیانے درجے کی سکیورٹی کی درجہ بندی ہے۔ پھر یہ کاغذات پینٹا گان کے خفیہ کمپیوٹر نیٹ ورک کے ذریعے جسے سِپرنیٹ کہا جاتا ہے بڑے پیمانے پر تقسیم کیے جاتے تھے۔ سِپرنیٹ ایک قسم کی خفیہ انٹرنیٹ سائٹ ہے جو ایک تجزیہ کار کے مطابق اس مقصد کے تحت قائم کی گئی تھی کہ دفاع اور انٹیلی جنس کمیونٹیوں کے درمیان معلومات کا زیادہ وسیع تبادلہ کیا جا سکے۔

سرکاری عہدے داروں کا خیال ہے کہ یہ خفیہ کاغذات اسی طرح ان لوگوں کے ہاتھ لگ گئے جنھوں نے انہیں وکی لیکس تک پہنچا دیا۔ سی آئی اے کے سابق ڈائریکٹر مائیکل ہیڈین نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہمارے ذرائع کی اصل شناخت اب ہزاروں لوگوں کو دستیاب ہے’’عام طور سے کیوں کہ سِپرنیٹ اتنے وسیع پیمانے پر دستیاب ہے جو اس کی خصوصیت ہے، ہم گذشتہ ایک عشرے سے زیادہ عرصے سے اس طریقے سے لوگوں کو معلومات فراہم کرتے رہے ہیں۔ خیال تو یہی ہے کہ اس میں ذرائع کے شناخت کی معلومات کی پوری طرح حفاظت کی جانی چاہیئے‘‘۔

انٹیلی جنس کے ذرائع کی شناخت کو انتہائی خفیہ رکھا جاتا ہے، بلکہ انٹیلی جنس کے عملے کے لوگوں تک سے انہیں بچایا جاتا ہے۔ عام طور سے ذرائع کے نام ان کاغذات سے حذف کر دیے جاتے ہیں۔ محکمہ دفاع کے ایک عہدے دار سے جب یہ پوچھا گیا کہ ان کاغذات سے یہ نام کیوں حذف نہیں کیے گئے تھے تو انھوں نے کہا کہ میدانِ جنگ کے بارے میں مقامی سطح پر اکٹھی کی ہوئی انٹیلی جنس سے یہ تمام معلومات حذف نہیں کی جاتیں۔

پینٹا گان کے ایک ترجمان کہتے ہیں کہ وزیر دفاع گیٹس نے ذرائع کو افشا کرنے سے پیدا ہونے والے خطرات کو تسلیم کیا ہے اور افغانستان میں تعینات فوجوں کے لیے سیکورٹی کے طریقوں پر نظر ثانی کی ضرورت پرزور دیا ہے۔ لیکن وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ میدان جنگ میں تعینات فوجوں کے پاس زیادہ سے زیادہ معلومات ہوں۔

وکی لیکس پر خفیہ دستاویزات کی اشاعت سے درپیش خطرات

وکی لیکس پر خفیہ دستاویزات کی اشاعت سے درپیش خطرات

سی آئی اے کے سابق ڈائریکٹر ہیڈین نے اس بات پر زور دیا کہ پینٹا گان کے قواعد و ضوابط سی آئی اے سے مختلف ہو سکتے ہیں۔ لیکن وہ کہتے ہیں کہ انٹیلی جنس کے ذرائع کی سکیورٹی کی ضرورت اور دوسری طرف فراہم کردہ معلومات کو تجزیہ کاروں کو مہیا کرنے کے درمیان توازن قائم رکھنا آسان کام نہیں ہے’’میں یہ نہیں کہہ رہا ہوں کہ ذرائع کی شناخت کی معلومات کو بڑے پیمانے پر تقسیم کیا جائے۔ لیکن اکثر ہوتا یہ ہے کہ تجزیہ کار معلومات کی اہمیت اور ان کی سنگینی کو سمجھنے کے لیے یہ جاننا چاہتے ہیں کہ اس اطلاع کا ذریعہ کیا ہے۔ تو یہ بڑی مشکل صورتِ حال ہے۔ تجزیہ کار کو اپنا کام کرنے کے لیے پوری اطلاعات ملنی چاہئیں لیکن اتنی معلومات نہیں کہ اگر وہ افشا ہو جائیں تو کچھ لوگوں کے لیے خطرات پیدا ہو جائیں‘‘۔

انٹیلی جنس کی پرائیویٹ فرم سٹارفار کے سکاٹ سٹیوارٹ کہتے ہیں کہ بہت سی رپورٹوں میں ناموں کی موجودگی پر کسی کو حیرت نہیں ہونی چاہیئے ’’ظاہر ہے کہ اچھا تو یہ ہوتا کہ ان رپورٹوں میں سے ان تمام لوگوں کے نام مٹا دیے جاتے۔ اور شاید انہیں خیال ہی نہیں آیا کہ نام لکھے ہونے سے ان لوگوں کی زندگی کے لیے خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔ تا ہم میں نے اب تک جو کچھ دیکھا ہے، جن لوگوں سے ملتے جلتے دکھایا گیا ہے، ان میں سے بیشتر وہی ہیں جن سے آپ عام حالات میں ضرور ملتے، یعنی جیسے سرکاری حکام، گاؤں کے مکھیا، اور اسی قسم کے لوگ‘‘۔

طالبان نے کہا ہے کہ وہ وکی لیکس کہ دستاویزات کی جانچ کر رہے ہیں تا کہ جن مخبروں نے امریکی فوجوں کی مدد کی ہے ان کی نشاندہی کریں اور ان کو راستے سے ہٹانے کا بندوبست کر سکیں۔

XS
SM
MD
LG